Sasur Ki Jaidad Mein Bahu Ka Hissa
سوال
سسر کی جائیداد میں کیا بہو کا حصہ ہوتا ہے ؟
سائل:جاوید اقبال
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
سُسر کی جائیدادمیں اس کی بہو کا کوئی حصہ نہیں بنتا ؛ کیونکہ وراثت کے تین اسباب ہیں :1.قرابت (رشتہ داری )،2.زوجیت ،3.ولاء ۔
ان تین اسباب میں سے کوئی سبب بہو میں نہیں پایا جاتا۔ا لبتہ اگر سُسر اپنی زندگی میں اپنی خوشی سے اسے کچھ ہبہ کرکے قبضہ دے دے یا اس کے حق میں وصیت کر دے تواس بنا پر سُسر کی جائیداد کی مالک بن سکتی ہے۔لیکن وراثت کے طور پر نہیں ۔
وراثت کے متفق علیہ اسباب تین ہیں جیساکہ الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:’’أما أسباب الإرث المتفق عليها فهي ثلاثة: وهي القرابة، والزوجية، والوَلاء‘‘.ترجمہ:وراثت کے تین متفق علیہ اسباب ہیں۔1:قرابت،2:زوجیت،3:ولاء(الفقہ الاسلامی وادلتہ ،جلد 10 ص 377)
اسی طرح الموسوعۃ الفقہیہ میں ہے: أَسْبَابُ الإْرْثِ أَرْبَعَةٌ، ثَلاَثَةٌ مُتَّفَقٌ عَلَيْهَا بَيْنَ الأْئِمَّةِ الأْرْبَعَةِ، وَالرَّابِعُ مُخْتَلَفٌ فِيهِ.فَالثَّلاَثَةُ الْمُتَّفَقُ عَلَيْهَا: النِّكَاحُ، وَالْوَلاَءُ، وَالْقَرَابَةُ،ترجمہ:ائمہ اربعہ کے درمیان وراثت کے متفق علیہ اسباب تین ہیں،ایک مختلف فیہ ہے ۔ متفق علیہ یہ تین ہیں۔1:نکاح ،2: ولاء،3:قرابت(الموسوعۃ الفقہیہ جلد 3 ص 22)
بندہ کی ملکیت کب ثابت ہوتی ہے اس بارے البنایہ شرح ہدایہ میں ہے "وجوه سبب الملك من قبول الهبة والوصية والإرث والشراء۔ترجمہ : ملکیت کے اسباب ،ھبہ ،و صیت قبول کرنااور خریدنا ،اور وراثت ہیں۔( البنایہ شرح الہدایہ كتاب البيوع،فصل في بيان ما يكره في باب البيوع،البيع عند أذان الجمعة،جلد ۸ص۲۱۶،دار الکتب العلمیة)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمدسجاد سلطانی
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:15 محرم الحرام 1447 ھ/01 جولائی2026ء