جاؤ میری طرف سے آزاد ہو
    تاریخ: 14 جنوری، 2026
    مشاہدات: 9
    حوالہ: 585

    سوال

    چھ ماہ پہلے ہم میاں بیوی کے درمیان لڑائی ہوئی ،تو شوہر نے غصہ میں آ کر میرے بھائی کو کال کی کہ وہ مجھے آ کر لے جائے ،وہ مجھے رکھنا نہیں چاہتے،اور مجھے چھوڑ رہے ہیں۔اس کے کچھ دن بعد ہمارا پھر سے جھگڑا ہوا تو شوہر نے میرا بازو پکڑ کر دروازے میں لا کر کہا کہ میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو جہاں مرضی جاؤ ،میری طرف سے آزاد ہو ۔اور ابھی کچھ دن پہلے رمضان میں جھگڑا ہوا اور میں نے بھی کہا کہ مجھے نہیں رہنا ،اور مجھے فیصلہ چاہیے،تو انھوں نے اسی وقت غصہ میں آکر میری امی کو کال کی اور کہا کہ:میں اسے فارغ کر کے گھر بھیج رہا ہوں ۔

    فیصلہ دے کر گھر بھیج رہا ہوں۔ہمارے درمیان کافی مرتبہ اسی طرح کی لڑائی ہوئی ،چھوٹی چھوٹی بات پہ بول دیتے ہیں کہ جاؤ جا کر کوئی ڈھونڈ لو ،کوئی اور پسند کر کے شادی کر لو ۔اور ایک بار مجھ سے کہا کہ مجھ سے طلاق لیکر کسی اورسے نکاح کر لو ۔اور ایک بار کہا کہ تم دوسری شادی کر لو ،میرے ساتھ خوش نہیں ہو تو ۔میری رہنمائی فرمائیں کہ طلاق ہو گئی کہ نہیں ؟

    نوٹ:میاں بیوی دونوں کا کہنا ہے کہ جتنی بار بھی شوہر نے کہا کہ میں فارغ کر کے گھر بھیج رہا ہوں تو گھر نہیں بھیجا ۔نیز شوہر اسی پر مصر ہے کہ اس نے ان جملوں میں سے کسی ایک سے بھی طلاق کا قصد نہیں کیا ۔ سائلہ :بنت حوا


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    شوہر کی جانب سے کہے گئے اس جملہ(میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو جہاں مرضی جاؤ ،میری طرف سے آزاد ہو)سے ایک طلاق رجعی واقع ہوئی ہے ۔اس لیے کہ مذکورہ جملہ ہمارےت نزدیک ملحق بالصریح ہے،اور صریح میں نیت کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا ۔

    دوسری بار جو جھگڑا ہوا تو آپ کے اس مطالبہ(کہ مجھے نہیں رہنا ،اور مجھے فیصلہ چاہیے)کے جواب میں جو اس نے اپنی امی کو کال کر کے کہا کہ : میں اسے فارغ کر کے گھر بھیج رہا ہوں۔یہ ارادہ طلاق ہے ،اور ارادہ طلاق،طلاق نہیں ،جس کی تائید سیاقِ کلام کرتا ہے۔

    نیز آخری کے دو جملے ( مجھ سے طلاق لیکر کسی اورسے نکاح کر لو ۔اور ایک بار کہا کہ تم دوسری شادی کر لو ،میرے ساتھ خوش نہیں ہو تو ) کی بابت بھی شوہر کا حلفاً یہ کہنا ہے کہ طلاق کی نیت نہ تھی تو اس سے بھی وقوعِ طلاق نہیں ہو گا ۔

    رد المحتار میں ہے : لوقال اذھبی فتزوجی وقال لم انوالطلاق لایقع شیئ لان معناہ ان امکنکترجمہ: اگر کچھ نیت نہ کی تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ اس کا معنی یہ ہے کہ اگرتجھے ممکن ہو(اور کسی اور سے نکاح طلاق کے بغیر ممکن نہیں)۔(رد المحتار ،باب تفویض الطلاق ،جلد03،صفحہ314،دار الفکر بیروت )

    امامِ اہلسنت علیہ الرحمہ اسی طرح کے سوال کے جواب میں لکھتے ہیں :اگر بہ نیّتِ طلاق تھا ایک طلاق بائن گئی، اور اگر بقسم کہے کہ میری نیّت طلاق کی نہ تھی قبول کرینگے اور وقوعِ طلاق کا حکم نہ دیں گے۔عالمگیریہ میں عنایہ سے ہے: لوقال تزوجی ونوی الطلاق اوالثلاث صح وان لم ینوشیئا لم یقع ترجمہ:اگر خاوند بیوی کو کہے کہ تو نکاح کرلے، طلاق کی نیت یا تین طلاقوں کی نیت کی ہونیت کے مطابق ایک یا تین طلاقیں صحیح ہوں گی اور اگر کچھ نیت نہ کی تو واقع نہ ہو گی۔(فتاوی رضویہ جلد 12صفحہ 570 رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔

    لہذا آپکو ایک طلاق واقع ہو چکی ہیں ،اگر رجوع کرنا چاہیں تو عدت کے اندر زبانی کلامی یا پھر ایسا فعل کرنے سے جس سے میاں بیوی کا تعلق واضح ہوتا ہو رجوع ہو جائے گا ۔اور عدت مکمل ہو نے کے بعد کسی اور جگہ شادی کرنا چاہیں تو کر سکتی ہیں ،نیز اگر اسی شخص سے رجوع کرنا چاہیں تو گواہوں کی موجودگی میں از سرے نو نکاح کرنا ہو گا جس میں حق مہر بھی شامل ہو گا ۔اور پھر اس کے بعد شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا حق باقی بچے گا ،جب کبھی شوہر دوطلاقیں دے گا تو پھر آپ حرمتِ مغلظہ کے ساتھ نکاح سے نکل جائیں گی ۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد یونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 30شوال المکرم 1442 ھ/10 جون 2021ء