سوال
اے آر وائی گولڈ کی جو سکیم چل رہی ہے؟اس کا حکمِ شرعی بیان کر دیں !
اس کی تفصیل درج ذیل ہے ۔
1:۔مہنگائی کے اس دور میں سونا خریدنا مشکل ہو گیا ہے، لیکن ARY سونا کمیٹی ایک ایسا طریقہ فراہم کرتی ہے جس سے لوگ آسانی سے تھوڑی تھوڑی رقم سے سونا خرید سکتے ہیں۔
2:۔پاکستان میں پہلی اور واحد کمیٹی جس کے ذریعے آپ اپنی سیونگ 24 قیراط سونا میں جمع کر سکتے ہیں۔
3:۔ سونا کمیٹی کم سے کم 50000 روپے اور زیادہ سے زیادہ رقم یا مدت کے لیے ڈالی جا سکتی ہے ۔
4:۔کمیٹی مکمل ہونے پر 24 کیرٹ خالص سونا کمیٹی ہولڈر کو فراہم کیا جائے گا۔
5:۔ رقم ، 24 قیراط سونے میں تبدیل ہونے کی اطلاع بذریعہ sms دی جائے گی۔
6:۔ ماہانہ خریداری کی کم از کم رقم 1000 روپے ہے۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں اس سونا کمیٹی کی اجمالی فقہی تکییف درج ذیل ہے ۔
اولاً :یہ معاملہ دونوں فریقین کے مابین بیع و شرا کا ہے ۔
ثانیاً :بیع ہو جانے کے بعد خرید کنندہ کا سونا اس کی مرضی سے بائع کے پاس رہے گا ۔
عقود میں اصل اعتبار معانی کا ہے اور یہاں’’مبالۃ المال بالمال ‘‘ہو رہا ہے وہ یوں کے روپوں کے عوض سونا خریدا جا رہا ہے سو اس کے احکام ،بیع پر ہی متفرع ہوں گے۔پھر اس بیع پر بیع مطلق کے احکام جاری ہوں گے بیع صرف کے نہیں اس لیے کہ بیع الصرف میں ثمن حقیقی کو ثمن حقیقی کے عوض خریدا بیچا جاتا ہے جبکہ کرنسی نوٹ ثمن حقیقی نہیں بلکہ ثمن عرفی یا اصطلاحی ہے اور ثمنِ حقیقی کی بیع ثمن ِ اصطلاحی سے بیع صرف نہیں بلکہ بیع مطلق کہلاتی ہے۔سونا / چاندی موزونی اور کرنسی نوٹ عددی ہے ، ان کے خرید و فروخت کی دونوں صورتیں ( نقدو ادھار ) جائز ہیں اوراس میں کمی بیشی بھی جائز ہے مثلاً اگر ایک تولہ سونا کی بازاری قیمت ایک لاکھ ستر ہزار روپوں کے برابر ہو تو عاقدین باہمی رضا مندی سے کمی و زیادتی کے ساتھ عقد کر سکتے ہیں۔
مبسوط سرخسی میں ہے: وبیع الفلوس بالدراھم لیس بصرف۔ترجمہ : فلوس کی دراہم کے عوض بیع بیع صرف نہیں ۔(المبسوط للسرخسی، جلد14،صفحه 24-25، دار المعرفہ، بیروت)
ہدایہ میں ہے:وَإِذَا عُدِمَ الْوَصْفَانِ الْجِنْسُ وَالْمَعْنَى الْمَضْمُومُ إلَيْهِ حَلَّ التَّفَاضُلُ وَالنَّسَاءُ) لِعَدَمِ الْعِلَّةِ الْمُحَرِّمَةِ وَالْأَصْلُ فِيهِ الْإِبَاحَةُ. وَإِذَا وُجِدَا. حَرُمَ التَّفَاضُلُ وَالنَّسَاءُ لِوُجُودِ الْعِلَّةِ. وَإِذَا وُجِدَ أَحَدُهُمَا وَعُدِمَ الْآخَرُ حَلَّ التَّفَاضُلُ وَحَرُمَ النَّسَاءُ مِثْلَ أَنْ يُسَلِّمَ هَرَوِيًّا فِي هَرَوِيٍّ أَوْ حِنْطَةً فِي شَعِيرٍ"ترجمہ: جب سودکی دو علتیں جنس اورقدرنہ پائی جائیں توکمی بیشی اورادھاردونوں