تحریر طلاق پر اکراہ
    تاریخ: 26 نومبر، 2025
    مشاہدات: 9
    حوالہ: 275

    سوال

    میرا نام نام عزیر علی ہے،میں نے اپنی زوجہ کو طلاق کے پیپرز بھجوائے ہیں لیکن اس میں مجھ سے زبردستی دستخط کروائے گئے ہیں،مجھ پر گھر والوں کا پریشر تھااور گھر والوں نے ہی دو لڑکے بھجوا کر مجھے ڈرانے دھمکانے کی بھرپور کوشش کی یہاں تک کہ گن پوائنٹ پر مجھے مارنے کی کوشش بھی کی گئی اور کہا کہ ’’اگر طلاق کے پیپرز پر دستخط نہ کئے تو جان سے مار دیں گے‘‘،تو اپنی جان بچانے کیلئے میں نے دستخط کردئے جبکہ میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ میں طلاق دوں اور نہ ہی میں نے اپنی زوجہ کو اپنے منہ سے طلاق دی ہے۔

    مجھے یہ ضرور بتایا گیا تھا کہ یہ طلاق کے پیپرز ہیں لیکن مجھے ہرگز پیپرز کے اندر طلاق کی تحریر کتنی دفعہ لکھی گئی ہیں اور گن پوائنٹ پر جان سے مارنے کی دھمکی اور یقین دلا کر ہی مجھ سے وہ پیپرز لڑکی والوں کے گھر بھجوائے گئے۔میں قرآن پاک کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ یہ سب معاملہ جو میں نے تحریر لکھی ہے یہ سب میرےساتھ ہوا ہے۔برائے کرم رہنمائی فرمائے کہ ایسے میں میری طلاق ہوئی یا نہیں؟

    نوٹ:سائل کے مطابق طلاق کے پیپرز بھی اسلحہ کے زور پر لڑکی کے گھر بھجوائے گئےتھے۔

    سائل:عزیر علی۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر طلاق کینیت سے طلاق کے پیپرز پردستخط نہیں کیے نہ ہی بعد میں طلاق کو جائز قرار دیا تو طلاق واقع نہیں ہوئی۔

    مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ جبر و زبردستی کی اوّلا دو صورتیں بنتی ہیں: (۱)عرفی(۲)شرعی۔

    عرفی جبر یعنی لوگ طلاق دینے پر اصرارکریں ،اس سے تو بالاتفاق طلاق واقع ہوجاتی ہے۔

    رہا شرعی جبر یعنی قتل یا عضو کاٹنےیا ضربِ شدید(یعنی ایسی مار جس سے انسان بالکل بیکار ہوجائے ) کی دھمکی دی جائے جس پر دھمکی دینے والا قادر بھی ہو تو یہ صورت جبر شرعی کی ہے۔پھر شرعی جبر سے طلاق واقع ہونے نہ ہونے کی دو صورتیں ہیں:

    (۱)زبانی طلاق پر شرعی جبر۔ (۲)تحریرِ طلاق پر شرعی جبر۔

    پہلی صورت یعنی زبانی طلاق پر شرعی جبرسے طلاق واقع ہوجاتی ہے۔البتہ دوسری صورت یعنی تحریرِ طلاق پر شرعی جبر ہو اور خاوند دل سے نیتِ طلاق نہ رکھے نہ ہی زبانی طلاق دے تو طلاق واقع نہیں ہوتی۔یہی صورت سوال میں موجود ہے کہ خاوند سے طلاق نامے پر قتل کی دھمکی دے کر دستخط کروائے گئے اور لڑکے کے گھر وہ کاغذات بھجوائے گئے ،لہذا صورت مسؤولہ میں طلاق واقع نہیں ہوئی۔

    دلائل و جزئیات:

