سوال
میری بیٹی کا نام سائرہ محمد ہے ۔عمر 20 سال ہے۔شادی کو ایک سال ہوگیا ہے اسکا شوہر بالکل زیرو تھا، پورا سال دوائی کرائی میری بیٹی نے بہت برداشت کیا کہ صحیح ہوجائے۔لیکن بات وہی رہی شرم سے گھر چھوڑ کے چلا جاتا تھا۔میری بیٹی کی عمر 20 سال ہے مجھے یہ بتائیں کہ میری بیٹی ساری زندگی ایسے ہی بیٹھی رہے گی ۔آج ماں زندہ ہے کل نہ ہوگی تو یہ کیا کرے گی؟ کس کے ساتھ زندگی گزارے گی۔اس میں میری بیٹی کا کیا قصور ہے ؟بیٹی گھر میں بٹھانے کی چیز نہیں کہ ساری زندگی ایسے ہی چھوڑ دیں ۔ اب آپ مجھے بتائیں کہ ہم کیا کریں؟سائل: والدہ سائرہ محمد
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا یعنی آپ کی بیٹی کا شوہر نامرد ہے کہ جماع(صحبت ،ازدواجی تعلقات) پر قادر ہی نہیں ، یعنی اس میں اتنی طاقت بھی نہیں کہ بیوی سے ایک بار ہی جماع کر سکے ،تو حکم شرع یہ ہے کہ عورت قاضی (عدالت، کورٹ)کے پاس جا کر دعویٰ کرے پھر قاضی شوہر سے دریافت کرے گا اگر وہ اپنے نامرد ہونے کا اقرار کرلے تو قاضی ایک سال کی مہلت دے گا کہ وہ اپنا علاج کروالے ، ایک سال علاج کرانے کے بعد اس قابل ہوگیا کہ وہ حق زوجیت ادا کرسکے تو عورت کا دعوی ساقط ہوجائے گا اور وہ اسکے نکاح میں ہی رہے گی لیکن اگر علاج کے باوجود حق زوجیت ادا نہ کرسکا اور عورت اس سے جدائی اور علیحدگی چاہتی ہے تو قاضی شوہر کو حکم دے گا کہ وہ بیوی کو طلاق دے اگر قاضی کے بولنے سے طلاق دے دے تو ٹھیک ورنہ قاضی ان دونوں کے درمیان تفریق کردے گا، اور یہ تفریق طلاق بائن ہوگی،اورایک سال کی مہلت کی ابتداء اس وقت سے ہوگی جب سے قاضی اس معاملہ کا فیصلہ کرے گا اس سے پہلے خواہ کتنے سال گزار لیے ہوں انکا اعتبار نہیں ہے۔
تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے.(وَلَوْ وَجَدَتْهُ عِنِّينًا أُجِّلَ سَنَةً فَإِنْ وَطِئَ) مَرَّةً فَبِهَا (وَإِلَّا بَانَتْ بِالتَّفْرِيقِ) مِنْ الْقَاضِي إنْ أَبَى طَلَاقَهَا (بِطَلَبِهَا) .ترجمہ:اور اگر عورت شوہر کو نامرد پائے تو اسکو ایک سال کی مہلت دی جائے گی پھر اگر ایک سال کی مدت میں جماع پر قادر ہوگیا تو ٹھیک ورنہ(عورت کے تقاضائے طلاق کی وجہ سے طلاق دلوائی جائے گی) اگروہ طلاق دینے سے انکار کردے تو قاضی تفریق کر دے گا۔
اسی میں ہے :’’أَمَّا الطَّلَاقُ فَجَبٌّ عُنَّةٌ وَكَذَا.ترجمہ: بہرحال مجبوب اور عنین (یعنی نامرد ہونے کی وجہ سے قاضی کی تفریق سے ) طلاق (بائن)واقع ہوتی ہے۔
اور جہاں قاضی شرع نہ ہو تو وہاں کا سب سے بڑا سنی صحیح العقیدہ عالم جو مرجع فتاویٰ ہو قاضی شرع ہے۔
چناچہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور انڈیا کی شائع کردہ کتاب ''مجلس شرعی کے فیصلے'' علماء کا یہ فیصلہ محفوظ ہے ۔
1:۔آج کے ہندوستان مین ان معاملات کے فیصلے جن میں مسلمان حاکم(قاضی ہونے ) کی شرط ہے جمہور مسلمانوں کو شرعا یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ کسی عالم باشرع کو اپنا قاضی بنالیں اور ایسے قاضی کا فیصلہ اپنے حدود خاص میں جائز و نافذ ہوگا۔
2:۔ مفقود الخبر، معدومۃ النفقہ ، عنین،مجنون وغیرہا کے مسائل میں از روے شرع مسلمانوں کا مقرر کردہ قاضی عورت کی درخواست پر زن و شوہر کے درمیان تفریق بھی کراسکتا ہے ۔واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدزوہیب رضا قادری
تاريخ اجراء: 08 صفر المظفر 1440 ھ/17اکتوبر 2018 ء