سوال
میرے بیٹے نے انوسٹر کے ساتھ گاڑیوں کی خرید و فروخت و کرایہ داری کا،کاروبار کیا ۔6 یا 7 سات سے کرتے رہے۔2020 مارچ میں انوسٹرز نے اپنی پوری رقم نکالنے کے لئے کہا جسکی وجہ سے میرے بیٹے کو بہت نقصانات ہوئے اور انکی رقم ادا کرنے کے لئے میرے بیٹے نے کچھ غلط کام کئے اور اس طرح وہ مزید پریشانیوں میں آگیا۔جب لوگ ہمارے پاس آئے تو ہمیں معلوم ہوا ہم سے جو ہوسکتا تھا وہ ہم نے کیا اپنے گھر، بیٹے کی گاڑی، بہو کے زیورات وغیرہ سب بیچ دیئے اور کچھ قرضہ لے کر تقریبا 1کروڑ 75 لاکھ ادا کردئیے۔ لیکن اس کے باوجود اب بھی 1کروڑ 60 لاکھ رہتے ہیں۔جسکی وجہ سے ہم لوگ صبح و شام جیتے مرتے ہیں۔اب ہمارے پاس ماسوائے تن کے کپڑوں کے کچھ بھی نہیں بچا ۔ اب ہمیں شرعی طور پر رہنمائی اوراجازت چاہیے کہ ہم ان حالات میں زکوۃ و صدقہ لے سکتے ہیں یا نہیں؟یاد رہے کہ ہم لوگ اردو اسپیکنگ ، یوسفزئی پٹھان ہیں۔
سائل:سہیل احمد:کراچی ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اللہ تعالیٰ نے مصارف زکوۃ یعنی جن لوگوں کو زکوۃ دی جاسکتی ہے ان کا بیان قرآن مجید میں فرمادیا ہے،جس میں قرضدار بھی شامل ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسٰکِیۡنِ وَ الْعٰمِلِیۡنَ عَلَیۡہَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوۡبُہُمْ وَفِی الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِیۡنَ وَفِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ وَابْنِ السَّبِیۡلِ ؕ فَرِیۡضَۃً مِّنَ اللہِ ؕ وَاللہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ترجمہ: زکوٰۃ تو انہیں لوگوں کے لئے ہے جو محتاج اور نرے نادار اور جو اسے تحصیل کرکے لائیں اور جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی جائے اور گردنیں چھوڑانے میں اور قرضداروں کو اور اللہ کی راہ میں اور مسافر کو یہ ٹھہرایا ہوا ہے اللہ کا اور اللہ علم و حکمت والا ہے ۔(التوبہ:60)
تنویر الابصار میں ہے: وَمَدْيُونٌ لَا يَمْلِكُ نِصَابًا فَاضِلًا عَنْ دَيْنِهِ وَفِي الظَّهِيرِيَّةِ: الدَّفْعُ لِلْمَدْيُونِ أَوْلَى مِنْهُ لِلْفَقِيرِ۔ ترجمہ:اور (زکوۃ کاایک مصرف )قرض دار ہے یعنی اس پر اتنا قرض ہو کہ وہ قرض نکالنے کے بعد وہ نصاب کا مالک نہ رہے ، اور ظہیریہ میں ہے کہ فقیر کو زکوۃ دینے سے بہتر ہے کہ قرضدار کو زکوۃ دے۔( تنویر الابصار کتاب الزکوۃ باب المصرف جلد 3 ص 289)
خلاصہ یہ ہے کہ اگر آپ کے معاملات ایسے ہی ہیں جیسا سوال میں مذکور ہوا تو آپ زکوۃ و صدقہ لے سکتے ہیں ۔ اور ایسا بھی ممکن ہے کہ کوئی شخص آپ کی اجازت سے آپ کی طرف سے زکوۃ ،قرض کی ادائیگی کی مد میں ادا کردے ۔جیسا کہ تنویرالابصار مع الدرالمختار،میں ہے:أَمَّا دَيْنُ الْحَيِّ الْفَقِيرِ فَيَجُوزُ لَوْ بِأَمْرِهِ، وَلَوْ أَذِنَ فَمَاتَ فَإِطْلَاقُ الْكِتَابِ يُفِيدُ عَدَمَ الْجَوَازِ وَهُوَ الْوَجْهُ ۔ ترجمہ:۔حاجت مند شخص کا قرض اسکی اجازت کے ساتھ ادا کرنا جائز ہے،اور اگر وہ اجازت دے دے پھر مر جائے تو کتاب کا اطلاق اس کے عدم جواز کا فائدہ کرتا ہے اور یہی درست ہے۔ (تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الزکوۃ باب المصرف ج3ص 291،292)
خلاصہ یہ ہے کہ آپ خود زکوۃ کی رقم لے کر یا پھر کوئی شخص زکوۃ کی مد میں آپکی اجازت و حکم سے آپکا قرض ادا کرسکتاہے۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:03ربیع الثانی 1442 ھ/19 نومبر 2020 ء