سوال
ایک مسجدجوتقریباگزشتہ 12سال سےزیر تعمیرہے،اورفنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سےتعمیرات تعطل کا شکار ہیں۔اورجب بھی کسی سےفنڈزکی بات کی توزکوةکی رقم ہی میسرہوئی اس کےعلاوہ کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ اسےمکمل کیاجاسکےتو کیااس صورت میں زکوة کی رقم مسجد میں استعمال کرسکتےہیں یانہیں؟ جواب عنایت فرمادیں۔
سائل:توصیف:متعلم دارالعلوم نعیمیہ کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
زکوۃ کی رقم بلاواسطہ مسجد میں نہیں لگائی جاسکتی۔ کیونکہ زکوۃ کے لئے ضروری ہے کہ زکوۃ کی رقم کا کسی حقدارکو مالک بناکر رقم اسکے قبضے میں دے دی جائے،جب کہ مسجد میں یہ شرط نہیں پائی جاتی لہذا زکوۃ کی رقم بلاواسطہ مسجد اور اسکے امور میں صرف نہیں کی جاسکتی ۔ البتہ اگر شرعی ضرورت متحقق ہوجائے یعنی مسجد کے امور کے لئے رقم کی ضرورت ہے اور باوجود کوشش بسیار کے لوگ دلچسپی نہیں لیتے اور علاوہ زکوۃ کے دیگر مدات سے رقم نہیں دیتے ۔ یا پھر لوگوں کے پاس وسائل ہی نہیں کہ وہ امور مسجد میں رقم دیں تو اس ضرورت شدیدہ کی وجہ سے زکوۃ کی رقم مسجد میں حیلہ کرکے لگانے کی اجازت ہے۔ سوال میں مذکور صورت ضرورت کے ضمن میں داخل ہے لہذا مذکورہ مسجد پر زکوۃ کی رقم بطورِ حیلہ لگائی جاسکتی ہے۔لیکن یاد رہے اگر شرعی ضرورت متحقق نہ ہو اور پھر حیلہ کیا جائے تو یہ ناجائز و حرام ہے۔اور دینے والے کی زکوۃ ادا نہ ہوگی۔حیلہ کا طریقہ یہ ہے کہ مسئلہ سے واقف شخص کو وہ مطلوبہ رقم زکوٰۃ کی نیت سے دے۔ پھر وہ شخص مسجد و ہی رقم زکوٰۃ دینے والے کو یا کسی دوسرے شخص کو یہ کہہ کر واپس کردے کہ آپ اسے مسجد پر صرف کر دیں یا وہ شخص خود مسجد پر وہ رقم خرچ کر دے۔
مسجد پر زکوۃ کی رقم صرف نہیں کی جاسکتی ، اس بارے میں در مختار میں ہے: (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه)۔ ترجمہ:زکوۃ مسجد کی تعمیر اور میت کو کفن اور قرض کی ادائیگی میں خرچ نہیں کیا جائے گا۔(تنویرالابصار مع الدرالمختار ، کتاب الزکوۃ ، باب مصرف الزکوۃ جلد 3 ص 343)
اسی میں ہے:وَیُشْتَرَطُ أَنْ یَکُونَ الصَّرْفُ (تَمْلِیکًا) لَا إبَاحَۃً کَمَا مَرَّترجمہ: اور زکوۃ میں مالک بنانا شرط ہے ،اباحت (استفادہ کی اجازت دینا) کافی نہیں ہے جیسا کہ گزرا۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار باب مصرف الزکوۃ جلد 2ص344)
حیلہ سے متعلق فتاوٰی ہندیہ میں ہے: وَالْحِیلَۃُ أَنْ یَتَصَدَّقَ بِمِقْدَارِ زَکَاتِہِ) عَلَی فَقِیرٍ، ثُمَّ یَأْمُرَہُ بَعْدَ ذَلِکَ بِالصَّرْفِ إلَی ہَذِہِ الْوُجُوہِ فَیَکُونَ لِلْمُتَصَدِّقِ ثَوَابُ الصَّدَقَۃِ وَلِذَلِکَ الْفَقِیرِ ثَوَابُ بِنَاء ِ الْمَسْجِدِ وَالْقَنْطَرَۃِ ترجمہ: اور اس کا حیلہ یہ ہے کہ زکوٰۃ کی مقدار کسی فقیر پر صرف کرے، پھر اسے اِن وجوہ پر خرچ کرنے کو کہے، اس طرح صدقہ کرنے والے کو صدقہ کا ثواب اور اس فقیر کو تعمیرِ مسجد اور تعمیرِ پُل کا ثواب حاصل ہوجائے گا۔( فتاوی عالمگیریہ کتاب الحیل لفصل الثالث فی مسائل الزکوۃ جلد 6ص445)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 05 شوال المکرم 1441 ھ/28 مئی 2020 ء