سات بہنیں اور چار بھائیوں میں وراثت کی تقسیم

    saat behnein aur chaar bhaiyon mein wirasat ki taqseem

    تاریخ: 20 اپریل، 2026
    مشاہدات: 8
    حوالہ: 1181

    سوال

    ہم 11 بہن بھائی ہیں جس میں 7 بہنیں اور 4 بھائی ہیں ۔والدین کا انتقال ہو چکا ہے اس طرح کہ پہلے والدہ کا اسکے بعد والد صاحب کا۔ہمارے والد کی کل جائیداد میں دو پلاٹ اور ایک فلیٹ ہے ، جس میں سے ایک پلاٹ والد صاحب نے زندگی میں ہی والدہ کے ایصال ثواب کے لئے مسجد و مدرسہ کے لئے وقف کردیا۔ اب ایک پلاٹ او ر ایک فلیٹ بچا ہے ۔اب ہم سب بہن بھائی اسکی شرعی تقسیم کرنا چاہ رہے ہیں ۔اس سلسلے میں چند سوالات ہیں انکے جواب عنایت فرمائیں ۔

    1: ہم بہن بھائیوں میں سے ایک بھائی اور ایک بہن کنوارے ہیں ؟ کیا انکی شادی کے لئے وراثت سے حصہ نکلے گا یا نہیں ؟ کیونکہ انکی شادی کی ذمہ داری والدین کی تھی اب انکے کےانکی وراثت سے ہوگی یا نہیں ؟

    2:والدہ کے انتقال کے بعد والد صاحب کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں رہا تھا ۔ اس دوران ایک بہن کی شادی کی گئی جس میں کچھ خرچہ والد صاحب کے پیسوں سے اور کچھ2 لاکھ 70 ہزار ایک بہن نے خرچ کئے۔اور انہوں نے کہا جب بھی والد کی جائیداد کا حصہ ہوگا اس میں سے یہ رقم انہیں دے دی جائے۔اب سوال یہ ہے کہ جائیداد میں سے یہ رقم جو انہوں نے خرچ کی دی جائے گی یا نہیں ؟ کچھ بھائی دینے پر راضی ہیں اور کچھ ناراضی ہیں۔ شرعی اعتبار سے کیا حکم ہے؟

    3: کچھ بچوں نے والدین کی زندگی میں گھر کو مینٹین کرنے کے لئے کچھ رقم لگائی ، والدین نے کہا تھا کہ تم اپنا حساب رکھنا جو خرچہ ہوگا ہم تمہیں دے دیں گے۔ تو کیا یہ رقم بھی والدکی وراثت سے لی جاسکتی ہے یا نہیں ؟

    ان تمام مسائل کا حل قرآن و سنت کی روشنی میں بتائیں تاکہ تمام معاملات خوش اسلوبی سے حل کئے جاسکیں ۔

    سائلہ:نازیہ: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جب کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو سب سے پہلے اسکے مال سے اسکی تجہیز و تکفین کا بندوبست کیا جاتاہے پھر اگر اس پر کسی کا قرضہ ہوتو اسکے سارے مال سے اس قرضے کی ادائیگی کی جاتی ہے، اگر قرضے میں سارا مال چلا جائے فبہا۔ اب چونکہ مزید مال موجود ہی نہیں لہذا ورثاء کو کچھ نہیں ملے گا لیکن اگر قرض کی ادائیگی کے بعد مال بچ جائے تو دیکھیں گے کہ مرنے والے نے کسی غیر وارث کے لیے وصیت کی ہے تواس مابقی بعد اداء القرض (قرض کی ادائیگی کے بعد جو بچا اس)مال کے تین حصے کیے جائیں گے ،اس میں سے ایک حصہ سے وصیت پوری کی جائیگی اور بقیہ دو حصے اسکے ورثاء میں شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم کر دئیے جائیں گے۔السراجی فی المیراث میں ہے:قال علمائنا تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ الاول یبدأ بتکفینہ وتجہیزہ ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ترجمہ: ہمارے علماء نے فرمایا کہ میت کے ترکے سے چار طرح کے حق متعلق ہوتے ہیں پہلا تجہیز و تکفین پھراسکے تمام مال سے اسکے قرض ادا کئے جائیں گے پھر قرض کی ادائیگی کے بعد جو مال بچا اس سے وصیت نافذ کی جائے گی، پھر جو مال بچے اسکو ورثاء میں تقسیم کردیا جائے گا۔(سراجی فی المیراث ص 5)

    وہ مال اسکی وفات کے بعد اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوتا ہے جو اسکی وفات کے وقت زندہ تھے ، اور اسکو ہی مال وراثت کہتے ہیں ،اسی کو ترکہ بھی کہا جاتا ہے۔علامہ سید میر شریف جرجانی ترکہ کی تعریف ان الفاظ کے ساتھ کرتے ہیں:ما ترك الإنسان صافيًا خاليًا عن حق الغيربعينه :ترجمہ: ترکہ وہ مال کہلاتا ہے جو انسان چھوڑ کرمرتا ہے اور اسکے ساتھ کسی دوسرے کا حق متعلق نہ ہو۔(التعریفات ص 42)

