سوال
ایک کمپنی قسطوں پر سامان دیتی ہے ،لیکن اسکی کچھ شرائط ہیںان شرائط پر سامان لینا شرعا جائز ہے یا نہیں ۔ان میں سے کچھ یہ ہیں:
1: مال انکوائری پوری ہونے کے بعد دیا جائے گا ۔
2:ایگریمنٹ کے وقت بیس فیصدرقم ایڈوانس جمع کروانا ہوگی۔
3:تین ماہ کی قسط نہ ادا کرنے کی صورت میں کمپنی کاانسپیکٹرمال واپس اورضبط کامجازہوگا ۔
4:کمپنی کامال آپکےپاس امانت ہےاس وقت تک نہیں فروخت کرسکتےجب تک کمپنی کی تمام قسطیں ادانہ ہوجائیں۔
5: 15دن کی جانچ پڑتال کےدرمیان اگردرخواست گزاراپنی درخواست واپس لےگاتووہ25000 بطورجرمانہ اداکرنےکاپابندہوگا۔
6: پراپرٹی کےکیس میں25دن کی جانچ پڑتال کےدرمیان اگردرخواست گزاراپنی درخواست واپس لےگاتووہ25 فیصدبطورجرمانہ اداکرنےکاپابند ہوگا۔
7:مال ضبط کرنے کی صورت میں یا تین ماہ ادا نہ کرنے کی صورت میں انکا ایڈوانس اور جمع شدہ رقم واپس نہیں کی جائے گی۔
سائل :محمد انس بمعرفت مولانا ذیشان نعیمی :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مذکورہ بالا شرائط کے ساتھ اقساط میں بیع کرنا ناجائز ہے ، کیوں کہ مذکورہ صورت میں درخواست واپس لینے کی وجہ سے 25000یا 25 فی صد رقم بطور جرمانہ لازم کیا جارہا ہے ، اور صحیح قول کے مطابق مالی جرمانہ عائد کرنا ناجائز ہے ،الدرالمختار مع رد المحتار میں ہے: (لَا بِأَخْذِ مَالٍ فِي الْمَذْهَبِ) بَحْرٌ.ترجمہ:صحیح مذہب میں مالی جرمانہ لینا جائز نہیں ہے۔( الدرالمختار مع رد المحتار باب التعزیر جلد 4 ص 68)
البحرالرائق میں ہے:وَالْحَاصِلُ أَنَّ الْمَذْهَبَ عَدَمُ التَّعْزِيرِ بِأَخْذِ الْمَالِ ترجمہ:اور خلاصہ یہ ہے کہ صحیح مذہب میں مالی جرمانہ سے سزا دینا جائز نہیں ہے۔(البحر الرائق شرح کنزالدقائق فصل فی التعزیرجلد 5 ص44)
اور پھر اس میں یہ بھی شرط ہے کہ تین ماہ کی قسط نہ ادا کرنے کی صورت میں کمپنی کا انسپیکٹر مال واپس اور ضبط کا مجاز ہوگا، اورچند ماہ اقساط کی ادائیگی کے بعد لگاتار تین ماہ ادا نہ کی پھر مال ضبط کرلیا جائے گا اور اس کی ادا کردہ رقم واپس نہیں کی جائے گی اسی طرح اگر وہ ابتدائی تین ماہ قسط کی رقم ادا نہ کرسکا تو انکو ایڈوانس کی مد میں لی گئی بیس فیصد رقم واپس نہیں کی جائے گی تو یہ بھی ناجائز و حرام ہے،یہ لوگوں کے مال کو ناجائز اور باطل طریقے سے کھانا ہے۔قال اللہ تعالٰی وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ ترجمہ کنزالایمان: اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔(البقرۃ:188)
دوسری جگہ ارشاد فرمایا:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا (29) وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ عُدْوَانًا وَظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيهِ نَارًا وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا (30)ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ ،مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضا مندی کا ہو ،اوراپنی جانیں قتل نہ کرو ،بے شک اللہ تم پر مہربان ہے،اورجو ظلم وزیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اُسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ کو آسان ہے۔(النساء:29،30)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح : ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء :15 رمضان المبارک 1440 ھ/21 مئی 2019 ء