سات بھائی دو بہنوں کا حصہ

    saat bhai do behnon ka hissa

    تاریخ: 20 اپریل، 2026
    مشاہدات: 7
    حوالہ: 1179

    سوال

    میری والدہ ماجدہ کا ابھی حال ہی میں انتقال ہوا ہے ، اور والد صاحب کا تو تقریبا 20 سال پہلے انتقال ہوگیا تھا، جائیداد میں مکان اور دکانیں ہیں اسکے علاوہ والدہ کے زیورات اور دیگر سامان ہے، مکان والدہ کے نام پر ہے اور دکانیں والد صاحب کے نام پر ۔ ہم سات بھائی اور دو بہنیں ہیں ، ایک بھائی اور بھی تھا جس کا والد کی وفات کے بعد اور والدہ کی وفات سے پہلے کنوارے پن میں ہی انتقال ہوگیا تھا۔ وراثت کی تقسیم کے بارے میں رہنمائی فرمائیں ۔ہر ایک کا کیاحصہ ہوگا؟؟؟

    سائل: محمد عثمان ، کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو کل جائیداد کو 16 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے ہر بیٹے کو دو،دو حصے اور ہر بیٹی کو ایک،ایک حصہ ملے گا۔

    مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے ،

    لڑکے اور لڑکیوں کے حصے کے بارے میں فرمایا، قال اللہ تعالیٰ یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ :ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین : ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    فائدہ : جائیداد کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کل جائیداد وغیرہ کی قیمت لگوالیں پھر کل رقم کو مبلغ یعنی 16 پر تقسیم کردیں جو جواب آئے اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:28 جمادی الثانی 1440 ھ/05 مارچ 2019 ء