رجو ع کا طریقہ اور حاملہ کی طلاق کا حکم

    ruju ka tareeqa aur hamila ki talaq ka hukm

    تاریخ: 21 ستمبر، 2026
    مشاہدات: 55
    حوالہ: 1777

    سوال

    میں سید راشد نے اپنی 5 ماہ کی حاملہ بیوی کو ان الفاظ کے ساتھ ایک ہی طلاق دی تھی 'میں تمہیں تمہاری نافرمانی کی وجہ سے ایک طلاق دیتاہو'کیا نکاح باقی رہا؟کیا دوبارہ نکاح کی ضرورت ہے ؟مرد کس طرح رجوع کرے گا ؟حاملہ عورت کے لیے شرعی طور پر کیا حکم ؟طلاق کے الفاظ کے بعد میں خاموش تھا ایک طلاق عورت کے اکسانے پر غصے کی حالت میں یعنی اس کے مانگنے پر۔

    سائل: سید راشد


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت کا حکم یہ ہے کہ جب آپ نے اپنی بیوی کو مذکورہ الفاظ کے ساتھ طلاق دی تو اس سے ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی۔ دورانِ عدت آپ کو رجوع کا اختیار ہے۔ دوبارہ نکاح کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ عدت کے دوران آپ کا نکاح برقرار ہے۔ آپ کی بیوی چونکہ حاملہ ہے، اس لیے اس کی عدت وضعِ حمل، یعنی بچہ پیدا ہونے تک ہے۔

    رجوع کا طریقہ یہ ہے کہ دورانِ عدت زبان سے الفاظِ رجوع کہے، مثلاً یہ کہہ دے: ’’میں نے اپنی بیوی سے رجوع کیا‘‘ یا ’’اسے اپنے نکاح میں واپس لیا‘‘ وغیرہ، اور اس پر دو عادل مردوں کو گواہ بھی کرلے، نیز بیوی کو اس کی خبر بھی دے دے، تاکہ وہ عدت گزرنے کے بعد کسی اور سے نکاح نہ کرلے۔ اسی طرح عورت کے سامنے بھی الفاظِ رجوع ادا کیے جاسکتے ہیں، مثلاً اس سے کہے: ’’میں نے تم سے رجوع کیا‘‘ یا ’’تمہیں اپنے نکاح میں واپس لیا‘‘ وغیرہ، اور اس پر دو عادل مردوں کو گواہ کرلے۔اگر زبان سے الفاظِ رجوع کہنے کی بجائے فعل سے رجوع کیا، مثلاً بیوی سے ازدواجی تعلقات قائم کرلیے یا شہوت کے ساتھ بوسہ لیا وغیرہ، تو بھی رجوع ہوجائے گا، مگر یہ مکروہ اور خلافِ سنت ہے؛ کیونکہ رجوع کا مسنون طریقہ یہی ہے کہ عدت کے دوران شوہر گواہوں کے سامنے کسی لفظ کے ساتھ رجوع کرے۔ لہٰذا اگر فعل سے رجوع کرلیا تو بہتر ہے کہ بعد ازاں گواہوں کے سامنے الفاظ کے ساتھ بھی رجوع کرے۔

    عموماً لوگوں کے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ حاملہ عورت کو طلاق نہیں ہوتی اور غصے کی حالت میں بھی طلاق نہیں ہوتی، حالانکہ یہ جہالت پر مبنی بات ہے۔ حاملہ عورت کو بھی طلاق ہوجاتی ہے اور اس کی عدت وضعِ حمل ہے۔ یہی قرآن و حدیث کا فیصلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں حاملہ عورتوں کی عدت خود بیان فرمائی ہے۔ اسی طرح غصے کی حالت میں بھی طلاق ہوجاتی ہے، بلکہ اکثر طلاق غصے ہی کی حالت میں دی جاتی ہے؛ کوئی شخص خوشی سے طلاق نہیں دیتا۔

    دلائل و جزئیات :

    اللہ تعالٰی کا فرمان مبارک ہے"اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ۪-فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍؕ ترجمہ کنز الایمان : یہ طلاق دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نکوئی (اچھے سلوک )کے ساتھ چھوڑ دینا ہے ۔(البقرہ :229)

