الفاظِ طلاق میں میاں بیوی کا اختلاف
    تاریخ: 14 جنوری، 2026
    مشاہدات: 14
    حوالہ: 590

    سوال

    میرے شوہر نے پہلی بار کہا میں اسے چھوڑتا ہوں ۔دوسری بار میری ساس اور میرے بچوں کی موجودگی میں کہا۔ اسے چھوڑتا ہوں ،اسے فارغ کرتا ہوں، آزاد کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر باہر چلے گئے ۔

    سائلہ: ثمینہ ناز: کراچی۔

    میں نے پہلی دفعہ ایک بار کہا میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔پھر رجوع کرلیا۔ دوسری دفعہ کہا اللہ اور اسکےرسول کو حاضر ناظر جان کر اپنی بیوی ثمینہ ناز کو فیصلہ دیتا ہوں اور فارغ کرتا ہوں۔ اور نیت میری طلاق کی تھی۔

    سائل:محمد کاشف : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    بیوی اور شوہر دونوں کے بیان اگر چہ لفظ کے اعتبار سے مختلف ہیں،لیکن دونوں کا حکم ایک ہی ہے۔یعنی دونوں کا حکم یہ ہے کہ ہر ایک کے بیان کے مطابق تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں۔جس کے بعد بیوی شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے ، اب دونوں کا ساتھ رہنا جائز نہیں ہے۔

    بیوی کے بیان کے مطابق تین طلاقوں کا وقوع:

    بیوی کے بیان کے مطابق پہلی بار کہا '' اسے چھوڑتا ہوں''تو اس سے ایک طلاق رجعی بغیر نیت کے واقعی ہوگئی جیساکہ سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں :''عورت کو چھوڑدینا عرفاً طلاق میں صریح ہے، خلاصہ وہندیہ میں ہے: لوقال الرجل لامرأتہ تراچنگ باز داشتم او بہشتم اویلہ کردم ترااوپاے کشادہ کردم ترافھذاکلہ تفسیر قولہ طلقتک عرفا حتی یکون رجعیا ویقع بدون النیۃ ترجمہ: ترجمہ :اگر کوئی شخص بیوی کو کہے''میں نے تیرا چنگل باز رکھا، تجھے چھوڑا، تجھے جُدا کردیا ہے یا تیرے پاؤں کھول دئے ہیں، تویہ تمام الفاظ عرفاً''تجھے طلاق دی'' کے ہم معنٰی ہیں، اس لئے ان سے رجعی طلاق ہوگی اور بغیر نیت طلاق ہوگی۔(فتاوی رضویہ کتاب الطلاق جلد 13 ص 582)

    حضرت صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی میں فرماتے ہیں :'' اردو میں یہ لفظ کہ '' میں نے تجھے چھوڑا''، صریح ہے اس سے ایک رجعی ہوگی، کچھ نیت ہو یا نہ ہو۔''(بہار شریعت حصہ 8جلد 2ص 116)

    اب آئندہ شوہر کو محض دو طلاق کا حق باقی تھا۔

    پھر جب دوسری بار کہا '' اسے چھوڑتا ہوں ،اسے فارغ کرتا ہوں، آزاد کرتا ہوں'' ان الفاظ میں سے پہلے دو الفاظ یعنی اسے چھوڑتا ہوں، اسے فارغ کرتا ہوں '' سے باقی دو طلاقیں بھی واقع ہوکر تین کا عدد مکمل ہوگیا ۔اور ''آزاد کرتا ہوں'' بولنا بے کار گیا۔کیونکہ چھوڑتا ہوں سے بلانیت طلاق رجعی واقع ہوتی ہے جیساکہ ابھی گزرا اور اسے فارغ کرتا ہوں بھی بابِ طلاق میں صریح لفظ ہے۔جیساکہ میں فقیہ العصر ، تاج الفقہاء مفتی وسیم اختر المدنی اپنے مبسوط فتوٰی بنام ''طلاق کےالفاظ صریح وکنایہ پرایک مبسوط فتوى'' میں فرماتے ہیں:ہمارے نزدیک اردو زبان کے الفاظ '' میں نے تمہیں فارغ کیا '' یا ''تم میری طرف سے فارغ ہو'' کی وضع طلاق کے لئے نہیں ہے اس لئے فقہاء کرام نے انہیں کنایہ شمار فرمایا تھا۔لیکن بحکمِ مقدمہ خامسہ پاکستان کے اکثر شہروں میں یہ الفاظ طلاق کے لئے کثیر الاستعمال ہونے اور عرف و عادت کی وجہ سے ملحق بالصریح ہیں۔کیونکہ آک کل جب بھی کوئی شخص یہ الفاظ بولتا ہے تو بغیر کسی قرینہ خارجیہ کے متبادر الی الفہم طلاق کے معنٰی ہی ہوتے ہیں ۔لہذا بحکمِ مقدمہ اولٰی ان الفاظ سے ہر حال میں بلانیت طلاق واقع ہوجائے گی۔اور ایک سے زائد بار بولنے کی صورت میں پہلے والی دوسری کو لاحق ہو گی۔اور تین بار بولا تو طلاق بائنہ مغلظہ وقوع پذیر ہوگی۔(ماخوذ از وسیم الفتاوٰی، حوالہ نمبر 7382 غیر مطبوعہ)

