مادہ منویہ کے انتقال سے حرمت مصاہرت و تحلیل شرعی
    تاریخ: 26 نومبر، 2025
    مشاہدات: 17
    حوالہ: 278

    سوال

    کیا ٹیسٹ ٹیوب بے بی تکنیک کے ذریعے مادہ منویہ کے انتقال سے حرمت مصاہرت اور تحلیل شرعی ثابت ہوگی؟

    سائل:علامہ سید انس امجدی۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے ذریعے تحلیل شرعی ثابت نہیں ہوگی البتہ حرمت مصاہرت ثابت ہوجائے گی،کیونکہ تحلیل شرعی کیلئے مادہ منویہ کا انتقال شرط نہیں بلکہ جماع شرط ہے اور ٹیسٹ ٹیوب بے بی میں جماع کی کوئی صورت متحقق نہیں۔اسی طرح حرمتِ مصاہرت میں مقصود جزئیت و بعضیت ہے(یعنی ایسی وطی جو بچے کا سبب بنے) محض وطی حرمت ثابت نہیں کرتی اور ٹیسٹ ٹیوب بے بی میں جزئیت کا تحقق بہرحال موجود ہے کہ یہ بھی وطی کی طرح جزئیت کا سبب ہےلہذا اس کے ذریعے حرمتِ مصاہرت ثابت ہوجائے گی۔

    دلائل وجزئیات:

    تحلیل شرعی میں جماع شرط ہے،تفسیر روح المعانی میں علامہ السید محمود آلوسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "فإن طلقها بعد الثنتين... فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ أي من بعد ذلك التطليق حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ أي تتزوّج زوجا غيره، ويجامعها فلا يكفي مجرد العقد".ترجمہ:’’ پس اگر شوہر دو طلاقوں کے بعد تیسری طلاق دے دے تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہیں ہو گی حتی کہ دوسرے مرد سے نکاح کر ے اور وہ دوسرا مرد اس سے جماع بھی کر ے محض نکاح کافی نہیں ‘‘۔ ( تفسیرروح المعانی ،2/729، تحت سورۃ البقرۃ:230،مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ )

    اس کی مزید وضاحت و تشریح احادیث مبارکہ سے بیان ہوئی، چنانچہ صحیح بخاری،صحیح مسلم،مشکوۃ المصابیح اور سنن الترمذی میں روایت ہےواللفظ لہ:"عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: جَاءَتْ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ القُرَظِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي، فَبَتَّ طَلَاقِي، فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ وَمَا مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ، فَقَالَ: «أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ؟ لَا، حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ»".ترجمہ:حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سےروایت ہے؛ آپ فرماتی ہیں کہ حضرت رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ کی عورت رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور عرض کی کہ میں حضرت رفاعہ کے پاس تھی آپ نے مجھے تین طلاقیں دے دیں پھر میں نے حضرت عبد الرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے نکاح کیااور ان کو میں نے کپڑے کے پھندنے کی طرح پایا ،تو حضور ﷺ نے فرمایا کیا تو رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی ہے؟ تو یہ (واپسی اس وقت تک )جائز نہیں حتی کہ تو اس کاذائقہ چکھے اور وہ تیراذائقہ چکھے(یعنی جب تک جماع نہیں ہوتا اس وقت تک واپس نہیں جا سکتی ) ۔ (سنن الترمذی،باب النکاح، باب ما جاء فيمن يطلق امرأته ثلاثا،3/418،رقم:1118، مصطفى البابي الحلبي،صحیح البخاری،کتاب الطلاق،باب إذا طلقها ثلاثا،7/56،رقم:5317،دار طوق النجاۃ،صحیح مسلم ، باب لا تحل المطلقة ثلاثا لمطلقها حتى تنكح زوجا غيره،2/1055،رقم:1433، دار إحياء التراث العربی،مشکوۃ المصابیح،باب مطلقہ ثلاثاً،2/982،رقم:3295، المكتب الإسلامی)

