سوال
کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید سات آتھ سالوں سے ہندہ کو خرچہ نہیں دے رہا حالانکہ زید جوان ہے کمانے پر قدرت رکھتا ہے ،ہندہ اور اسکے والدین زید سے کئی مرتبہ خرچہ کا مطالبہ کر چکے ہیں ،اس کے باوجود زید ہندہ کو خرچہ نہیں دیتا،سوال یہ ہے کہ خرچہ نہ دینے کی وجہ سےہندہ زید سےکورٹ سے نکاح فسخ کروانا چاہتی ہے، کیا کورٹ کا فسخ کیا ہوا نکاح شرعاََ فسخ ہے یا نہیں؟سائل: محمد یوسف الحنفی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
استطاعت کے باوجود نان و نفقہ نہ دے ،اور عورت کے پاس نفقہ کا کوئی انتظام نہیں ہےایسی سخت مجبوری میں قاضی یا عدالت کے پاس درخواست دے کر تفریق یعنی فسخِ نکاح کروا سکتی ہے اور جب عدالت کوقرائن و شواہد کی بناء پر ظن غالب ہوجائے تو عدالت نکاح فسخ کر سکتی ہے۔
یاد رہے کہ شریعت نے شوہر پر بیوی کا نفقہ لازم کیا ہے۔قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’لینفق ذو سعۃ من سعتہ و من قدر علیہ رزقہ فلینفق مما ء اتاہ اللہ لا یکلف اللہ نفسا الا مآ ء ا تاھا سیجعل اللہ بعد عسر یسرا۔ ترجمہ : مالدار شخص اپنی وسعت کے لائق خرچ کرے اورجس کی روزی تنگ ہے، وہ اُس میں سے خرچ کرے جو اُسے خدا نے دیا، اﷲ (عزوجل) کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اُتنی ہی جتنی اُسے طاقت دی ہے، قریب ہے کہ اﷲ (عزوجل) سختی کے بعد آسانی پیدا کر دے۔(سورۃ الطلاق آیت7)۔
یونہی ابو داود شریف ، باب فی حق المرأۃ علی زوجھا ،ج 1ص309میں ہے:’’عن جدہ معاویۃ القشیری قال أتیت رسول اللہ ﷺ قال فقلت ما تقول فی نسائنا ؟ قال أطعموھن مما تأکلون و اکسوھن مما تکتسون و لا تضربوھن و لا تقبحوھن.ترجمہ: حضرت معاویہ قشیری کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کےپاس آیا اور عرض کی کہ آپ ہمیں ہماری بیویوں کے بارے میں کیا ارشاد فرماتے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا کہ جو تم کھاتے ہوانہیں بھی کھلاؤ کماتے ہو انہیں اس مال سے کپڑے پہناؤ ،انکو مارپیٹ مت کرو اور برا بھلا مت کہو۔
صحیح مسلم''، کتاب الامارۃ، باب الناس تبع لقریش... إلخ، الحدیث: ۱۸۲۲، ص۱۰۱۳میں ہے کہ حضرت جابر بن سمرہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا:’’إِذَا أَعْطَى اللهُ أَحَدَكُمْ خَيْرًا فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ».ترجمہ: جب خدا کسی کو مال دے تو خود اپنے اور گھر والوں پرخرچ کرے۔
لہذا معلوم ہوا کہ شوہر پر بیوی کو نقفہ دینا واجب ہے۔لہذا اگر قدرت اور استطاعت کے باوجود کوئی نفقہ نہ دے تو بیوی کو حق سے کہ وہ عدالت سے نکاح فسخ کرالے اور جب عدالت کوقرائن و شواہد کی بناء پر ظن غالب ہوجائے تو عدالت نکاح فسخ کر دے۔
مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان تفہیم المسائل جلد 3ص269لکھتے ہیں:'' وہ وجوہ جن کی بناء پر مختلف ائمہ کرام کے مسالک میں قاضئِ مجاز یا جج کے لئے '' فسخِ نکاح'' کی گنجائش نکل سکتی ہے یا ایسی مصیبت زدہ بیوی کے لئے ایسی رخصت ورعایت موجود ہے کہ انتہائی اذیت ناک صورتِ حال سے اسکو نجات مل جائے بشرطیکہ ان شرائط و قرائن کی بنیاد پرقاضی کو ظن غالب یا یقین ہوجائے ، یہ ہیں
(1)شوہر بیوی کو نان و نفقہ نہ دیتا ہو ،ظالمانہ انداز مین بے انتہا مار پیٹ کرتا ہو ،حقوق زوجیت ادا نہ کرتا ہو اور اسے معلق حالت میں روکے رکھنا چاہتا ہو (ایسی صورت میں عدالت فسخ نکاح کرسکتی ہے)۔واللہ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد زوہیب رضا قادری