دائن کے دین کی صورتیں
    تاریخ: 14 جنوری، 2026
    مشاہدات: 14
    حوالہ: 587

    سوال

    وہ دین یا قرض جو لوگوں سے ہم نے وصول کرنا ہوتا ہے اس پر زکوۃ ہو گی کہ نہیں ؟ مہربانی فرما کر تفصیلی جواب عنایت فرمائیں !

    سائل:علامہ عمر نقشبندی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    وہ دین جو دوسروں سے ہم نے وصول کرنا ہوتا ہے فقہی لحاظ سے اس کی تین صورتیں(دین قوی ،دین متوسط ،دین ضعیف ) بنتی ہیں۔دیونِ ثلاثہ کےحوالے سے مختلف اعتبارات سے تعریفات کی گئی ہیں لیکن اس باب میں سب سے عمدہ تعریف (تعریف بالافراد) ہے،اس لیے کہ مسائل کی بنا رکھنے میں اس میں آسانی ہوتی ہے ۔چناچہ علامہ حصکفی علیہ الرحمہ نے اسی منہج کو اختیار کیا ہے ۔

    تعریفات ملاحظہ ہوں!

    دین قوی کی تعریف

    اس سے مراد تین چیزیں ہیں جو دین قوی بنتی ہیں:

    (1) قرض

    (2)مال تجارت کا بدل یعنی وہ مال جسے ا صطلاح فقہی میں مالِ تجارت کہا جا سکے۔

    (3)مال تجارت کو کسی نے کرائے پر دے دیا تو اس کا جو عوض آئے گا وہ بھی دین قوی بنے گا ۔

    علامہ علاؤ الدین حصکفی علیہ الرحمہ دین قوی کی بابت لکھتے ہیں :القوي كقرض (وبدل مال تجارة)۔دین قوی سے مراد جیسے قرض اور مالِ ِتجارت کا بدل۔(الدر المختار مع تنویر الابصا ر جلد 02،صفحہ 305 دار الفکر بیروت)

    سیدی سندی مولائی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے دین قوی میں خانیہ کے حوالے سے ایک اور قید کو بڑھایا ہے،لکھتے ہیں:ومن ذالک اجرۃ ماکان للتجارۃ کدار او عبید شراھما للتجارۃ ثم آجرھما ،فانھما بالاجارۃ خرجا من التجارۃ لکن اجرتھما یکون من القوی ،۔ترجمہ:اور اسی میں سے اس چیز کی اجرت ہے جو تجارت کے لیے ہو جیسے گھر اور غلام جنھیں تجارت کی غرض سے خریدا گیا ہو ۔پس یہ دونوں اجارہ ے(پر دینے)کی وجہ سے تجارت سے نکل گئے ہیں لیکن ان دونوں کی اجرت دین قوی میں سے ہو گی ۔(جد الممتار جلد 04 ،صفحہ 12،دار الفقیہ )

    دین متوسط کی تعریف

    مالِ تجارت کے علاوہ کوئی اور چیز بیچی تو اس کا جو ثمن مشتری کے ذمہ لاز م ہے ،وہ دین متوسط کہلاتا ہے ۔اس کی مثالیں جیسے گاڑی بیچنا ۔رہائشی مکان فروخت کرنا ۔مورث کا وہ دین جو کسی شخص پر تھا ، مورث کی وفات کے بعد وْرثا کے حق میں وہ دین متوسط ہے ۔

    علامہ علاؤ الدین حصکفی علیہ الرحمہ دین متوسط کی بابت لکھتےہیں:

    منبدلماللغيرتجارةوهوالمتوسطكثمنسائمةوعبيدخدمةونحوهمامماهومشغولبحوائجهالأصليةكطعاموشرابوأملاك۔ترجمہ :مال تجارت کے علاوہ کسی اور چیز کا بدل دین متوسط کہلاتا ہے جیسے سائمہ (چرائی کے جانوروں ) کا ثمن،اور خدمت کے غلاموں وغیرہا ان چیزوں کا ثمن جو انسان کی حاجا ت اصلیہ میں مشغول ہو جیسے کھانے پینے کی چیزیں اور گھر ۔(الدر المختار مع تنویر الابصا ر جلد 02،صفحہ 305 دار الفکر بیروت)

    اس سے آگے دین متوسط کے ایک اور فرد کا ذکر کرتے ہیں:ومثلهمالوورثديناعلىرجل۔ترجمہ اور اس کی مثل یہ صورت بھی ہے کہ اگر وارث کسی مرد (مدیون)پر دین کا وراث بنے ۔

    امام اہلسنت علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:متوسط کہ کسی مال غیر تجارتی کا بدل ہو، مثلاًگھر غلّہ یا اثاث البیت، یا سواری کا گھوڑا کسی کے ہاتھ بیچا، یونہی اگر کسی پر کوئی دین اپنے مورث کے ترکہ میں ملا تو مذہبِ قوی پر وُہ بھی دین متوسط ہے۔(فتاوی رضویہ جلد 10 صفحہ163رضا فاؤنڈیشن لاہور )