    علامہ محمد بن علی علاؤ الدین الحصکفی (المتوفی:1088ھ) فرماتے ہیں:"يُشْتَرَطُ أَنْ يَكُونَ الْإِيلَاجُ مُوجِبًا لِلْغُسْلِ وَهُوَ الْتِقَاءُ الْخِتَانَيْنِ بِلَا حَائِلٍ يَمْنَعُ الْحَرَارَةَ".ترجمہ:یہ شرط ہے کہ شرمگاہ میں (آلہ تناسل کو)ایسا داخل کرنا جو کہ غسل کو واجب کرنے والا ہو،وہ (داخل کرنا) شرمگاہوں کا ملانا ہے ایسے پردہ کے بغیر جو جسمانی حرارت کا مانع ہو۔(الدر المختار،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ،3/413،دار الفکر)

    حرمت ِمصاہرت میں جزئیت کا اعتبار ہے،علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"الْعِلَّةَ هِيَ الْوَطْءُ السَّبَبُ لِلْوَلَدِ".ترجمہ:حرمت (مصاہرت) کی علّت ایسی وطی ہے جو بچے کا سبب ہو۔(رد المحتار،کتاب النکاح،فصل فی المحرمات،3/35،دار الفکر)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) نے فرمایا:"سبب الجُزئيّة التي هي سبب المُحرّميّة".ترجمہ:سبب جزئیت ہی حرمتِ مصاہرت کا سبب ہے۔(جد الممتار،فصل فی المحرمات،4/326،دار اہل السنۃ)

    اسی اصل کے فروعات سے ہے کہ غیر مشتہاۃ عورت نابالغہ سے وطی کی یا مشتہاۃ سے مقامِ دبر میں وطی کی یا محض مشتہاۃ کو چھووا لیکن اسی آن انزال کے ساتھ یا بغیر انزال کے شہوت ختم ہوگئی اسکے بعد عورت کو چھوڑا تو ان تمام صورتوں میں حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوگی کہ یہ تمام امور جزئیت کا سبب تو تھے لیکن جب مسبّب (جزئیت)متحقق نہ ہوا تو محض ان اسباب کی وجہ سے حرمت مصاہرت بھی ثابت نہیں ہوگی۔

    فقیہ النفس علامہ ابو المحاسن فخر الدین حسن بن منصور قاضی خان اوزجندی (المتوفی:592ھ) فرماتے ہیں:"ووطء الصغيرة التي لا تشتهي لا يوجب حرمة المصاهرة في قول أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى".ترجمہ: طرفین رحمہما اللہ کے نذدیک ایسی نابالغہ لڑکی جس پر شہوت نہ آتی ہو اس سے وطی حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں کرتی ۔(فتاوی قاضی خان،کتاب النکاح،باب فی المحرمات،1/316،قدیمی کتب خانہ)

    علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:"وَأَمَّا الْعِلَّةُ فِي عَدَمِ إيجَابِ وَطْءِ الدُّبُرِ الْمُصَاهَرَةَ فَالتَّيَقُّنُ بِعَدَمِ كَوْنِ الْوَطْءِ فِي الْفَرْجِ الَّذِي هُوَ مَحَلُّ الْحَرْثِ". ترجمہ:جہاں تک دبر میں وطی سے حرمت مصاہرت کے ثابت نہ ہونے کا تعلق ہے اس کی علت یہ ہے کہ یہ یقین ہے کہ وطی فرج میں نہیں ہوئی جو کھیتی کامحل ( یعنی حمل کا محل )ہے۔(رد المحتار،کتاب النکاح،فصل فی المحرمات،3/35،دار الفکر بیروت)

    علامہ محمد بن علی علاؤ الدین الحصکفی (المتوفی:1088ھ) فرماتے ہیں:"فَلَوْ أَنْزَلَ مَعَ مَسٍّ أَوْ نَظَرٍ فَلَا حُرْمَةَ بِهِ يُفْتِي".ترجمہ:اگرچھونے یا دیکھنے سے انزال ہوجائے تو اس سے حرمت (مصاہرت) ثابت نہیں ہوگی۔

    ٍ اسکے تحت علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:"لِأَنَّهُ بِالْإِنْزَالِ تَبَيَّنَ أَنَّهُ غَيْرُ مُفْضٍ إلَى الْوَطْءِ ،هِدَايَةٌ".ترجمہ:کیونکہ انزال کے ساتھ یہ واضح ہوگیا کہ اب وہ وطی کی طرف جانے والا نہیں،ہدایہ۔(رد المحتار،کتاب النکاح،فصل فی المحرمات،3/33،دار الفکر)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:9رمضان المبارک1445 ھ/20 مارچ2024ء