سوال
کہ میری شادی 1995 میں ہوئی مجھے اس وقت 12 تولہ سونا ملا ۔ 2005 تک یعنی دس سال تک میں نے اس سونے کی زکوۃ ادا نہیں کی ۔پھر گھر بنانے کی غرض سے وہ زیور فروخت کردیا ۔ اب مجھے بتائیے کہ 1995 سے 2005 تک دس سال کی زکوۃ کتنی ادا کرنی ہے ؟ اور کیسے ادا کرنی ہے کیا ایک ساتھ ضروری ہے یا ماہانہ ادا کرسکتی ہوں؟ اس وقت میرے پاس 2 تولہ سونا موجود ہے اس پر کتنی زکوۃ بنتی ہے؟
سائلہ:بنت حوا : کورنگی کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورت مسئولہ میں آپ پر دس سال کی زکوۃ لازم ہے جو فورا آپ کو ادا کرنا ضروری ہے ۔اور تاخیر کی وجہ سے جو گناہ ہوگا اس پر توبہ لازم اورآئندہ وقت مقرر پر ادا کرنا لازم ہے۔ ادائیگی کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے نصاب کےاسلامی مہینوں کے اعتبار سے سال ،مہینے ،دن اور وقت متعین کرلیں اسکے بعد صاحب نصاب ہونے کے بعد سے اس دن سونے کے بھاؤ کا حساب لگائے جس دن سال پورا ہورہا ہے ، پھر ابتدائی سال کی زکوۃ اس سونے کا چالیسواں حصے یا اسکی قیمت جو اس وقت مارکیٹ ویلیو تھی ادائیگی کے لیے شمار کرلیں ۔ یہ ایک سال کی زکوۃ کی ادائیگی ہوجائے گی۔جو ادا کیا اسکو نکال کر باقی جتنا سونا بچے اس میں سے بعد والے سال کی زکوۃ نکالیں ، یہ دو سال کی ادائیگی ہوگئی تیسرے سال کی زکوۃ ادا کرتے وقت پچھلے دوسال کی ادائیگی کے مقدار منہا کردے اور باقی جو بچے اسکا چالیسواں حصہ زکوۃ ادا کریں اسی ترتیب سے ہرسال کی زکوۃ ادا کرتے رہیں حتیٰ کہ جتنے سالوں کی زکوۃ لاز م ہے وہ سب ادا ہوجائے اور واجب الاداء کچھ باقی نہ رہے۔ اس میں اتنی سہولت باقی رہے گی کہ ادائیگی کے وقت نصاب مکمل ہونے کے بعد نصاب کا خمس(پانچواں حصہ) یا ایک خمس سے دوسرا خمس جو ہوگا وہ معاف ہوگا۔اسکی زکوۃ لازم نہیں ہوگی۔مثلا اداکرتے کرتے آٹھ تولہ باقی رہ گیا تو یہاں ساڑھے سات تولہ کی زکوۃ لازم ہوگی آٹھ تولہ کی لازم نہیں ہوگی کیونکہ قاعدہ ہے کہ نصاب سے زائد اس سونے کی زکوۃ لازم ہے جو نصاب کے خمس (پانچویں حصے)کو پہنچ جائے ۔ جبکہ ساڑھے سات تولہ کے بعدجو آدھا تولہ ہے وہ نصاب کے خمس کو نہیں پہنچتا لہذا ساڑھے سات تولہ کی ہی زکوۃ لازم ہوگی نہ کہ آٹھ تولہ کی۔
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں :دس برس رکھا ، ہر سال زکوٰۃ واجب ہوگی جب تک نصاب سے کم نہ رہ جائے، یہ اس لیے کہ جب پہلے سال کی زکوٰۃ نہ دی دوسرے سال اس قدر کا مدیون ہے تو اتنا کم کرکے باقی پر زکوٰۃ ہوگی ، تیسرے سال اگلے دونوں برسوں کی زکوٰۃ اس پر دین ہے تو مجموع کم کرکے باقی پر ہوگی، یُوں اگلے سب برسوں کی زکوٰۃ منہا کرکے جو بچے اگر خودیا اس کے اور مال زکوٰۃ سے مل کر نصاب ہے تو زکوٰۃ ہوگی ورنہ نہیں۔(فتاوٰی رضویہ ،کتاب الزکوۃ،جلد 10 ص 144،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
اسی میں ایک اور جگہ فرماتے ہیں :زکوٰۃ صرف نصاب میں واجب ہوتی ہے، نہ عفومیں، مثلاًایک شخص آٹھ تولے سونے کا مالک ہے تو دو ماشہ سونا کہ اس پر واجب ہوا، وُہ صرف۷ تولے کے مقابل ہے نہ کہ پورے آٹھ تو لے کے،کہ یہ چھ ماشے جو نصاب سے زائد ہے عفو ہے ۔ یُوں ہی اگر ۱۰ تولے کا مالک ہو تو زکوٰۃ صرف ۹ تولہ یعنی ایک نصاب کامل اورایک نصاب خمس کے مقابل ہے،دسواں تو لہ معاف۔ ملتقی الابحر میں ہے : الزکوٰۃ تتعلق بالنصاب دون العفو فلو ھلک بعد الحول اربعون من ثمانین شاۃ تجب شاۃ کا ملۃ ۔ ملخصاً۔ زکوٰۃکا تعلق نصاب سے ہوتا ہے عفو سے نہیں،اب اگر سال کے بعد اس کی بکریوں میں سے چالیس40 ہلاک ہوگئیں تو اب بھی ایک کامل بکری زکوٰۃ لازم ہوگی۔(فتاوٰی رضویہ ،کتاب الزکوۃ،جلد 10 ص 88،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
اسی میں ہے:اور اب تک جوادا میں تاخیر کی بہت زاری کے ساتھ اُس سے توبہ فرض ہے اور آئندہ ہر سال تمام پر فوراًادا کی جائے ۔ (فتاوٰی رضویہ ،کتاب الزکوۃ،جلد 10 ص 128،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 20 شوال المکرم 1440 ھ/24 جون 2019 ء