    تحریرِ طلاق پر شرعی جبرسے طلاق واقع نہیں ہوتی،چنانچہعلامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "فَلَوْ أُكْرِهَ عَلَى أَنْ يَكْتُبَ طَلَاقَ امْرَأَتِهِ فَكَتَبَ لَا تَطْلُقُ لِأَنَّ الْكِتَابَةَ أُقِيمَتْ مَقَامَ الْعِبَارَةِ بِاعْتِبَارِ الْحَاجَةِ وَلَا حَاجَةَ هُنَا، كَذَا فِي الْخَانِيَّةُ".ترجمہ: اگر خاوند کو اپنی بیوی کو طلاق لکھنے پر شرعی جبر کیا گیا تو اس نے مجبور ہوکر لکھ دی تو طلاق نہ ہوگی، کیونکہ کتابت کو تلفّظ کے قائم مقام حاجت کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور یہاں اس کی حاجت نہیں ہے، ایسا ہی خانیہ میں ہے۔(ردالمحتار ،کتاب الطلاق،3/236،دار الفکر بیروت)

    ایسا ہی فتاوی ہندیہ و قاضی خان میں ہے۔(الفتاوی الہندیۃ،1/379،دار الکتب العلمیۃ،فتاوی قاضی خان،کتاب الطلاق،2/419،قدیمی کتب خانہ)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) سے سوال ہوا: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے کسی کے جبر وظلم سے محض ناچار ومجبور ہوکر اپنی عورت کو طلاق دے دی اور طلاق نامہ لکھ دیا اس صورت میں طلاق پڑے گی یانہیں؟

    آپ علی الرحمہ نے اس کے جواب میں فرمایا:’’اگر کسی کے جبر واکراہ سے عورت کو خطرہ میں طلاق لکھی یا طلاق نامہ لکھ دیا اور زبان سے الفاظِ طلاق نہ کہے تو طلاق نہ پڑے گی ملخصاً‘‘۔(فتاوی رضویہ،17/385،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    فقیہ اعظم نور اللہ بصیر پوری علیہ الرحمہ سے سوال ہوا : زید سےایک مجلس میں مجبور کر کے ایک لکھے ہوئے طلاق نامہ پر انگوٹھا لگوا لیا حالانکہ زید نہ اس سے پہلے طلاق دینے پر رضا مند تھا، نہ بعد میں رضا مند ہوا بلکہ جس وقت نشان انگوٹھے لگوایا گیا، اس وقت بھی انکار کرتا رہا مگر نمبر دارنے ڈرایا اور زد و کوب پر آمادگی ظاہر کی اور باہر نکلنے کے راستے اپنے ملازمین سے بند کروائے، ناچار زید نے طلاق نامہ پر اپنا انگوٹھے لگا دیا لیکن زبانی صراحۃً یا کنایۃً زید نے طلاق نہیں دی بلکہ انکار ہی کرتا رہا، آیا یہ طلاق واقع ہوئی یا نہیں، اگر ہوئی تو غیر مدخول بہاکے حق میں کونسی ہوئی ؟

    آپ علیہ الرحمہ نے اس کے جواب میں لکھا : ’’اگر صورتِ سوال صحیح ہے اور واقعی زیدانکار طلاق کرتا رہا اور جبرا انگوٹھ لگوایا گیا تو طلاق واقع نہیں ہوئی۔(فتاو ی نوریہ،3/160،دار العلوم حنفیہ فریدیہ بصیر پور ضلع اوکاڑہ)

    فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی (المتوفی:1422ھ) فرماتے ہیں:’’کمرہ میں بند کرنے پر اکراہ شرعی پایا گیا یعنی زید کو ضرررسانی کا اندیشہ ہوا اور اس نے بند کرنے والوں کو ضرر پر قادربھی سمجھا اس صورت میں اگراس نے طلاق نامہ پر انگوٹھالگا دیا مگر نہ دل میں طلاق دینے کا ارادہ کیا اور نہ زبان سے طلاق کا لفظ کہا تو طلاق واقع نہ ہوئی‘‘۔(فتاوی فیض الرسول ،2/117،شبیر برادرز)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:1رمضان المبارک1445 ھ/12مارچ2024ء