حلال ہیں اس لئے کہ اس میں حرمت کی کوئی علت نہ پائی گئی لہٰذا یہ اپنی اصل پرباقی رہے گی کہ اصل میں مباح ہوناہے اورجب دونوں علتیں پائی جائیں تو کمی بیشی اور ادھار دونوں ناجائز کیونکہ اس میں دونوں علت حرمت پائی گئیں اور جب ایک علت پائی جائے اوردوسری نہ پائی جائے توکمی بیشی حلال اور ادھار حرام ہوگامثلاًایک ہروی( ہرات کے بنے ہوئے)کپڑے کودوسرے سے یاگندم کوجوکے بدلے میں بیع۔(الہدایۃ،باب الربا،جلد3،صفحہ61،دار احیاء التراث العربی)
لیکن روپوں کی سونے کے عوض بیع میں ایک جانب تعین ضروری ہے ،روپے تو علی العموم عقدِ معاوضہ میں متعین کرنے سے متعین نہیں ہوتے جبکہ سونا بعض صورتوں میں متعین ہو جاتا ہے اور بعض میں نہیں ہوتا ۔
عدم ِتعین کی صورت :
1:۔سونا،چاندی مطلق ہوں یوں کہ انہیں پگھلا کر کوئی صورت(جیسے زیورات ومصنوعات وغیرہ)نہ دی جائے اور نہ ہی مجلسِ عقد میں سونا پر قبضہ ہو ۔
تعین کی صورت:
سونے چاندی کی مخصوص صورت کی بیع جیسےسونا چاندی کے زیورات و مصنوعات کی بیع یا پھر سونے کی غیر مصنوعی صورت پر قبضہ کہ مجلسِ عقد میں قبضہ سے بھی تعین ہو جاتا ہے۔
پہلی صورت کا حکم
اس کی خرید و فروخت میں دونوں(روپوں اور سونا چاندی میں) سے کسی ایک پر مجلس ِ عقد میں قبضہ ضروری ہے۔ورنہ یہ بیع باطل ہو جائے گی۔
علت:
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ” أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم نھی عن بیع الکالئ بالکالئ“ترجمہ: نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نےدَین کی دَین کےبدلے بیع سے منع کیا ہے ۔(سنن دارقطنی،کتاب البیوع، جلد4، صفحہ40، مؤسسۃ الرسالہ ، بیروت)
اور اس صورت میں دین کی دین کے عوض بیع لازم آ رہی ہے۔وہ یوں کہ :جس طرح مطلق سونا چاندی متعین کرنے سے متعین نہیں ہوتے اسی طرح کرنسی نوٹ بھی(عقد معاضہ میں ) متعین کرنے سے متعین نہیں ہوتے تو اگر مجلسِ عقد میں کسی ایک جانب سے بھی قبضہ نہ ہوا تو عدم تعین کی وجہ سے دونوں دین (یعنی ذمہ پر لازم)ہوں گے اور نبی علیہ الصلاۃ والسلام نےاس(دین کی دین کے عوض بیع) سے منع فرما دیا لہذا جب تک عاقدین جدا ہونے سے پہلے کسی ایک چیز پر قبضہ کرکے متعین نہیں کر دیتے تب تک یہ عقد جائز نہیں ہو گا ۔
شمس الائمہ امام سرخسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں:”وإذا اشتری الرجل فلوسا بدراھم ونقد الثمن، ولم تکن الفلوس عند البائع فالبیع جائز، لأن الفلوس الرائجۃ ثمن کالنقود.....