saat bhai aur do behnein
سوال
میرے والد صاحب 20 سال پہلے انتقال فرماچکے ہیں ، اور والدہ کا ابھی 27 جنوری 2019 میں انتقال ہوا ہے ۔ والد کے انتقال کے وقت ہم 9 بھائی اور 2 بہنیں تھی ،پھر دو بھائیوں کا انتقال ہوگیا ، جن میں سے ایک تو غیر شادی شدہ تھے جن کا والد کے انتقال ہوا اور ایک کا اس بھائی کے بعد جن کی شادی ہوئی لیکن اولاد نہیں ہوئی ،اب والدہ کےوصال کے وقت ہم 7 بھائی اور 2 بہنیں ہیں۔دوکان والد صاحب اور مکان ، زیورات اور دیگر سامان والدہ کی ملکیت ہیں ۔ اب ان کی تقسیم کیسے ہوگی اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔
ایک دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ایک بھائی فیاض نے والد صاحب کی دوکان کے اوپر مکان بنایا اور والد صاحب کی وفات سے اب تک وہیں رہائش پذیر ہیں انہوں نے مکان بنانے پر 80 ہزار روپے لگائے ۔ اب اس وقت انکا کہنا ہے ،کہ جائیداد میں میرا جو حصہ ہے اور اسکے علاوہ جو پیسے میں نے لگائے اس کے بدلے موجودہ وقت کے حساب سے اسکا تخمینہ مجھے دیا جائے۔ان کا یہ تقاضا درست ہے ؟ جبکہ انہوں نے مکان بھی استعمال کیا اسکا کرایہ بھی نہیں دیا اور دکان بھی انکے زیر استعمال رہی۔ برائے کرم شرعی رہنمائی فرمائیں۔
والدہ کا نام :زہرہ بی بی۔والد کا نام:روشن دین۔بھائیوں کے نام : عمر،عثمان،ابوبکر،علی اصغر(مرحوم غیر شادی شدہ )،اظہر پرویز،شہزاد احمد،مظہر پرویز،فیاض احمد،محمد ناصر(مرحوم شادی شدہ)۔ بہنوں کے نام :نسرین بی بی،خالدہ بی بی۔ روبینہ(زوجہ ناصر)
سائل: محمد عثمان ولد روشن علی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں ذکر کیا گیا تو کل وراثت کی تقسیم ایسے کی جائے گی کہ کل وراثت کے 829440 حصے کیے جائیں گے، جس میں سے ہر بیٹے کو 101202 حصے ملیں گے جبکہ ہر بہن کو 50601 حصے اور ناصر کی بیوی (روبینہ) کو 19824 کو حصے ملیں گے۔
مذکورہ تقسیم اللہ تعالٰی کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے
بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ:ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں لڑکوں کے ساتھ لڑکیاں بھی ہوں تو ان کے حصے کے بارے میں فرمایا،قال اللہ تعالیٰ یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین : ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
فائدہ : جائیداد کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ ہی ہے کہ کل جائیداد کی قیمت لگواکر اسکو مبلغ یعنی 829440 پر تقسیم کردیں جو جواب آئے اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا حصہ ہوگا۔
آپکے دوسرے مسئلے کا جواب یہ ہے کہ جس بھائی نے دوکان کے اوپر مکان بنایا ،اگر وہ مکان اسی دوکان کے یا والد کی جائیداد کے پیسوں سے بنایا ہے تو اس صورت میں وہ مکان اور دوکان دونوں مال وراثت شمار کیے جائیں گے اور اگر انہوں نے مکان اپنے پیسوں سے بنایا اور ورثاء کی اجازت سے بنایا تو وہ مکان ان کی ملکیت ہی ہوگا اور اسکی رقم کے وہ تنہا مالک ہوں گے۔
تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:لایجوز التصرف فی مال غیرہ بلااذنہ ولاولایتہ الا فی مسائل:ترجمہ: غیرکے مال میں اس کی اجازت وولایت کے بغیر تصرف کرنا سوائے چندمسائل کے ناجائزہے۔(الدرالمختار کتاب الغصب جلد 6 ص 200)
سیدی اعلٰی حضرت لکھتے ہیں :
فی العقود الدریۃ من کتاب العاریۃ سئل فی رجل بنی بمالہ لنفسہ قصرا فی دار ابیہ باذنہ ثم مات ابوہ عنہ و عن ورثۃ غیرہ فھل یکون القصر لبانیہ الجواب نعم کما صرح بذٰلک فی حاشیۃ الاشباہ
ترجمہ: العقود الدریۃ میں کتاب العاریۃ کے بیان میں مذکور ہے، ایک ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے اپنے باپ کی اجازت سے اس کی زمین پر اپنے مال سے اپنے لئے محل بنایا پھر باپ اس سمیت دیگر ورثاء کو چھوڑ کر فوت ہوگیا تو یہ محل اس بانی کا ہوگا ۔الجواب، ہاں۔ جیسا کہ اس کی تصریح الاشباہ میں ہے۔(فتاوٰی رضویہ،کتاب الوکالۃ ،جلد 19 ص 224 رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب