سوال
گل پلازہ حادثہ میں جو مسلمان جل کر انتقال کر گئے ان کے غسل ،تدفین اور نمازجناہ پڑھنے کا کیا حکم ہے ۔سائل :عبداللہ : کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
گل پلازہ حادثے میں جَل کر انتقال کر جانے والے مسلمان شرعاً شہیدِ حکمی ہیں۔ شہیدِ حکمی کو شہادت کا ثواب تو حاصل ہوتا ہے، لیکن شہیدِ حقیقی کے وہ احکام اس پر جاری نہیں ہوتے جو میدانِ جہاد میں شہید ہونے والے کے ساتھ خاص ہیں۔لہٰذا شہیدِ حکمی کو غسل ،کفن دیا جائے گا، اور اس کی نمازِ جنازہ بھی ادا کی جائے گی، بالکل اسی طرح جیسے طبعی طور پرانتقال کرنے والے کسی مسلمان کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
گل پلازہ کے حادثے میں جَل کر انتقال کرنے والے مسلمانوں کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں :بعض کی لاشیں مکمل حالت میں ملیں،بعض کی لاشیں بالکل نہیں ملیں،بعض کی صرف ہڈیاں ملیں۔
ان تمام صورتوں کاغسل و کفن اور جنازہ کے بارے حکم درج ذیل ہے:
1: اگر کسی مسلمان کا جسم زیادہ تر جل چکا ہو، لیکن پورا جسم موجود ہو، تو اسے عام میت کی طرح کفن دیا جائے گا اور نمازِ جنازہ بھی پڑھی جائے گی۔البتہ غسل کے بارے میں درج ذیل تفصیل ہے:اگر عام طریقے سے غسل دینا ممکن ہویعنی پانی بہانے یا ہاتھ پھیرنے سے جسم کو کوئی نقصان نہ پہنچتا ہو، نہ کھال اترتی ہو اور نہ جسم کے ٹکڑے ہوتے ہوں، تو ایسی صورت میں عام میت کی طرح مکمل غسل دیا جائے گا۔اگر ہاتھ پھیرنے سے نقصان پہنچتا ہوتو صرف پانی بہا یا جائے ۔اگر پانی بہانے سے بھی نقصان پہنچتا ہوتو اب میت کو تیمم کروا دیا جائے۔اگر تیمم کرانا بھی ممکن نہ ہواور جسم پر پٹیاں یا زخم وغیرہ ہوں، تو ان کے اوپر سے گیلے ہاتھوں سے مسح کر دیا جائے۔اگر گیلے ہاتھوں سے مسح کرنا بھی ممکن نہ ہوتو ایسی صورت میں اس میت سے غسل ساقط ہے لہذا اب بلاغسل ہی جنازہ ادا کیا جائےگا۔
2: اگر میت کا پورا جسم موجود نہ ہو، تو اس کی درج ذیل صورتیں ہیں:
اگر جسم کا اکثر حصہ موجود ہو،تو غسل بھی دیا جائے گا اور نمازِ جنازہ بھی پڑھا جائے گا۔اگر آدھا جسم سَر سمیت موجود ہوتو غسل دیا جائے گا اور نمازِ جنازہ بھی پڑھی جائے گی ۔اگر آدھے سے کم جسم موجود ہویا آدھا جسم ہو لیکن سَر موجود نہ ہو،تو ایسی میت کو بغیر غسل اور بغیر نمازِ جنازہ کے دفن کر دیا جائے گا۔ اگر میت کی صرف ہڈیاں ملی ہوں،تو ان ہڈیوں کو بغیر غسل اور بغیر کفن،محض کسی کپڑے میں لپیٹ کر دفن کر دیا جائے گا۔ ہاں ، ان مرحومین کے لیے ایصالِ ثواب کیا جا سکتا ہے۔اور اس المناک سانحے میں جتنے مسلمان شہید ہوئے، اگر ان میں سے کسی پر کسی کا قرض ہو تو قرض خواہ حضرات کے لیے یہ نہایت باعثِ اجر ہے کہ وہ اسے معاف کر دیں۔
دلائل و جزئیات:
جَل کرانتقال کرجانے والا مسلمان شہید حکمی ہے اس بارے سنن ابو داؤد میں ہے :’’ ، وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهَادَةَ؟» قَالُوا: الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «الشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَى الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ: الْمَطْعُونُ شَهِيدٌ، وَالْغَرِقُ شَهِيدٌ، وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ، وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ، وَصَاحِبُ الْحَرِيقِ شَهِيدٌ، وَالَّذِي يَمُوتُ تَحْتَ الْهَدْمِ شَهِيدٌ، وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهِيدٌ. ترجمہ : تم شہادت کسے کہتے ہو ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اﷲ عزّوجلّ کی راہ میں قتل کیے جانے کو۔ تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اﷲعزوجل کی راہ میں قتل کیے جانے کے علاوہ بھی سات شہادتیں ہیں: طاعون میں مبتلا ہو کر مرنے والا شہید ہے ،ڈوب کر مرنے والا شہید ہے ، ذات ا لجنب (بیماری کانام) میں مرنے والا شہید ہے جو پیٹ کی بیماری میں مبتلا ہوکر مرے شہید ہے ،جو جل کر مرے شہید ہے ،جو کسی کے نیچے دب کر مرے شہید ہے ،اور جو عورت بچے کی ولادت میں مرے شہید ہے۔( سنن ابی داؤد، باب في فضل من مات في الطاعون،ج:3،ص:188، المكتبة العصرية، صيدا – بيروت)