وبیع الفلوس بالدراھم لیس بصرف، وکذلک لو افترقا بعد قبض الفلوس قبل قبض الدراھم، ...... فالفلوس الرائجۃ بمنزلۃ الأثمان، لاصطلاح الناس علی کونھا ثمنا للأشیاء فإنما یتعلق العقد بالقدر المسمی منھا فی الذمۃ، ویکون ثمنا، عین أو لم یعین کما فی الدراھم والدنانیر، وإن لم یتقابضا حتی افترقا بطل العقد، لأنہ دین بدین، والدین بالدین لا یکون عقدا بعد الافتراق...... ترجمہ: اگر کسی نے دراہم کے بدلے میں سکے خریدے اور ثمن ادا کر دیا جبکہ فروخت کنندہ کے پاس سکے موجود نہیں تو یہ بیع جائز ہےکیونکہ رائج الوقت سکے سونے چاندی کی طرح ثمن ہوتے ہیں اور سکوں کی دراہم کے بدلے میں بیع صرف نہیں ہوتی ۔اور اسی طرح اگر عاقدین یوں جدا ہوئے کہ سکوں پر قبضہ ہوگیا تھا، لیکن دراہم پر نہیں ہوا تھا، تب بھی بیع درست ہے کیونکہ مروجہ فلوس اثمان کے قائم مقام ہیں کہ لوگوں کی اصطلاح میں یہ اشیاء کا ثمن ہوتے ہیں، لہٰذا ان کی بیان کردہ مقدار پر جو عقد وارد ہوا ،اس کا تعلق ذمہ سے ہوگا اور یہ معین کیے گئے ہوں یا نہ کیے گئے ہوں دونوں صورتوں میں ہی ثمن ہوتے ہیں ،دراہم و دنانیر کی طرح۔ اور اس مسئلے میں اگر دونوں طرف سے قبضہ نہ ہوا، یوں ہی جدا ہوگئے، تو یہ عقد باطل ہو جائے گا ،کیونکہ یہ دَین کی دَین کے عوض (بیع )ہے اوردَین کے بدلے میں دَین (کی بیع )جدائی کے بعد عقد نہیں رہتی ۔(مبسوط للسرخسی، جلد14،صفحه 24-25، دار المعرفہ، بیروت)
دوسری صورت کا حکم
اس میں بیع کے جائز ہونے کے لیے قبضہ ضروری نہیں ۔
وجہ فرق:
یہاں کرنسی نوٹ تو متعین نہیں ہوتے البتہ سونا چاندی جسے مخصوص مصنوعی صورت دی گئی ہو( جیسے زیوارت وغیرہا ) اور بائع نے خریدار کے سامنے ابہام و جہالت بھی دور کر دی ہو تو اب یہ ( بیع الکالی بالکالی) سے نکل کر متعین ہو جائے گا جسے افتراق عن عین بدین سے موسوم کیا جاتا ہے (یعنی ایک طرف معین چیز اور ددوسری طرف دَین ہو)اور اس میں جس مخصوص و متعین سونے (زیور وغیرہ) پر عقد ہوا بعینہ اسی کو دینا لازم ہوجاتا ہے ۔لہذا مجلسِ عقد میں دونوں (سونا چاندی/کرنسی نوٹ)پر قبضہ ضروری نہیں اس کے بغیر بھی جائز ہے۔
شمس الائمہ امام سرخسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں:” وإن اشترى خاتم فضة أو خاتم ذهب فيه فص، أو ليس فيه فص بكذا فلسا، وليست الفلوس عنده فهو جائز إن تقابضا قبل التفرق أو لم يتقابضا، لأن هذا بيع، وليس بصرف فإنما افترقا عن عين بدين؛ لأن الخاتم يتعين بالتعين بخلاف ما سبق فإن الدراهم والدنانير لا تتعين بالتعيين؛ فلهذا شرط هناك قبض أحد البدلين في المجلس، ولم يشترط هناترجمہ: اور اگر کسی نےچاندی کی یا سونے کی انگوٹھی نگ والی یا نگ کے بغیر سکوں کی مخصوص مقدار کے بدلےخریدی ،لیکن سکے اس کے پاس نہیں ، تو یہ بیع جائز ہے ،جدا ہونے سے پہلے دونوں قبضہ کر لیں یا نہ کریں ،کیونکہ یہ بیع (مطلق) ہے، بیع صرف نہیں اور یہ افتراق عن عین بدین ہے (یعنی ایک طرف معین چیز اور ددوسری طرف دَین ہے) اس لیے کہ انگوٹھی متعین کرنے سے متعین ہو جاتی ہے، بخلاف پہلے مسئلے کے کہ( وہاں دراہم و دنانیر تھے اور ) دراہم و دنانیر معین کرنے سے بھی معین نہیں ہوتے،لہٰذا وہاں مجلس میں ایک طرف سے قبضہ شرط قرار دیا گیا ہے اور یہاں یہ شرط نہیں ۔(مبسوط للسرخسی، جلد14،صفحه 24-25، دار المعرفہ، بیروت)
محیط برہانی میں ہے :”ولو باع تبر فضة بعینہ بفلوس بغير أعيانها وتفرقا قبل أن يتقابضا فهو جائز، لأن التبر هاهنا بمنزلة العروض، فكأنه باع عرضاً بفلوس بغير أعيانها، وهناك لا يشترط التقابض كذا هاهنا “ترجمہ: اور اگر چاندی کا معین ٹکڑا غیر معین سکوں کے بدلے فروخت کیا اور دونوں طرف سے قبضہ نہیں ہوا کہ دونوں جدا ہوگئے، تو یہ جائز ہے، کیونکہ چاندی کا ٹکڑا یہاں سامان کے قائم مقام ہے، تو گویا اس نے سامان غیر معین سکوں کے بدلے فروخت کیا اور یہاں پر عاقدین کا تقابض بھی شرط نہیں ۔(محیط برھانی،کتاب الصرف،الفصل الثانی، جلد 10، صفحہ412، ادارۃ القرآن و العلوم الاسلامیہ)
البحر الرائق ، فتح القدیروغیرہ میں ہے: ”المصوغ بسبب ما اتصل به من الصنعة لم يبق ثمنا صريحا، ولهذا يتعين في العقد“سونے چاندی کی ڈھالی ہوئی اشیاء میں جس کے ساتھ کاریگری مل جائے ، تو اس (کاریگری ) کی وجہ سے یہ ثمن صریح نہیں رہتیں،اسی وجہ سے یہ عقد میں متعین ہو جاتی ہیں ۔(بحر الرائق ، جلد5، صفحہ257، دار الکتاب الاسلامی)
بحر میں ہی ہے:”ودخل المصوغ من الذهب والفضة كالآنية تحت القيميات فتتعين بالتعيين للصفة“ترجمہ: سونے چاندی کی ڈھالی ہوئی اشیاء جیسے برتن، یہ قیمی چیزوں کے تحت داخل ہیں، لہٰذا ان کے وصف کی وجہ سے یہ معین کرنے سے معین ہوجاتے ہیں۔(بحر الرائق، جلد5، صفحہ299، دار الکتاب الاسلامی)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:”المصوغ من الججرین ایضا لایثبت دینا فی الذمۃ بل یتعین فی العقود کما تقدم عن البحر۔ترجمہ: چاندی سونے کی گھڑی ہوئی چیز (مثلاً :برتن یا گہنا) یہ بھی ذمہ پر دَین نہیں ہوتے بلکہ عقد میں متعین ہوجاتے ہیں، جیسا کہ بحرالرائق سے گزرا۔ (فتاوی رضویہ، جلد17، صفحہ405، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
درج بالا عبارت کے تناظر میں مانحن فیہ مسئلہ میں تعین تو ہوجاتا ہے وہ یوں کہ مجلس ِعقد میں روپوں پر قبضہ ہو جاتا ہے ،لیکن خریدار کو اس کا سونا فی الفور نہیں ملتا ۔واللہ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمديونس انس القادري
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء:09الرجب المرجب1446 ھ/09جنوری 2025ھ