    آپکے والد کی ملکیت میں جو فلیٹ اور پلاٹ ہے ،اسکی موجودہ ویلیو نکلوائی جائے پھر دیکھا جائے کہ ان پر کوئی قرض ہے تو وہ ادا کیا جائےگا، قرضہ جات ادا کرنے کے بعد اگر انہوں نے کوئی وصیت کی ہے تو باقی ماندہ کے ایک تہائی مال سے وصیت پوری کی جائے گی اسکے بعد جو کچھ بچے،وہ ورثاء میں انکے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا ۔ تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ کل مالِ وراثت کے 15حصے کئے جائیں گے جس میں سےہر بیٹے کو دو حصے اور ہر بیٹی کو ایک حصہ ملے گا۔

    مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے: لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)

    فائدہ :جائیداد کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کل مال وراثت کو مبلغ یعنی 15 پر تقسیم کردیں جو جواب آئے اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    وراثت کی تقسیم کے بعد آپکے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں :

    1:اگر تمام ورثاء بالغ ہیں تو ان سب کی رضامندی سے کنوارے بھائی اور بہن کی شادی کےلئے وراثت سے حصہ نکالا جاسکتا ہے۔ ورنہ کنوارے بھائی اور بہن کی شادی کے لئے والد کی وراثت سے حصہ نہیں نکالا جائے گا۔ بلکہ انہیں جو والد کی وراثت سے ملے اسی سے یہ اپنی شادی وغیرہ کے معاملات کرلیں ۔اسکی وجہ اوپر گزر چکی ہے کہ کسی بھی شخص کے مرنے کے بعد اسکے مال سے جو حقوق متعلق ہوتے ہیں ۔ بچوں کی شادی کروانا ان میں شامل و داخل نہیں ہے۔

    2: جو ورثاء دینے پر راضی نہیں ہیں یا جو نابالغ ہیں ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں وہ مال وراثت میں سے اپنا پورا پورا حصہ پائیں گے۔اور جو دینے پر راضی ہیں انکے حصوں سے اتنی رقم اسے دے جاسکتی ہے۔ورنہ یہ رقم اسکی طرف سے محض تبرع کی صورت ہوگی۔نہ دیگر ورثاء اسکے جوابدہ اور نہ یہ ان سے مطالبہ کرے۔یوں ہی جسکی شادی کی اگر اس سے کہہ دیا تھا کہ جو خرچ ہوگا تیرے حصہ سے لیا جائے گا تو اب اسکا مطالبہ کرنا جائز اور اس پر دینا لازم ہے۔سیدی اعلٰی حضرت میں فرماتے ہیں :بعینہٖ یہی حال صرف شادی کاہے جس نے صرف کیا فقط وہی اس کا متحمل ہوگا اجازت نہ دینے والوں یانابالغوں کو اس سے کچھ تعلق نہیں وہ اپنا حصہ متروکہ پدری سے پورا پوراپائیں گے اورصَرف شادی کامطالبہ صرف دختر سے نہیں ہوسکتا مگریہ کہ اس سے ٹھہرالیاہو کہ ہم یہ سارا صَرف تیرے حساب میں مجرالیں گے۔وذٰلک لان ماکانوا مضطرین فی ذٰلک وماسبیلہ ھذا ففاعلہ متبرع الا ان یشرط الرجوع کما اذا کفن الاجنبی المیت اوقضی دین غیرہ بلااذنہ والمسئلتان فی الدرالمختاروالعقود الدریۃ۔ترجمہ:یہ اس لئے ہے کہ وہ اس میں مجبورنہیں تھے نہ اس کی یہ سبیل ہے لہٰذاایساکرنے والا متبرع قرارپائے گا سوائے اس کے کہ اس نے رجوع کی شرط کی ہو جیسا کہ کوئی اجنبی میت کو کفن پہنائے یاکسی کی اجازت کے بغیر اس کا قرض اداکردے۔ یہ دونوں مسئلے درمختار اورعقودالدریہ میں مذکورہیں۔(فتاوٰی رضویہ،کتاب الشتٰی، جلد 26 ص 131،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    3:گھر کی مین یٹننس اور تعمیرات پر جو اخراجات والدین کی رضا مندی سے کئے ، اور رجوع کی شرط بھی موجود تو جس نے جتنا لگایا وہ وراثت سے اس قدر لے سکتاہے۔کیونکہ یہ قرض کی صورت ہے اور قرض میت کے مال سے تقسیم وراثت سے بھی پہلے ادا کیا جاتا ہے۔ سیدی اعلٰی حضرت لکھتے ہیں :فی العقود الدریۃ من کتاب العاریۃ سئل فی رجل بنی بمالہ لنفسہ قصرا فی دار ابیہ باذنہ ثم مات ابوہ عنہ و عن ورثۃ غیرہ فھل یکون القصر لبانیہ الجواب نعم کما صرح بذٰلک فی حاشیۃ الاشباہ۔ترجمہ: العقود الدریۃ میں کتاب العاریۃ کے بیان میں مذکور ہے، ایک ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے اپنے باپ کی اجازت سے اس کی زمین پر اپنے مال سے اپنے لئے محل بنایا پھر باپ اس سمیت دیگر ورثاء کو چھوڑ کر فوت ہوگیا تو یہ محل اس بانی کا ہوگا ۔الجواب، ہاں۔ جیسا کہ اس کی تصریح الاشباہ میں ہے۔(فتاوٰی رضویہ،کتاب الوکالۃ ،جلد 19 ص 224 رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:20جمادی الثانی 1441 ھ/15جنوری 2019 ء