سوال
السلام علیکم
ہمارا سوال یہ ہے کہ ہمیں زکوۃ نکالنا بنتی ہے یا نہیں ؟ اور کتنے سالوں کی بنتی ہے ، ہمارا ایک پلاٹ تھا ، اسکی قیمت 2016 میں ایک کڑور تھی لیکن ہماری نیت یہ تھی کہ اسکو بیچ کر دوکان لیں گے ۔کیونکہ ہمارے پاس دوکان نہیں تھی ۔
2016 میں زکوۃ اسلیے نہیں نکالی کہ ابھی ایک کڑور روپے لگے ہیں لیکن ابھی ہاتھ میں پیسے نہیں ہیں اگر پیسے ملے تو پھر مفتی سے پوچھ کر نکال لیں گے۔کیونکہ ہماری نیت تو دوکان کی تھی اور ہم نے سوچا کہ پلاٹ بیچ کر دوکان لیں گے تو زکوۃ نہیں نکلی اس کے بعد ہم نے پلاٹ کو نہیں بیچا۔ یہ سوچ کر کہ پلاٹ کی قیمت بڑھے گی تو بیچ کر دوکان لے لیں گے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ پلاٹ کی قیمت کم ہوتی گئی۔اور ساتھ ساتھ ہمارا پیسا ،زیور سب کا سب خرچ ہوگیاس لیے ہم نے سوچا کہ اب زکوۃ نہیں بنتی ۔پھر اگلے سال 2017 میں ہم نے 70 لاکھ کا پلاٹ بیچا ۔تو اب ہم نے سوچا اب پیسے آئے ہیں اب زکوۃ نکالیں ۔ ہم پر کتنی زکوۃ ہے ؟
سائل: اعظم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
آپکا سوال بہت مبہم ہے ،آپ نے جب پلاٹ لیا اس وقت آپ کی کیا نیت تھی یہ معلوم نہیں ؟ بہر حال اگر آپ کی نیت یہ تھی کہ اسکو آگے بیچ دیں گے تاکہ کچھ نفع ہوجائے تو اس پرزکوۃ ہے، جتنے سال آپ کے پاس رہا اسکی زکوۃ دینی ہوگی اسی اگر آپ کے پاس اس پلاٹ کے علاوہ کچھ اور مال وغیرہ بھی ہے جو آپکی زندگی کی ضروریات کے علاوہ ہو مثلا گھر ، گاڑی اور کھانے پینے کی اشیاء وغیرہ کے علاوہ اور نصاب کو یعنی 40 ہزار روپے سے زائد رقم کو پہنچتا ہو یا مال تجارت ہو ، یا سونا چاندی وغیرہ ہے ، جس پر ایک سال مکمل ہوچکا ہے تو اس تمام پر زکوۃ ہوگی ۔ کیونکہ زکوۃ تین قسم کی چیزوں پر ہے۔
(١) سونا/چاندی اور اس میں کرنسی بھی داخل ہے (٢) مال تجارت(٣) سائمہ یعنی وہ جانور جو چرائی پر چھوڑ دئے جائیں۔
فتاویٰ ہندیہ کتاب الزکوۃ الباب الاول جلد 1ص192(مطبوعہ قدیمی ) میں ہے:وینقسم الیٰ قسمین خلقی وفعلی فالخلقی الذہب والفضۃ، فتجب الزکوۃ فیہما نوی التجارۃ اولم ینواصلا، والفعلی ما سواہ، ویکون الاستنماء فیہ بنیۃ التجارۃ او الإسامۃ،(ملخصا)ترجمہ: زکوۃ دو طرح کے مالوں میں تقسیم ہوگی ،(١)خلقی (٢) فعلی ،پس خلقی (یعنی جس کی پیدائش ہی بطور مال کے ہو) سونا اور چاندی ہیں، ان میں زکوۃ لازم ہوگی خواہ تجارت کی نیت ہو یاکسی چیز کی بھی نیت نہ کی ہو۔ اور فعلی ان کے علاوہ ہے اور فعلی میں (نصاب کا نامی یعنی اضافہ ہونا ) تجارت یا اسامۃ(جانوروں کو چرائی پر چھوڑنے) کی نیت سے ہوگا۔
لیکن اگر آپ نے کہ اسکو آگے بیچنے کی نیت سے اور نفع حاصل کرنے کی نیت سے نہیں خریدا تھا تو اس پرزکوۃ نہیں ہے،
امام احمد رضا خان سے اسی قسم کا سوال کیا گیا آپ جواباََ ارشاد فرماتے ہیں'' مکانات پر زکوۃ نہیں اگرچہ پچاس کروڑ کے ہوں،زکوۃ صرف تین چیزوں پر ہے ، سونا چاندی کیسے ہی ہوں،دوسرے چرائی پر چھوٹے جانور اور تیسرے تجارت کا مال(فتاوی رضویہ کتاب الزکوۃ جلد 10ص161)
اب یہ آپ کے اور اللہ کے درمیان کا معاملہ ہے آپ نے جس نیت سے خریدا حکم اسی کے اعتبار سے ہوگا،۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی