سوال
(۱)اگر کوئی امام اپنی بیوی کی غیر موجودگی میں کسی غیر محرم عورت کے ساتھ خلوت صحیحہ اختیار کرے وہ بھی ایک سے زیادہ بار، ڈیڑھ گھنٹہ سے بھی زیادہ کبھی مدرسے میں،کبھی مسجد میں اور کبھی اپنے گھر میں بھی ،تو کیا ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے؟
(۲)کوئی امام ایسی کمپنی کے ساتھ انویسٹ کرے کہ جو کہے کہ 25 ہزار روپے دیں اور دویا تین ماہ بعد موٹر سائیکل لے لیں ورنہ ایک ماہ بعد 25 ہزار کے بدلے 35 ہزار روپے یعنی 10 ہزار روپے زیادہ پرافٹ لے لیں۔
اگر اس معاملے کا علم محلے کے علاوہ دور دَراز کے لوگوں کو بھی ہو تو کیا ان صورتوں میں اس کی تو بہ اعلانیہ ہوگی؟اگر وہ اعلانیہ تو بہ بھی نہ کرے تو کیا حکم ہے کہ ایسے امام کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنا جائز ہے ؟
سائلین: حافظ عمران،حاجی اعظم،حافظ مبین،ارسلان مبین۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اوّلاً یہ بات تو واضح ہے کہ غیر محرم اجنبیہ عورت سے خلوت ہر مکّلف پر حرام ہےچاہے امام ہو یا امام نہ ہو۔پھر مذکورہ سرمایہ کاری کی پہلی صورت مبہم ہے کہ معلوم نہیں 25 ہزار دینے کے بعد جو مخصوص وقت پر موٹر سائیکل دی جارہی ہے وہ کس قسم کی قرعہ اندازی ہے؟ آیا دیگر افراد کی طرح اس کی بھی رقم محل خطر پر واقع ہے یا نہیں؟ یعنی اگر اس کا نام نہ آیا تو کیا رقم واپس ہوگی؟ اگر نہیں ہوگی تو یہ محل خطر ہے جو کہ جوّا (قمار)کی صورت ہے اور جوّا شریعت محمدیہ میں حرام ہے۔رہی اس سرمایہ کاری کی دوسری صورت تو اس کا سود ہونا ظاہر ہے کہ قرض دے کر اس پر مشروط اضافہ یا نفع لینا یا کیلی (ناپ کر بیچی جانے والی) یا وزنی (تول کر بیچی جانے والی) چیز کے تبادلے میں دونوں فریقوں میں سے کسی ایک کو ایسی زیادتی کا ملنا جو عوض سے خالی ہو اور عقد میں مشروط ہو’’سود‘‘ کہلاتا ہے اور یہی صورت یہاں پائی جارہی ہے۔
ثانیاًکسی پر جھوٹا الزام لگانا شرعاً انتہائی سخت گناہ اور حرام ہے، احادیث مبارکہ میں اس کے بارے میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔لہذا اگر سائلین اپنے بیان میں سچے ہوں اور امام میں مذکورہ برائیاں ہوں تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے،کیونکہ منصب ِامامت لازمِ تعظیم ہے اور فاسق معلن (یعنی جس کا گناہ کم از کم دو افراد کے سامنے ہو،یہ شرط محض فسق کے باب میں ہے توبہ کے باب میں نہیں)کی تعظیم مکروہ تحریمی اور توہین واجب ہے۔لیکن اگر امام میں مذکورہ برائیاں نہیں ہیں تو یہ الزام لگانے والے عنداللہ سخت مجرم ہونگے۔
رہ گئی بات توبہ کی ،تو جیسا گناہ ہوتا ہے ویسی ہی توبہ بھی لازم ہوتی ہے یعنی اعلانیہ گناہ کیا یا گناہ تو اعلانیہ نہ کیا لیکن خود ہی لوگوں کے سامنے گناہ کا اقرار کرلیا تو توبہ اعلانیہ لازم ہوگی۔اور اگر گناہ اعلانیہ نہ کیا بلکہ کسی ایک فرد کے سامنے کیااور اس نے کئی لوگوں میں گناہ کا اعلان کردیا تو اب اعلانیہ توبہ نہیں بلکہ پوشیدہ توبہ کافی ہے کہ گناہ کا اظہار بھی گناہ ہوتا ہے۔
دلائل و جزئیات:
فاسق کو امام بنانے کے حوالے سےحاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:"كره إمامة الفاسق... فتجب إهانته شرعا فلا يعظم بتقديمه للإمامة... ومفاده كون الكراهة في الفاسق تحريمية ".ترجمہ:فاسق کی امامت مکروہ ہے،اس کی توہین شرعاً واجب ہے پس امامت کیلئے اسے آگے کرکے اسکی تعظیم نہیں کی جائے گی۔اسکا مفاد یہ ہے کہ فاسق کی امامت میں کراہت تحریمی ہو۔(حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح،کتاب الصلاۃ،فصل فی بیان الاحق بالامامۃ،1/303،دار الکتب العلمیۃ بیروت)
علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"وأما الفاسق فقد عللوا كراهة تقديمه بأنه لا يهتم لأمر دينه، وبأن في تقديمه للإمامة تعظيمه، وقد وجب عليهم إهانته شرعا".ترجمہ:بہرحال فاسق تو علماء کرام نے اس کو امامت کیلئے آگے کرنے کو مکروہ فرمایا ہے اس وجہ سے کہ وہ اپنے دینی معاملات کا اہتمام نہیں کرتا اور امامت کیلئے ایسے کو مقدم کرنا اسکی تعظیم کرنا ہے جبکہ شرعاً اسکی توہین کرنا واجب ہے۔(رد المحتار،کتاب الصلاۃ،باب الامامۃ،1/560،دار الفکر)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’فاسق وہ کہ کسی گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا اور وہی فاجر ہے، اور کبھی فاجر خاص زانی کو کہتے ہیں ، فاسق کے پیچھے نماز مکر وہ ہے پھر اگر معلن نہ ہو یعنی وہ گناہ چھپ کر کرتا ہو معروف و مشہور نہ ہو تو کراہت تنزیہی ہے یعنی خلاف اولی ، اگر فاسق معلن ہے کہ علانیہ کبیرہ کا ارتکاب یا صغیرہ پر اصرار کرتا ہے تو اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پڑھ لی تو پھیر نی واجب‘‘۔(فتاوی رضویہ، کتاب الصلاۃ ، باب الامامۃ، 6/601،رضافاؤنڈیشن لاہور)
فسق کے باب میں اعلان دو افراد سے بھی متحقق ہوجاتا ہے،چنانچہ امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’سب میں ادنی درجہ کا اعلان اگر چہ دو کے سامنے بھی حاصل ہو سکتا ہے كما اجاب علماؤنا تمسك الامام مالك في اشتراط الاعلان بحديث اعلنوا النكاح ان من اشهد فقداعلن كما في مختصر الكرخي ومبسوط الامام محررالمذهب وغیرھما جیساکہ ہمارے علماء کرام نے حضرت امام مالک کو ان کے استدلال سے جواب دیا کیونکہ امام مالک نے حدیث اعلنوا النکاح (لوگو! نکاح کا اعلان کیا کرو) سے نکاح کے لئے اسے شرط قرار دیا ہے ہمارے ائمہ نے فرمایا: جو شخص نکاح پر گواہ بنائیگا تو بلاشبہ اس نے نکاح کا اعلان کردیا،جیسا کہ مختصر کرخی اور محرّرِ مذہب امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی مبسوط اور ان دو کے علاوہ دوسری کتابوں میں مذکورہے‘‘۔(فتاوی رضویہ، کتاب الحظر والاباحۃ ، 21/145،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
امام اہلسنت الزھد لامام احمد و طبرانی کے حوالہ سے حدیث پاک نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"اِذَا عَمِلْتَ سَيِّئَةً فَأحْدِثْ عِنْدَهَا تَوْبَةَ السِّرِّ بِالسِّرِّوَ الْعَلَانِيَةَ بِالْعَلَانِيَةِ".ترجمہ:جب تو برائی کرے تو اسی وقت توبہ کر، مخفی کی مخفی اور علانیہ کی علانیہ۔(فتاوی رضویہ ،کتاب الوقف،باب المسجد،16/399،رضافاؤنڈیشن لاہور)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ جاراء:15 رمضان المبارک1445 ھ/26 مارچ2024ء