    طلاقِ رجعی کے بعد نکاح ختم نہیں ہوتا، لیکن اگر عدت گزر جائے اور شوہر نے رجوع نہ کیا ہو تو نکاح ختم ہوجاتا ہے۔أَمَّا الطَّلَاقُ الرَّجْعِيُّ فَالْحُكْمُ الْأَصْلِيُّ لَهُ هُوَ نُقْصَانُ الْعَدَدِ، فَأَمَّا زَوَالُ الْمِلْكِ، وَحِلُّ الْوَطْءِ فَلَيْسَ بِحُكْمٍ أَصْلِيٍّ لَهُ لَازِمٍ حَتَّى لَا يَثْبُتَ لِلْحَالِ، وَإِنَّمَا يَثْبُتُ فِي الثَّانِي بَعْدَ انْقِضَاءِ الْعِدَّةِ، فَإِنْ طَلَّقَهَا وَلَمْ يُرَاجِعْهَا بَلْ تَرَكَهَا حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا بَانَتْ، وَهَذَا عِنْدَنَا‘‘. ترجمہ : رہی طلاقِ رجعی، تو اس کا اصل حکم نکاح میں موجود طلاقوں کی تعداد میں کمی واقع ہونا ہے۔ رہا نکاح کی ملکیت کا زائل ہونا اور وطی کا حلال نہ رہنا، تو یہ طلاقِ رجعی کا کوئی ایسا اصلی اور لازم حکم نہیں کہ فوراً ہی ثابت ہوجائے، بلکہ یہ حکم بعد میں، عدت گزرنے کے بعد ثابت ہوتا ہے۔ چنانچہ اگر شوہر نے بیوی کو طلاق دی اور رجوع نہ کیا، بلکہ اسے اسی حال میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ اس کی عدت گزر گئی، تو وہ عورت نکاح سے بائن ہوجائے گی۔ ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔( بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الطلاق، فصل في بيان حكم الطلاق،ج:3،ص:180، دار الكتب العلمية)

    امامِ اہلِسنت سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ رجوع کے طریقے کے بارے لکھتے ہیں :’’اور طریقِ رجعت یہ ہے کہ مطلّقہ سے ایامِ عدت میں یہ الفاظ کہے کہ میں نے تجھے پھیر لیا یاردکیا یا روک لیا یا اَمثال اس کے کہے یا مابین عدت مس کرے یا بوسہ لے یا جماع کرے۔بہتر طریقِ او ل ہے “ ۔(فتاویٰ رضویہ، ج12،ص368، رضا فاؤنڈیشن )

    اسی صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں ہے:”رجعت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ کسی لفظ سے رجعت کرے اور رجعت پر دو عادل شخصوں کو گواہ کرے اور عورت کو بھی اس کی خبر کردے کہ عدّت کے بعد کسی اور سے نکاح نہ کرلے اور اگر کرلیا ، تو تفریق کردی جائے ، اگرچہ دخول کر چکا ہو کہ یہ نکاح نہ ہوا اور اگر قول سے رجعت کی مگر گواہ نہ کيے یا گواہ بھی کيے مگر عورت کو خبر نہ کی ، تو مکروہ خلافِ سنت ہے ، مگر رجعت ہو جائے گی اور اگر فعل سے رجعت کی مثلاً اُس سے وطی کی یا شہوت کے ساتھ بوسہ لیا یا اُس کی شرمگاہ کی طرف نظر کی ، تو رجعت ہو گئی ، مگر مکروہ ہے۔اُسے چاہيے کہ پھر گواہوں کے سامنے رجعت کے الفاظ کہے۔“(بہار شریعت،ج2،حصہ 8،ص 170،171، مکتبۃ المدینہ ، کراچی)

    اعلیحضرت عظیم البرکت الشاہ امام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن غصہ کی حالت میں طلاق دینے کے حوالے سے لکھتے ہیں: غصّہ مانعِ وقوعِ طلاق نہیں، بلکہ اکثر وہی طلاق پر حامل ہوتا ہے، تو اسے مانع قرار دینا گویا حکمِ طلاق کا راساً ابطال ہے۔ (فتاوی رضویہ،جلد12،صفحہ383،رضافاؤنڈٰیشن)

    اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حاملہ عورتوں کی عدت بیان کی ہے،اور طلاق کی عدت اسی کی ہوتی ہے جو مطلقہ ہو،لہذا حالت حمل میں بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ۔ترجمہ: اور حمل والیوں کی میعاد یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جَن لیں۔( الطلاق:4)

    سنن کبری للبیہقی میں ہے:عن أم كلثوم بنت عقبة أنها كانت تحت الزبير فطلقها وهي حامل فذهب الى المسجد فجاء وقد وضعت ما في بطنها فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر له ما صنع فقال: بلغ الكتاب أجله.ترجمہ:حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ وہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں، انہوں نے حمل کی حالت میں انہیں طلاق دے دی۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ مسجد نبوی کی طرف آرہے تھے، وہ مسجد میں پہنچے، تو ام کلثوم نے اپنے پیٹ میں موجود بچے کو پیدا کیا۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور اپنا معاملہ عرض کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کتاب اپنی مدت کو پہنچ گئی۔ (یعنی قرآن میں حاملہ کی عدت بچہ پیدا ہونا ہے، وہ عدت پوری ہوگئی)۔ (سنن کبری للبیهقی، باب عدۃ الحامل المطلقۃ، جلد3، صفحہ154، مطبوعہ کراچی)

    والله تعالى اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمّد سجاد سلطانی

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:27ربیع الاول 1448ھ/10ستمبر2026ء