درر الحکام میں ہے :’’ ثُمَّ الْمُرْتَثُّ، وَإِنْ غُسِّلَ فَلَهُ ثَوَابُ الشُّهَدَاءِ كَالْحَرِيقِ وَالْغَرِيقِ وَالْمَبْطُونِ وَالْغَرِيبِ. ترجمہ : پھر مرتث (یعنی وہ شخص جو زخم لگنے کے بعد کچھ وقت زندہ رہا)، اگر اسے غسل دیا جائے، تو اس کے لیے شہیدوں کا ثواب ہوتا ہے، جیسے جل کر مرنے والا، ڈوب کر مرنے والا، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا اور پردیس میں مرنے والا۔( درر الحکام ، باب الشهيد،ج:1،ص:168، دار إحياء الكتب العربية)
جل کر انتقال کرنے والے شخص کو غسل دینے کےبارے الموسوعۃ الفقہیہ میں ہے :’’ذهب الفقهاء إلى أن من احترق بالنار يغسل كغيره من الموتى إن أمكن تغسيله؛ لأن الذي لا يغسل إنما هو شهيد المعركة ولو كان محترقا بفعل من أفعالها. أما المحترق خارج المعركة فهو من شهداء الآخرة. ولا تجري عليه أحكام شهداء المعركة۔فإن خيف تقطعه بالغسل يصب عليه الماء صباولا يمس. فإن خيف تقطعه بصب الماء لم يغسل وييمم إن أمكن، كالحي الذي يؤذيه الماء“ترجمہ: فقہاء کا اتفاق ہے کہ جو شخص آگ میں جل کر فوت ہوا ہو اور اسے غسل دینا ممکن ہو، تو اسے عام میت کی طرح غسل دیا جائے گا، کیونکہ صرف شہید معرکہ کو غسل نہیں دیا جاتا، چاہے وہ جنگ کے کسی عمل سے ہی جلا ہو، جبکہ معرکہ کے علاوہ جل کر فوت ہونے والا صرف اخروی شہید ہے اور اس پر شہید معرکہ کے احکام لاگو نہیں ہوتے۔ اور اگر غسل دینے سے جسم کے ٹکڑے ہونے کا خدشہ ہو، تو اس پر صرف پانی بہا دیا جائے اور ہاتھ نہ لگایا جائے، اور اگر پانی بہانے سے بھی جسم کے ٹکڑے ہونے کا اندیشہ ہو، تو پھر غسل ترک کر کے تیمم کروایا جائے جبکہ ممکن ہو، جیسا کہ زندہ شخص کے ساتھ کیا جاتا ہے، جسے پانی نقصان پہنچائے۔ (الموسوعۃ الفقھیۃالکویتیہ، الماء المتجمع تحت الجلد بالاحتراق (النفطة)،ج :2، ص: 118،19 دار السلاسل، الكويت)
اگر غسل دینا ممکن نہ ہوتو تیمم کرایا جائے اس بارے المبسوط للسرخسی میں ہے :’’ ولو كان ترك الغسل للتعذر لأمر أن ييمموا كما لو تعذر غسل الميت في زمان لعدم الماء. ترجمہ :اگر غسل کا ترک کرنا کسی عذر کی بنا پر ہو تو حکم دیا جائے گا کہ اسے تیمم کرائیں جیسا اگر میت کو غسل دینا متعذر ہو جائے کسی جگہ پانی کے نہ ہونے کی وجہ سے ۔(المبسوط للسرخسی ،ج:2،ص:49، دار المعرفة - بيروت، لبنان)
جسم کے اکثر حصے پر زخم ہونے کی صورت میں تیمم کا حکم ہے اس بارے بہار شریعت میں ہے :’’ بے وُضو کے اکثر اعضائے وُضو میں یا جنب کے اکثر بدن میں زخم ہو یا چیچک نکلی ہو تو تیمم کرے، ورنہ جو حصہ عُضْوْ یا بدن کا اچھا ہو اس کو دھوئے اور زخم کی جگہ اور بوقت ضرر اس کے آس پاس بھی مسح کرے اور مسح بھی ضرر کرے تو اس عُضْوْ پر کپڑا ڈال کر اس پر مسح کرے۔( بہار شریعت ،ج:1،ص:346،مکتبۃ المدینہ کراچی)
میت کے جسم کا اکثر حصہ یا نصف حصہ سر سمیت ہو تو اس کو غسل اور نمازجنازہ پڑھی جائے گی اس بارے مجمع الانهر شرح ملتقی ابحر میں ہے:’’ (ولا يصلى على عضو) أي عضو كان هذا إذا وجد الأقل ولو مع الرأس خلافا للشافعي أما إذا وجد الأكثر أو النصف مع الرأس فيغسل ويصلى عليه بالاتفاق.(ولا على غائب) “ترجمہ:کسی ایک عضو پر نماز نہیں پڑھی جائے گی ۔یعنی میت کا ایسا عضو جو نصف سے کم ہو اگرچہ وہ سرمیت ہو،اس پر نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔ بہرحال اگر جسم کا اکثر حصہ یا آدھا حصہ سر سمیت پایا گیا،تو اسے غسل دیا جائے گااور بالاتفاق اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔ اور ایسی میت جو غائب ہو اس پر نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی ۔(مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر،جلد1، صفحہ185، دار إحياء التراث العربي)
ہڈیوں پر نمازہ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی اس بارے بدائع الصنائع میں ہے :’’أن العظام لايصلى عليها بالإجماع.ترجمہ: بیشک ہڈیوں پر بالاجماع نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔(بدائع الصنائع، جلد 1، صفحہ 302، دارالکتب العلمیہ، بیروت)واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد سجاد سلطانی
الجـــــواب صحــــيـح:مفتی محمد زوہیب رضا قادری
تاريخ اجراء: 04 شعبان المعظم 1447ھ/24جنوری 2026