قانونی رجسٹری دلیل تملیک ہے
    تاریخ: 23 فروری، 2026
    مشاہدات: 2
    حوالہ: 851

    سوال

    ہمارے خاندان میں جائیداد کے ایک معاملے میں شرعی رہنمائی درکار ہے،تفصیل درج ذیل ہے:

    میرے دادا اور دادی دونوں کا انتقال ہو چکا ہے۔ ان کے پانچ بیٹے تھے۔ دادا صاحب نے اپنی زندگی میں اپنے تین بیٹوں کو علیحدہ علیحدہ کاروبار قائم کر کے دیا تھا۔باقی دو بیٹے، یعنی میرے والد مرحوم اور میرے چچا، دادا صاحب کے ساتھ مشترکہ کاروبار میں کام کرتے رہے، جس کا نام Khokhar Electrical & Engineering Works” تھا۔چچا کی شادی کے بعد انہیں ایک فلیٹ لے کر علیحدہ رہائش دے دی گئی، تاہم کاروبار بدستور مشترکہ رہا۔مارچ 2002 میں دادا صاحب نے میرے والد سے فرمایا کہ تمہارے کافی پیسے میرے پاس جمع ہو چکے ہیں، لہٰذا کچھ مزید رقم ملا کر تمہارے نام پر فیز 8 ایکسٹینشن میں 300 گز کا پلاٹ خرید لیتے ہیں۔چنانچہ یہ پلاٹ میرے والد کے نام پر خریدا گیا اور ابتدا ہی سے انہی کے نام رجسٹرڈ ہے۔اس پلاٹ کے تمام واجبات، ٹیکسز اور سرکاری ریکارڈ میرے والد کے نام رہے۔ جب بھی کسی ادائیگی کا معاملہ آیا تو دادا صاحب یہی فرماتے تھے:"یہ تمہاری چیز ہے، تم ہی ادا کرو۔عرض ہے کہ یہ مکالمہ میرے والد مرحوم اور میرے دادا کے درمیان ہوا تھا اور تمام رقم بھی میرے دادا کے اکاؤنٹ سے ادا کی گئی تھی تو ایسی صورت میں ہبہ (gift)کی کیا شرعی حیثیت ہےکیا۔دادا صاحب کا انتقال جون 2020 میں ہوا، جبکہ میرے والد صاحب کا انتقال 4 دسمبر 2025 کو ہوا۔دادا صاحب ڈیفنس میں پلاٹوں کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتے تھے (1983 سے 2005 تک تقریباً 8 پلاٹ خرید و فروخت کیے)، لیکن انہوں نے کسی اور بیٹے یا اپنی اہلیہ کے نام پر بھی کوئی پلاٹ نہیں رکھا۔اس وقت دادا صاحب کے نام پر ایک مکان اور ورکشاپ ہے، جبکہ دادی کے نام پر نارتھ کراچی سیکٹر 11-C میں ایک مکان ہے، جو انہیں ان کے بھائی کی طرف سے بطور تحفہ ملا تھا۔اب میرے چار چچا حضرات کا مطالبہ ہے کہ فیز 8 ایکسٹینشن والا 300 گز کا پلاٹ بھی دادا کی وراثت میں شامل کیا جائے، حالانکہ وہ باقاعدہ طور پر میرے والد کے نام رجسٹرڈ ہے اور DHA بھی اس کی تصدیق کرتی ہے۔ جبکہ ایسا کوئی سوال میرے چچا کو خرید کر دئیے گئے فلیٹ سے متعلق نہیں کیا جا رہا ہے۔جس میں وہ رہائش پذیر ہیں۔کیا شرعاً مذکورہ پلاٹ دادا کی وراثت میں شامل ہوگا؟یا وہ میرے والد مرحوم کی ذاتی ملکیت شمار ہو کر ان کے ورثاء میں تقسیم ہوگا؟براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

    نوٹ :اس پلاٹ پر والد صاحب کوقبضہ اور تصرف بھی دیے دیا۔ سائل: اریب کھوکھر ولد دانش اشرف کھوکھر


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت کا حکم یہ ہے کہ مذکورہ پلاٹ جب آپ کے والد صاحب کے نام رجسٹر کرا دیا گیا اور اس کا مکمل قبضہ اور تصرف بھی انہیں دے دیا گیا، تو اس سے اس پلاٹ میں آپ کے والد صاحب کی ملکیت ثابت ہو گئی، لہٰذا آپ کے چچا حضرات کا اسے دادا کی وراثت میں شامل کرنے کا مطالبہ درست نہیں اور اس میں ان ورثا کا کوئی حق نہیں۔ دادا کا اپنی زندگی میں مکان آپ کے والد کے نام رجسٹر کروانا اور وہ تمام امور سوال میں ذکر کیے گئے کہ (تمام واجبات، ٹیکسز اور سرکاری ریکارڈ میں والد کا نام درج ہونا اور ادائیگی کے وقت دادا کا یہ کہنا کہ ’’یہ تمہاری چیز ہے، تم ہی ادا کرو‘‘، آپ کے والد کا ادا کر دینا) اس بات کی یقینی دلیل ہیں کہ دادا نے وہ پلاٹ آپ کے والد کو ہبہ یعنی گفٹ کر دیا۔ شرعی طور پر ہبہ کے ثابت ہونے کے لیے اتنا کافی ہے۔

    دلائل وجزئیات:

    ہبہ شدہ چیز میں قبضہ ضرورہی ہے اس بارے میں علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’ و شرائط صحتها في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول‘‘ ترجمہ :موہوبہ شیئ میں ہبہ کی صحیح ہونے کی شرائط میں سے یہ ہے کہ مقبوضہ ہو ،مشاع نہ ہو ،جدا ہو مشغول نہ ہو ۔(ردالمحتارعلی الدر المختار،کتاب الهبة،ج:5،ص:688،دارالفکر بیروت)

    قبضہ سے ملکیت ثابت ہو جاتی ہے اس پر علامہ علا ؤ الدین حصکفی ر حمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’ وحكمها ثبوت الملك للموهوب له غير لازم‘‘ترجمہ :ہبہ کا حکم یہ ہے کہ جس کے لیے ہبہ کیا جائے اس کے لیے ملکیت ثابت ہوجاتی ہے لیکن لازم نہیں ہوتی ۔(ردالمحتارعلی الدر المختار،کتاب الهبة،ج:5،ص:688،دارالفکر بیروت)

    قانونی رجسٹری دلیل تملیک ہے، امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) سے سوال ہوا کہ والد نے مکان اپنے بیٹے کے نام اس طور پر کیا کہ قانونی رجسٹری میں اپنا نام خارج کراکر بیٹے کا نام داخل کروایاپھر مکان کے کرایہ ناموں پر بیٹے نے بحیثیت مالک دستخط کئے،اسی طرح دیگر قانونی معاملات میں بھی بیٹے کو مالک ظاہر کیا پھر سولہ سال بعد والد انتقال کرگئے،یہاں بیٹیاں کہتی ہیں کہ والد صاحب نے کسی مصلحت کے تحت یہ مکان بیٹے کے نام رجسٹررڈ کرایا تھا ،جواباً امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’داخل خارج کرا دینا اور وہ کاروائیاں کہ سوال میں مذکور ہیں قطعا دلیل تملیک ہیں، اور ثبوت ہبہ کے لئے کافی ووافی ہیں‘‘۔(فتاوی رضویہ،19جلد:صفحہ:334،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    یہاں غور ہو کہ رجسٹری میں نام درج کروانے اور دیگر تصرفات مالکانہ کو امام اہلسنت نے دلیل تملیک قرار دیا ،اسی سے استفادہ کرتے ہوئے ہم کہتے ہیں کہ جب رجسٹری کے بعد موہوب لہ کو شے موہوب پر مالکانہ تصرف کا حق حاصل ہوجائے اور کوئی مانع بھی نہ ہو تو وہ رجسٹری بے معنی نہ ہوگی بلکہ دلیل تملیک قرار دی جائے گی۔واللہ تعالى اعلم بالصواب