سات بیٹیاں اور دو بیٹے

    saat betiyan aur do betay

    تاریخ: 20 اپریل، 2026
    مشاہدات: 7
    حوالہ: 1183

    سوال

    ہمارے والدین کا انتقال ہوچکا ہے، والد کی رواثت میں ایک مکان ہے جسکی موجودہ قیمت 12 لاکھ روپے ہے، ورثاء میں کل سات بیٹیا ں اور دو بیٹے ہیں ، اور سب کے سب حیات ہیں ۔اس مکا ن کی تقسیم کس طرح ہوگی ؟ شرعی رہنمائی فرمادیں۔

    سائل:محمد صابر : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں ذکر کیا گیا اور ان ورثاء کے علاوہ کوئی اور وارث نہیں ہے تو تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ مکان کی کل قیمت کو 11 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ جس میں ہر بیٹے کو الگ،الگ 2 حصے اور ہر بیٹی کو الگ،الگ ایک حصہ ملے گا۔

    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے:لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    نوٹ:12 لاکھ میں سے ہر بیٹے کوالگ الگ218181 روپے ملیں گے ،اورہر بیٹی کوالگ الگ 109090روپے ملیں گے۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 09 ذیقعدہ 1441 ھ/30 جون 2020 ء