سوال
1:ایک شخص نے پلاٹنگ کے لئے زمین خریدی ہے کیا اس زمین پر زکوۃ ہے یا نہیں ؟ اگر ہے تو کس طرح اور کتنی ادا کی جائے گی؟ نیز یہ کہ زکوۃ میں وہ زمین دی جائے گی یا اسکی مالیت ؟ اگر زمین دی جائے گی تو کیا اس زمین کو مسجد بناکر وقف کیا جاسکتا ہےیا نہیں؟
2:ایک شخص نے چار مشترکہ مالکان سے زمین خریدی اور انہیں اس زمین کے عوض الگ الگ مکان دے دئیے ؟ کیا اس زمین پر زکوۃ ہوگی یا نہیں ؟
سائل: سید عثمان جعفری :سکھر
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1:پلاٹنگ کی لئے خریدی گئی زمین پر زکوۃ لازم ہے،جبکہ وہ خود بقدرِ نصاب ہو یا کسی دوسرے مالِ زکوۃ کے ساتھ مل کے نصاب کی مقدار کو پہنچ جائے۔( چاندی کے حساب سے نصاب کی مقدار کی مالیت آج کے دن 75968روپے ہے۔)
زکوۃ کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہے کہ جس دن شخص ِ مذکور کے نصاب کا سال مکمل ہو اس دن جو زمین اسکی ملکیت میں ہو اسکی مارکیٹ ویلیو لگواکر اسکا ڈھائی فیصد بطورِ زکوۃ ادا کرے۔
پھر زکوۃ کی ادائیگی میں اختیار ہے چاہے تو بعینہ اس زمین کا واجب الاداء حصہ بطور زکوۃ دے یا یہ کہ اسکی قیمت دے۔لیکن بہتر یہ ہے کہ قیمت دے کیونکہ یہ انفع للفقراء ہے۔یعنی اس میں فقراء کا زیادہ فائدہ ہے بایں طور کہ وہ قیمت سے اپنی مختلف ضروریات پوری کرسکتے ہیں۔
اگر زمین دی جائے تو لازم ہے کہ اس زمین کا کسی فقیر شرعی کو مالک بنادے محض مسجد بناکر وقف کردینے سے زکوۃ ادا نہ ہوگی کہ وقف خاص ملکِ خدا ہوتا ہے نہ کہ ملکِ فقیر شرعی، جبکہ زکوۃ میں فقیر شرعی کی تملیک لازم و ضروری۔
ہاں اسکی یہ صورت ہوسکتی ہے کہ زمین کسی فقیرِ شرعی کی ملکیت کردی جائے اور وہ قبضہ کے بعد اپنی خوشی سے اس زمین کو مسجد کے لئے وقف کردے، بعد ازاں وہ شخص اس زمین پر مسجد تعمیر کردے۔
پلاٹنگ والی زمین پر زکوۃ اس لئے لازم ہے کہ جب زمین پلاٹنگ کی نیت سے خریدی تو وہ مالِ تجارت ہوگیا ۔ اور مال تجارت پر زکوۃ لازم ہے۔الجوہرۃ النیرہ میں ہے:(الزَّكَاةُ وَاجِبَةٌ فِي عُرُوضِ التِّجَارَةِ كَائِنَةً مَا كَانَتْ) أَيْ سَوَاءٌ كَانَتْ مِنْ جِنْسِ مَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ كَالسَّوَائِمِ أَوْ مِنْ غَيْرِهِ كَالثِّيَابِ ترجمہ:سامانِ تجارت میں زکوۃ واجب ہے خواہ سامانِ تجارت اس جنس سے ہو جس میں زکوۃ لازم ہے جیساکہ چرائی کے جانور یا اسکے علاوہ کچھ ہو جیسے کپڑے وغیرہ۔( الجوہرۃ النیرۃ شرح مختصر القدوری جلد 1 ص 124)
مراقی الفلاح میں ہے:فرضت على ما يساوي قيمته من عروض تجارة۔ترجمہ:جس سامانِ تجارت کی قیمت (چاندی کے نصاب)کے مساوی ہو اس پر زکوۃ فرض ہے۔(مراقی الفلاح شرح نور الایضاح، جلد1 ص 714)
سیدی اعلٰی حضرت ارشاد فرماتے ہیں:مالِ تجارت جب تک خود یا دوسرے مالِ زکوٰۃ سے مل کر قدرِ نصاب اور حاجتِ اصلیہ مثل دین ،زکوٰۃ وغیرہ سے فاضل رہے گا ہر سال اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔(فتاوٰ ی رضویہ،جلد 10 ص 153)
ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں:تجارت کی نہ لاگت پر زکوٰۃ ہے نہ صرف منافع پر، بلکہ سال تمام کے وقت جو زر منافع ہے اور باقی مالِ تجارت کی جو قیمت اس وقت بازار کے بھاؤسے ہے اُس پر زکوٰۃ ہے۔(فتاوٰ ی رضویہ،جلد 10 ص 158)
2: اگر تو یہ زمین بھی بنیتِ تجارت خریدی تو اس پر بھی وہی احکام لاگو ہونگے جو اوپر مذکور ہوئےوگرنہ زکوۃ لازم نہ ہوگی۔
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں:مکانات پر زکوۃ نہیں اگرچہ پچاس کروڑ کے ہوں،زکوۃ صرف تین چیزوں پر ہے ، سونا چاندی کیسے ہی ہوں،دوسرے چرائی پر چھوٹے جانور اور تیسرے تجارت کا مال۔(فتاوی رضویہ کتاب الزکوۃ جلد 10ص161)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:09 رمضان المبارک 1442 ھ/22 اپریل 2021 ء