ساس کے زیورات کی تقسیم کا حکم

    saas ke zewarat ki taqseem ka hukam

    تاریخ: 16 مئی، 2026
    مشاہدات: 45
    حوالہ: 1356

    سوال

    میرے شوہر کا دو سال پہلے انتقال ہوگیاہے اور ساس کا دس سال قبل کچھ روز پہلے میں نے گھر کی صفائی کی تو ساس کے کچھ زیورات مجھے ملے ہیں، اب میں ان زیورات کا کیا کروں؟ انکے ورثاء میں صرف ایک بیٹا ہے جوکہ دماغی طور پر معذور ہے ،البتہ انکی سب دیکھ بھال ہم ہی کرتے ہیں۔ انہوں نے شادی بھی نہیں کی ۔ ساس کے ورثاء میں ایک معذور بیٹے (حبیب)کے علاوہ میرے شوہر (خلیل)تھے ، شوہر کا انتقال ساس کے انتقال کے 8 سال بعد ہوا ہے ، شوہر کے ورثاء میں، ایک بیوی (فرحانہ) یعنی میں اورایک بیٹی (مہوش) ہے۔ جبکہ میرے شوہر کے سب چچا بھی پہلے ہی فوت ہوچکے اس وقت ایک چچازاد بھائی (شکیل)، چار بیٹیاں (رخسانہ، فہمیدہ، شاہین، شاہدہ) ہیں ، تقسیم کیسے ہوگی۔ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

    سائلہ:فرحانہ انجم : کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    ساس کے زیورات ورثاء میں شرعی حصص کے اعتبار سے تقسیم ہونگے جسکی تفصیل درج ذیل ہے:

    کل حصے: 16

    حبیب :11 ، فرحانہ:1، مہوش:4

    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کےمطابق ہے: بیویوں کےحصے بارے میں ارشاد ہے ۔قال اللہ تعالٰی:وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔(سورۃ النساء آیت نمبر 10، 11)

    ایک بیٹی ہو تو اس کے حصے کے بارے میں ارشاد فرمایا: وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ۔ ترجمہ کنز الایمان : اور اگر ایک لڑکی تو اس کاآدھا۔(النساء :11)

    سراجی میں ہے :والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال ۔ ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں) تو سارے مال کا مستحق ہوجائے ۔(السراجی فی المیراث ص 9)

    جو بھائی معذور ہےاسکا حصہ اپنے پاس رکھ کر اسکے معاملات میں خرچ کریں۔

    فائدہ:رقم تقسیم کرنے کاحسابی طریقہ: زیورات کی مارکیٹ ویلیو لگواکر کر فتوی میں بیان کردہ کل حصوں کو (16) پر تقسیم کریں جو جواب آئے اس جواب کو محفوظ کرلیں اور پھر اس محفوظ جواب کو ہر وارث کے حصہ سے ضرب کریں جو جواب آئے گا وہ ہر وارث کی رقم ہوگی جو بطورِ وراثت اسے اپنے مورث سے مل رہی ہے۔پھر آخر میں تمام ورثاء کی رقم کو ملاکر چیک کرلیں اگر وہ کل مجموعہ کل جائیداد کی رقم کے برابر ہے تو تقسیم درست ہے ورنہ نہیں۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:03 صفر المظفر 1445ھ/ 21 اگست 2023 ء