سبیل کے ڈھانچے کو بیچنا جو ویران ہو گیا ہو

    sabeel ke dhanche ko bechna jo veeran ho gaya ho

    تاریخ: 1 اگست، 2026
    مشاہدات: 14
    حوالہ: 1685

    سوال

    ہمارے محلے کی ایک سبیل ہے جس کی باقاعدہ تعمیر پر خرچ ہوا ہے اب سوال یہ ہے کہ سبیل کے پیچھے دکاندار کو اپناراستہ بنانا ہے اس لیے وہ دکاندار سبیل کے اسٹکچر کے عوض محلے والوں كو رقم دے کر اسٹکچر خریدنا چاہتا ہے لہذا اس کا بیچنا شرعا جائز ہے ؟۔اور اب سبیل کا مقصد ہی نہیں رہا لوگ باہر سے پانی بھی نہیں بھرتے گھر میں ہی بوتل منگوا لیتے ہیں ۔

    سائل : محمد اقبال :کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مذکورہ بالاصورت کے جواب سے قبل یہ وضاحت ضروری ہے کہ سبیل شرعاً وقف کے حکم میں ہوتی ہے، اور موقوفہ چیز کو خریدنا، بیچنا یا کسی کو اس کا مالک بنانا قطعاً جائز نہیں ہوتا۔

    بعد ازاں پوچھی گئی صورت کا حکم یہ ہےکہ سبیل کے ڈھانچے کو نہ بیچنا جائز ہے اور نہ ہی اس کو خریدنا۔البتہ اگر واقعی ایسی صورت حال ہو چکی ہے کہ وہ سبیل ویران اور ناقابلِ انتفاع ہو گئی ، تو اس ضرورت کے پیشِ نظر اسے فروخت کرنا جائزہے۔ جو رقم حاصل ہو، اسے کسی دوسری جگہ سبیل لگانے میں صرف کیا جائے یا وقف کے اصل مقصد کو پورا کرنے میں خرچ کیا جائے، تاکہ مال وقف ضائع نہ ہو۔

    دلائل و جزئیات :

    جب وقف مکمل ہوجائے تو خرید و فروخت جائز نہیں اس بارے 'در مختار 'میں ہے :’’ فَإِذَا تَمَّ وَلَزِمَ لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن" ترجمہ: جب وقف تام اور لازم ہوجائے تو نہ وہ کسی کی ملکیت رہتا ہے اور نہ ہی کسی کواس کا مالک بنایا جاسکتا ہے، نہ اسے عاریتاً دیا جاسکتا ہے اور نہ اسے رہن رکھا جاسکتا ہے۔(رد المحتار، مطلب في وقف المرتد والكافر،ج:4،ص:351،دارالفکر بیروت)

    اگر کوئی حوض ویران ہو جائے اور لوگوں کے نہ ہونے یا استعال نہ کرنے کی وجہ سے اس کی ضرورت باقی نہ رہے، تو ایسی صورت میں اسےکسی دوسری طرف منتقل کر دیا جائے اس بارے 'فتاوی ہندیہ 'میں ہے:سُئِلَ شَمْسُ الْأَئِمَّةِ الْحَلْوَانِيُّ عَنْ مَسْجِدٍ أَوْ حَوْضٍ خَرِبَ لَا يُحْتَاجُ إلَيْهِ لِتُفَرِّقْ النَّاسِ هَلْ لِلْقَاضِي أَنْ يَصْرِفَ أَوْقَافَهُ إلَى مَسْجِدٍ آخَرَ أَوْ حَوْضٍ آخَرَ؟ قَالَ: نَعَمْ،."ترجمہ: شمس الأئمہ الحلوانی سے سوال کیا گیا ہے کہ ان سے ایک مسجد یا حوض کے بارے میں سوال کیا گیا جو ویران ہو گیا ہو، اور لوگوں کے منتشر ہو جانے کی وجہ سے اس کی ضرورت باقی نہ رہی ہو: کیا قاضی کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کے اوقاف کو کسی دوسری مسجد یا حوض کی طرف منتقل کر دے؟تو انہوں نے فرمایا: ہاں (جائز ہے) (فتاوی ہندیہ : جلد:2،ص:478 مطبوعہ دارالفکر بیروت)

    اسی طرح رد المحتار میں علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ لکھتے ہیں :’’ وَاَلَّذِي يَنْبَغِي مُتَابَعَةُ الْمَشَايِخِ الْمَذْكُورِينَ فِي جَوَازِ النَّقْلِ بِلَا فَرْقٍ بَيْنَ مَسْجِدٍ أَوْ حَوْضٍ، كَمَا أَفْتَى بِهِ الْإِمَامُ أَبُو شُجَاعٍ وَالْإِمَامُ الْحَلْوَانِيُّ وَكَفَى بِهِمَا قُدْوَةً، وَلَا سِيَّمَا فِي زَمَانِنَا فَإِنَّ الْمَسْجِدَ أَوْ غَيْرَهُ مِنْ رِبَاطٍ أَوْ حَوْضٍ إذَا لَمْ يُنْقَلْ يَأْخُذُ أَنْقَاضَهُ اللُّصُوصُ وَالُْتَغَلَّبُونَ كَمَا هُوَ مُشَاهَدٌ وَكَذَلِكَ أَوْقَافُهُ يَأْكُلُهَا النُّظَّارُ أَوْ غَيْرُهُمْ، وَيَلْزَمُ مِنْ عَدَمِ النَّقْلِ خَرَابُ الْمَسْجِدِ الْآخَرِ الْمُحْتَاجِ إلَى النَّقْلِ إلَيْهِ، وَقَدْ وَقَعَتْ حَادِثَةٌ سُئِلْت عَنْهَا فِي أَمِيرٍ أَرَادَ أَنْ يَنْقُلَ بَعْضَ أَحْجَارِ مَسْجِدٍ خَرَابٍ فِي سَفْحِ قَاسِيُونَ بِدِمَشْقَ لِيُبَلِّطَ بِهَا صَحْنَ الْجَامِعِ الْأُمَوِيِّ فَأَفْتَيْت بِعَدَمِ الْجَوَازِ مُتَابَعَةً لِلشُّرُنْبُلَالِيِّ، ثُمَّ بَلَغَنِي أَنَّ بَعْضَ الْمُتَغَلِّبِينَ أَخَذَ تِلْكَ الْأَحْجَارَ لِنَفْسِهِ، فَنَدِمْت عَلَى مَا أَفْتَيْت بِهِ، ثُمَّ رَأَيْت الْآنَ فِي الذَّخِيرَةِ قَالَ وَفِي فَتَاوَى النَّسَفِيِّ: سُئِلَ شَيْخُ الْإِسْلَامِ عَنْ أَهْلِ قَرْيَةٍ رَحَلُوا وَتَدَاعَى مَسْجِدُهَا إلَى الْخَرَابِ، وَبَعْضُ الْمُتَغَلِّبَةِ يَسْتَوْلُونَ عَلَى خَشَبِهِ، وَيَنْقُلُونَهُ إلَى دُورِهِمْ هَلْ لِوَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْمَحَلَّةِ أَنْ يَبِيعَ الْخَشَبَ بِأَمْرِ الْقَاضِي، وَيُمْسِكَ الثَّمَنَ لِيَصْرِفَهُ إلَى بَعْضِ الْمَسَاجِدِ أَوْ إلَى هَذَا الْمَسْجِدِ؟قَالَ: نَعَمْ ترجمہ:اور جو بات مناسب معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ مذکورہ مشائخ کی پیروی کی جائے جو مسجد ہو یا حوض، دونوں کے بارے میں وقف کے منتقل کرنے کے جواز کے قائل ہیں، جیسا کہ امام ابو شجاع اور شمس الأئمہ الحلوانی نے فتویٰ دیا ہے، اور یہ دونوں بطورِ مثال کافی ہیں، خصوصاً ہمارے زمانے میں۔کیونکہ مسجد یا اس کے علاوہ رباط یا حوض وغیرہ اگر منتقل نہ کیے جائیں تو ان کے ملبے کو چور اور طاقتور لوگ اٹھا لے جاتے ہیں، جیسا کہ مشاہدہ ہے، اور اسی طرح اس کے اوقاف کو نگران یا دوسرے لوگ کھا جاتے ہیں۔ اور اگر نقل نہ کیا جائے تو دوسری وہ مسجد بھی خراب ہو جاتی ہے جو منتقل کیے جانے کی محتاج ہوتی ہے۔اور ایک واقعہ پیش آیا کہ دمشق کے قاسیون کے دامن میں ایک ویران مسجد کے بعض پتھروں کو ایک امیر نے چاہا کہ وہ جامع اموی کے صحن کو ہموار کرنے کے لیے استعمال کرے، تو میں نے امام شُرنبلالی کی رائے کی پیروی کرتے ہوئے اس کے ناجائز ہونے کا فتویٰ دیا۔ پھر مجھے معلوم ہوا کہ کچھ طاقتور لوگوں نے وہ پتھر خود لے لیے، تو مجھے اپنے فتوے پر ندامت ہوئی۔پھر میں نے اب ذخیرہ میں دیکھا کہ فتاویٰ نسفی میں ہے:شیخ الاسلام سے سوال کیا گیا کہ ایک بستی کے لوگ وہاں سے منتقل ہو گئے اور ان کی مسجد ویران ہو گئی، اور بعض طاقتور لوگ اس کے لکڑی کے حصے لے کر اپنے گھروں میں استعمال کر رہے ہیں، تو کیا محلے والوں میں سے کسی کو یہ حق ہے کہ وہ قاضی کے حکم سے وہ لکڑی بیچ دے اور اس کی قیمت اپنے پاس رکھ کر اسے کسی دوسری مسجد یا اسی مسجد پر خرچ کرے؟تو انہوں نے فرمایا: ہاں (جائز ہے)۔ (حاشیہ ابن عابدین شامی:کتاب الوقف،فرع بناء بیتاللامام فوق المسجد ،جلد: 4،ص:360 مطبوعہ دارالفکر بیروت)

    والّٰله تعالى اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمدسجاد سلطانی

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:13 ذی القعدہ 1447ھ/01مئی 2026