    دین ضعیف کی تعریف

    دينِ ضعيف کی بابت علامہ حصکفی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:وهو (بدلغيرمال) كمهروديةوبدلكتابةوخلع۔ترجمہ:اور یہ مال کے علاوہ کسی اور چیز کا بدل جیسے مہر ،دیت ، بدلِ کتابت ا وربدل ِ خلع۔

    اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے دین ضعیف میں ایک اور قید کا اضافہ فرمایا ہے ،لکھتے ہیں:اولی مالیس بدل مال لیشمل مالیس بدلا اصلا کالدین الموصی۔ترجمہ:اولی یہ ہےجودین کسی مال کا بدل نہ اس لیے کہ یہ اس دین کو بھی شامل ہو جائے گا جو اصلا بدل نہیں بنتا جیسے دین وصیت ۔(جد الممتار جلد 04 ،صفحہ 16،دار الفقیہ )

    دین ضعیف میں خلاصہ یہ ہوا کہ:

    وہ اصلا مال کا بدل نہ ہو جیسے دین وصیت اگر ہو تو مال کا نہ ہو جیسے مہر ،دیت ، بدلِ کتابت ا وربدل ِ خلع۔

    فائدہ : وہ رقم جو منافع بیچنےپر ملتی ہے ہو وہ اگر کسی کے ذمہ ہو تو وہ بھی دین ضعیف میں شمار ہو گی جیسے غیر تجارتی مکان ،دکان وغیرہا کو کرائے پر دینا۔ امام اہلسنت علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : یا مکان زمین کہ بہ نیّت تجارت نہ خریدی تھی اُن کا کرایہ چڑھا قسم سوم کے دین پر۔(فتاوی رضویہ جلد 10 صفحہ 162 رضا فاؤنڈیشن لاہور )

    علی الترتیب تینوں کے احکامات

    1:۔دین قوی کا حکم

    گزشتہ سالوں کی زکوۃ لازم آئے گی۔ادئیگی اس وقت لازم آئے گی جب نصاب کےکم از کم پانچویں حصے پر قبضہ ہو جائے گا۔مثلاً زید کو دین قوی کی مد میں سے 500000 پانچ لاکھ ملنے تھے تو جب تک خمسِ نصاب (جو کہ آج کی تاریخ 29/04/2022 /میں 16800 روپےبنتے ہیں)پر قبضہ نہیں کر لیتا، زکوۃ کی ادئیگی اس پر لازم نہیں ہو گی ۔

    2:۔دین متوسط کا حکم

    گزشتہ سالوں کی زکوۃ لازم آئے گی،لیکن ادائیگی اس وقت لازم ہو گی کہ جب مکمل نصاب کی مقدار، دین اس کے ہاتھ میں آ جائے گا ۔مثلاً زید کو دین متوسط میں سے 500000پانچ لاکھ وصول ہونے ہیں تو جب تک مکمل نصاب (جو کہ آج کی تاریخ 29/04/2022میں تقریبا 84000 ہے) کی مقدار وصول نہیں کر لیتا ادائیگی اس پر لازم نہیں آئے گی۔اور جب ایک مکمل نصاب کی مقدار وصول کر لے گا تو زکوۃ اس پر لازم ہو گی ۔

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ ان دونوں کے حکم کے متعلق لکھتے ہیں : اور دوقسم (دین قوی ودین متوسط )سابق میں تجارت دین ہی سال بسال زکوٰۃ واجب ہوتی رہے گی مگر اسے ادا کرنا اُسی وقت لازم ہوگا جبکہ اُس کے قبضہ میں دین قوی سے بقدر خمس نصاب(نصاب کے پانچویں حصے ) یامتوسط سے بقدرِ کامل نصاب(مکمل نصاب ) آئیگا ۔(فتاوی رضویہ جلد 10 صفحہ 160رضا فاؤنڈیشن لاہور )

    3:۔ دین ضعیف کا حکم

    اس دین پر گزشتہ سالوں کی زکوۃ لازم نہیں آئے ۔ہاں اتنا ضرور ہے کہ جس دن یہ دین وصول ہوا تو اگر کوئی اور نصاب پہلے سے اس کے پاس چل رہا تھا تو اِس دین کو اس نصاب میں شامل کریں گے جیسا کہ دورانِ سال کہیں سے رقم آ ئےتو اسے حالیہ نصاب میں شامل کیا جاتا ہے ۔

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ دین ضعیف کے حکم کی بابت لکھتے ہیں: جب تک دین رہے اصلاًزکوٰۃ واجب نہیں ہوتی اگر چہ دس برس گزر جائیں ،ہاں جس دن سے اس کے قبضہ میں آئے گا شمارِزکوٰۃ میں محسو ب ہوگا یعنی اس کے سوا اور کوئی نصاب زکوٰۃ اسی کی جنس سے اس کے

    پاس موجود تھا اس پر سال چل رہا تھا تو جو وصول ہُوا اس میں ملا لیا جائے گا اور اسی کے سال تمام پر کل کی زکوٰۃ لازم ہوگی ،اوراگر ایسا نصاب نہ تھا تو جس دن سے وصول ہُوا اگر بقدرِنصاب ہے اُسی وقت سے سال شروع ہوا ورنہ کچھ نہیں ۔(فتاوی رضویہ جلد 10 صفحہ 160رضا فاؤنڈیشن لاہور )واللہ تعالی اعلم بالصواب