    شوہر کے بیان کے مطابق تین طلاقوں کا وقوع:

    بیوی کے بیان کے مطابق پہلی بار کہا ''میں تمہیں طلاق دیتا ہوں''تو اس سے ایک طلاق رجعی بغیر نیت کے واقعی ہوگئی،پھر رجوع کرلیا تو آئندہ محض دو طلاقوں کا حق باقی رہا۔پھر دوسری باربنیتِ طلاق کہا ''میں فیصلہ دیتا ہوں اور فارغ کرتا ہوں '' ان الفاظ کے ذریعے مابقی دو طلاقیں بھی واقع ہوگئیں اور تین طلاقیں مکمل ہوگئیں۔کیونکہ شوہر کا بنیتِ طلاق '' میں فیصلہ دیتا ہوں''کہنے سے ایک طلاق بائن واقع ہوگئی پھر اسکے بعد ''میں فارغ کرتا ہوں'' کہنے سے ایک اور ،رجعی واقع ہوگئی۔ (جیساکہ گزرا)پھر یہ دونوں مل کر دو بائن ہو گئیں۔جیساکہ تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے: والبائن يلحق الصريح۔ترجمہ: اور بائن صریح کو لاحق ہوجاتی ہے۔

    اسکے تحت علامہ شامی لکھتے ہیں:وإذا لحق الصريح البائن كان بائنا لأن البينونة السابقة عليه تمنع الرجعة كما في الخلاصة۔ ترجمہ:اور جب صریح ،بائن کو لاحق ہوجائے تو بائن ہوجاتی ہے کیونکہ سابقہ طلاق بائن رجوع سے مانع ہے (لہذا یہ رجعی بھی رجوع سے مانع ہوگی) جیساکہ خلاصہ میں ہے۔(تنویرالابصار مع الدر المختار و حاشیہ ابن عابدین شامی، کتاب الطلاق،باب الکنایات ج3ص 306)

    تین طلاقیں واقع ہونے کے بعد عورت حرام ہوجاتی ہے۔اسکےبعدمیاں بیوی کا ساتھ رہنا حرام ہے ،اب اگر دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اس کے لئے اللہ تعالی کے حکم حلالہ شرعی پر عمل کرنا ہوگا ،ارشاد باری تعالی ہے:فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا أَنْ یَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ یُقِیمَا حُدُودَ اللَّہِ وَتِلْکَ حُدُودُ اللَّہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ ''ترجمہ کنز الایمان:پھر اگر تیسری طلاق دے دی تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے ،پھر وہ دوسرا اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ آپس میں مل جائیں ،اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نبھائیں گے اور اللہ یہ حدود ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کےلئے ''( البقرہ 230)

    حدیث پاک میں حلالہ کابیان واضح طور پر موجود ہے، بخاری میں ہے:عن عائشة رضي الله عنها جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم فقالت كنت عند رفاعة فطلقني فأبت طلاقي فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير إنما معه مثل هدبة الثوب فقال أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك :ترجمہ: حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضرت رفاعہ کی بیوی نبی کریم ﷺ کےپاس آئیں اورعرض کی کہ میں پہلےرفاعہ کی بیوی تھی توانہوں نے مجھے طلاق دےدی پھرمیں نےعبدالرحما ن بن زبیرسےنکاح کیالیکن وہ نرم کپڑےکی طرح ہیں( یعنی مردانہ اعتبار سے)تونبی کریمﷺنےارشاد فرمایاکہ کیاآپ رفاعہ کےپاس واپس جاناچاہتی ہیں انہوں نےعرض کی ہاں!آپ نےکیاجب تک تم اورعبدالرحمان ایک دوسرےکےشہدسےنہ چکھ لو(یعنی ازدواجی تعلقات قائم نہ کرلواس وقت تک)نہیں جاسکتی۔( صحیح البخاری کتاب الشہادات باب شہادۃ المختبی حدیث نمبر 2639)

    امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ المنان حلالہ کی وضاحت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :''حلالہ کے یہ معنٰی ہیں کہ اس طلاق کے بعد عورت حیض والی ہے تو اسے تین حیض ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نو برس سے کم عمر لڑکی ہے یا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اسکی طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزر جائیں یا اگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے ،اس وقت اس طلاق کی عدت سے نکلے گی۔اسکے بعد دوسرے شخص سے نکاح بر وجہ صحیح کرے۔۔۔وہ اس سے ہم بستری بھی کرے اور اس کے بعد طلاق دے اور اس طلاق کی عدت گزر لے کہ تین حیض ہوں اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے اور حمل رہ جائے تو بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے''۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 12ص 84 رضا فاؤنڈیشن کراچی)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 20 صفر المظفر 1442 ھ/08 اکتوبر 2020 ء