فلیٹ پر زکوۃ کا مسئلہ
    تاریخ: 23 فروری، 2026
    مشاہدات: 16
    حوالہ: 850

    سوال

    (1)میں نے تقریبا 3سال پہلے ایک فلیٹ خریدا تھا رہنے کے لئے اور اس میں مجھے شفٹ ہونا تھا مگر کسی وجہ سے نہ ہوسکا میں اسکی مکمل قیمت ادا کرچکا ہوں اور میں جس فلیٹ میں رہتا ہوں فیملی کے ساتھ اسکو فروخت کرنے کا ارادہ ہے اب آپ یہ بتائیں کہ مجھے زکوۃ کس فلیٹ پر ادا کرنی ہوگی ؟

    (2) آیا فلیٹ فروخت کرنے کے بعد ملنے والی رقم پرزکوۃ ادا کرنی ہوگی یا جب سے خریدا ہے اس وقت سے ادا کرنی ہوگی ؟

    (3)اگر میں رہائش والا فلیٹ کرایہ پر دوں تو کیا کرایہ پر زکوۃ ادا کرنہ ہوگی؟ مکمل تفصیل بتادیں۔

    سائل: محمد علی حسیب


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    (1)آپ نے جو فلیٹ خریدا اور جس میں آپ رہ رہے ہیں ان میں سے کسی پر زکوۃ نہیں ہے ۔ کیونکہ زکوۃ صرف تین قسم کی چیزوں پر ہے۔(١) سونا/چاندی اور اس میں کرنسی بھی داخل ہے (٢) مال تجارت(٣) سائمہ یعنی وہ جانور جو چرائی پر چھوڑ دئے جائیں۔ان کے علاوہ کسی چیز پر ذکوۃ نہیں ہے خواہ ان کی قیمت کتنی ہی کیوں نہ ہو۔

    فتاویٰ ہندیہ کتاب الزکوۃ الباب الاول جلد 1ص192(مطبوعہ قدیمی ) میں ہے:وینقسم الیٰ قسمین خلقی وفعلی فالخلقی الذہب والفضۃ، فتجب الزکوۃ فیہما نوی التجارۃ اولم ینواصلا، والفعلی ما سواہ، ویکون الاستنماء فیہ بنیۃ التجارۃ او الإسامۃ،(ملخصا)ترجمہ: زکوۃ دو طرح کے مالوں میں تقسیم ہوگی ،(١)خلقی (٢) فعلی ،پس خلقی (یعنی جس کی پیدائش ہی بطور مال کے ہو) سونا اور چاندی ہیں، ان میں زکوۃ لازم ہوگی خواہ تجارت کی نیت ہو یاکسی چیز کی بھی نیت نہ کی ہو۔ اور فعلی ان کے علاوہ ہے اور فعلی میں (نصاب کا نامی یعنی اضافہ ہونا ) تجارت یا اسامۃ(جانوروں کو چرائی پر چھوڑنے) کی نیت سے ہوگا۔

    امام احمد رضا خان سے اسی قسم کا سوال کیا گیا آپ جواباََ ارشاد فرماتے ہیں'' مکانات پر زکوۃ نہیں اگرچہ پچاس کروڑ کے ہوں،زکوۃ صرف تین چیزوں پر ہے ، سونا چاندی کیسے ہی ہوں،دوسرے چرائی پر چھوٹے جانور اور تیسرے تجارت کا مال(فتاوی رضویہ کتاب الزکوۃ جلد 10ص161)

    (2)فلیٹ فروخت کرنے کے بعد ملنے والی رقم پر زکوۃ لازم ہے جبکہ وہ رقم نصاب کی مقدار کو پہنچتی ہو اور اس پر سال گزر جائے۔

    (3) اور اگر آپ فلیٹ کرائے پر دے دیں تب بھی اس پر زکوۃ نہیں ہے لیکن اگر ملنے والا کرایا خود یا کسی اور مال کے ساتھ مل کر نصاب کی مقدار کو پہنچ جائے اور اس پر سال گزر جائے تو اب اس پر زکوۃ لازم ہوگی۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان اسی مقام پر کچھ آگے چل کر ارشاد فرماتے ہیں '' کرایہ سے جو سال تمام پر پس انداز ہوگا اس پر ذکوۃ آئے گی، اگر خود یا اور مال سے مل کر قدر نصاب ہو۔''(ایضا)

    واﷲ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی