غیر عالم ،فاسق معلن پیر کی بیعت کا حکم
    تاریخ: 11 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 22
    حوالہ: 380

    سوال

    ایک شخص جو کہ عالم نہیں،اور ڈاڑھی بھی شریعت کے مطابق نہیں، کچھ عرصہ تک ایک ہوٹل میں ویٹرینگ کرتا تھا،اچانک چند لوگوں نے اسے پیر بنا دیا اور اسے محافل وغیرہ کی اسٹیج کی زینت بنا دیا ۔اور اسے پیرِ طریقت ،رہبرِ شریعت کہا جانے لگا ۔ایسے شخص کے متعلق شریعت مطہرہ کیا کہتی ہے اگر وہ روجوع کر لے ۔اور اگر رجوع نہیں کرتا بلکہ یوں ہی سلسلہ چلائے رکھتا ہے تو شریعت کی حد ہو گی ؟جواب دے کر ہمارے دلوں کو مطمئن فرمائیں!

    سائل: عبد اللہ / مری


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر مذکورہ شخص کا حال وہی ہے جو بیان کیا گیا تو یہ شخص اپنی ان حرکات کی وجہ سے گناہ کا مرتکب ہوا ،اور جن لوگوں نے مزاق مزاق میں اس کو یہاں تک پہنچا دیا وہ بھی اس میں شریک ہیں ۔ان سب پر اللہ جل وعلا کے حضور توبہ و استغفار لازم ہے کہ ان لوگوں نے دین کے ایک اہم باب جو اللہ اور اس کے رسول تک پہنچنے کا روحانی ذریعہ ہے کا مزاق اڑایا ۔پھر پیر طریقت و رہبر شریعت جیسے القابابت دینے سے گویا ان پاکانِ امت کی توہین ہے جنھوں نے اپنی زندگیاں مخلوقِ خدا کو راہ راست پر لانے کے لیے وقف کیں اور جن کے فیضان سے تشنگانِ طریقت سیراب ہوئے ،بھٹکوں کو شاہرائے حق ملی۔

    دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جہاں اس میں شریعت کے اصول ہیں وہیں طریقت کے بھی ضابطے ہیں ۔چناچہ سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ بیعتِ برکت کا ضابطہ ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:بیعت گفتن ودر مسند ارشاد نشستن را ازچارشرط ناگزیرست : یکے آنکہ سنی صحیح العقیدہ باشد زیر اکہ بد مذہبیاں سگان دوزخ اند بدترین خلق چنانچہ درحدیث آمدہ ست۔دوم :عالم بعلم ضروری بودن کہ ع بے علم نتواں خداراشناخت۔سوم :اجتناب کبائر کہ فاسق واجب التوہین است ومرشد واجب التعظیم ہر دو چہ گونہ بہم آید۔چہارم: اجازت صحیحہ متصلہ کما اجمع علیہ اھل الباطن۔ہر کہ ازنہا ہیچ شرطے رافاقدست اور ا نشاید پیر گرفتن ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ ترجمہ:بیعت لینے اور مسند ارشاد پر بیٹھنے کے لئے چارشرطیں ضروری ہیں : پہلی:یہ کہ سنی صحیح العقیدہ ہو اس لئے کہ بدمذہب دوزخ کے کتے ہیں اوربدترین مخلوق ہیں جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔دوسری شرط: ضروری علم کا ہونا، اس لئے کہ بے علم خدا کوپہچان نہیں سکتا۔تیسری :یہ کہ کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرنا ،اس لئے کہ فاسق کی توہین واجب ہے اور مرشد واجب التعظیم ہے دونوں چیزیں کیسے اکھٹی ہوں گی۔چوتھی :اجازت صحیح متصل ہوجیسا کہ اس پر اہل باطن کا اجما ع ہے۔جس شخص میں ان شرائط میں سے کوئی ایک شرط نہ ہوتو اس کو پیر نہیں بنانا چاہیے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔(فتاوی رضویہ جلد 21 صفحہ 492 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    اللہ جل وعلا کبھی کسی جاہل کو اپنا ولی نہیں بناتا،اور نہ جاہل پر کبھی علم باطن کھلتا ہے ،اللہ تعالی جب کسی کو ولایت عطا کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو پہلے اسے علم عطا فرماتا ہے ۔اور علمِ باطن سے پہلے علم ظاہر عطا فرماتا ہے۔اس لیے کہ بندوں کے لیے اللہ سبحانہ وتعالی کے متعلق پانچ طرح کے علم ہیں:علم ذات ،علم صفات،علم افعال ،علم اسماء اور علم احکام ۔ان میں سے ہر پہلا دوسرے سے مشکل ہے یعنی سب سے آسان علم احکام ہے ،سو جو شخص علم احکام ہی سے بے خبر ہو دیگر علوم میں اس کا کیا حال ہو گا!ایسے پر ان علوم کا دروازہ کھلنا محال ہے۔

    ایک اور مقام پر لکھتے ہیں :حاشا ! نہ شریعت وطریقت دو راہیں ہیں، نہ اولیاء کبھی غیر علماء ہوسکتے ہیں۔ علامہ مناوی شرح جامع صغیر پھر عارف باللہ سید عبدالغنی نابلسی حدیقہ ندیہ میں فرماتے ہیں امام مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں: علم الباطن لایعرف الا من عرف علم الظاہرترجمہ: علم باطن نہ جانے گا مگر وہ جو علم ظاہر جانتاہے۔امام شافعی رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں: وما اتخذاﷲ ولیا جاہلا ترجمہ:اللہ نے کبھی کسی جاہل کو اپنا ولی نہ بنایا۔یعنی بنانا چاہا تو پہلے اسے علم دے دیا اس کے بعد ولی کیا کہ جو علم ظاہر نہیں رکھتا علم باطن کہ اس کا ثمرہ ونتیجہ ہے کیونکر پاسکتا ہے۔(فتاوی رضویہ جلد 21صفحہ530 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ اپنے دور کی بابت لکھتے ہیں :۔ اسی طرح آج کل بہت سے لوگوں نے پیری مریدی کو پیشہ بنالیا ہے، سالانہ مریدوں میں دورہ کرتے ہیں اور مریدوں سے طرح طرح سے رقمیں کھسوٹتے ہیں جس کو نذرانہ وغیرہ ناموں سے موسوم کرتے ہیں اور ان میں بہت سے ایسے بھی ہیں جو جھوٹ اور فریب سے بھی کام لیتے ہیں یہ ناجائز ہے۔(بہار شریعت حصہ 16 صفحہ 610 مطبوعہ مکتبۃ المدینہ )

    حکم شرعی : یہ شخص فاسق اور گمراہ ہے ، اس طرح کے لوگوں کا مقصود نمود وشہرت اور پیسے کے سوا کچھ نہیں ہوتا ،معاذ اللہ ! فی زمانہ معاش کا اس سے بڑھ کر کوئی اور ایسا ذریعہ نہیں جس سے دنوں میں عزت کے ساتھ ترقی ہوتی ہو۔

    بقول اقبال :

    لباسِ خضر میں ہزاروں راہزن پھرتے ہیں اگر جینے کی تمنا ہے تو کچھ پہچان پیدا کر

    عوامِ اہلسنت اس کے دام فریب سے بچیں اور اس سے قطع تعلق کریں، میل جول ختم کریں جب تک کہ راہ راست پر نہیں آ جاتا ۔البتہ اگر توبہ و رجوع کر لے، تو اس کے ساتھ حسنِ ظن قائم رکھتے ہوئے اس کے ساتھ تعلق برداری قائم رکھیں گے، ارشاد باری تعالی ہے: ولا تقولوالمن القی الیکم السلام لست مومنا ترجمہ:اور جو تمھیں سلام کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تو مومن نہیں۔ (النساء:94)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــہ:محمد یونس انس القادری

    الجواب الصحیح :ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:21جمادئی الاخری1442ھ/04فروری2021ء