سوال
میری بیوی کے بھائی بار بار میری بیوی کو لینے آتے تھے اور وہ میری اجازت کے بغیر چلی جاتی تھی دوسے تین بار ایسا ہو چکا ہے، اب رمضان میں انکے بھائی لینے آئے تو میں نے غصہ میں ان سے کہا '' اگر آج کے بعد اس گھر سے میری اجازت کے بغیر گئیں تو میری طرف سے آزاد سمجھو '' پھر وہ اس دن چلی گئی لیکن مجھ سے اجازت لے کر گئی وہ اس طرح کہ جاتے وقت انہوں نے کہا ٹھیک ہے؟ میں نے کہا ٹھیک ہے نہیں بلکہ اجازت لینا ہوگی آپکو تو انہوں نے کہا '' میں چلی جاؤں '' میں نے کہا ہاں! میری طرف سے اجازت ہے۔ شرعی اعتبار سے اسکا کیا حل ہوگا ؟
1:۔ کیا وہ جب بھی میری اجازت کے بغیر جائے گی تو طلاق واقع ہوجائے گی یا نہیں؟
2:۔ ہر مرتبہ جانے پر طلاق ہوگی یا پہلی مرتبہ جانے پر ہوگی ؟
3:۔اس بات کے بعد سے اب تک وہ نہیں گئی لیکن خلع کے لیے کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔
سائل: محمد جہانزیب عطاری
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
سب سے قبل یہ یاد رہے کہ طلاق کو کسی شرط ) condition ( پرمشروط کرنا تعلیق ِطلاق کہلاتا ہے اور تعلیق کے معنے یہ ہیں کہ کسی چیز کا ہونا دوسری چیز کے ہونے پر موقوف کیا جائے یہ دوسری چیز جس پر پہلی موقوف ہے اس کو شرط کہتے ہیں جبکہ عام حالات میں بغیر کسی شرط کے جو طلاق دی جاتی ہے وہ تنجیزا طلاق دینا کہلاتا ہے ۔
تنویر الابصار مع الدر المختار میں تعلیق کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے :"ربط حصول مضمون جملة بحصول مضمون جملة أخرى"(تنویر الابصار مع الدر المختار باب التعلیق ،ج: ۳ ص :۳۴۱ ، طبع:دار الفکر ،بیروت)
اعلحضرت امام اہلسنت علیہ الرحمہ اس عبارت کی وضاحت کر تے ہو ئے میں فر ما تے ہیں :
''تعلیق ربطِ مضمونِ جملہ بمضمونِ آخر ہے نہ کہ خبطِ مضمون بربطِ آخر ان دخلت الدار فانت طالق (اگر تو گھر میں داخل ہو تو تجھے طلاق ) کہنے والے نے انت طالق کے مفاد شرعی کو دخولِ دار پر معلق کیا تو ہنگامِ دخول اسی مفاد کا نزول ہوگا(اور وہ طلاق ہے)'' (فتاویٰ رضویہ کتاب الطلاق باب التعلیق جلد 13 ص 242،243 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
لیکن سوال میں پوچھی گئی صورت میں شوہر نے یہ الفاظ استعمال کئے کہ '' اگر آج کے بعد اس گھر سے میری اجازت کے بغیر گئیں تو میری طرف سے آزاد سمجھو '' اور میری طرف سے آزاد سمجھ لینا سے تعلیق درست نہیں ہے کیونکہ کوئی بات سمجھ لینے سے تعلیق نہیں ہوتی بلکہ معلق کرنے سے تعلیق ہوتی ہے ۔
سیدی اعلیٰ حضرت اسی طرح کے ملتے جلتے سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں سوال کیا گیا ایک شخص نے ایک اقرار نامہ اپنی زوجہ کو لکھ دیا جس میں ایک شرط یہ تھی کہ اگر من کہ مقر اپنی توبہ کا پابند نہ ہوااور خلافِ شرع کوئی فعل کرے تو اس خلاف ورزی شرع شریف میں میری جانب سے میری زوجہ کو طلاق قطعی سمجھی جائے۔
آپ جوابا ارشاد فرماتے ہیں صورت مستفسرہ میں طلاق نہ ہوئی، کما بیناہ فی فتاوٰنا ونص فی الخانیۃ ف ان احسبی انک طالق لیس بطلاق۔ترجمہ: جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں بیان کیا ہے، اور خانیہ میں نص موجود ہے کہ خاوند کا بیوی کو کہنا کہ ''تو طلاق سمجھ لے'' یہ طلاق نہیں ہے۔(فتاویٰ رضویہ کتاب الطلاق باب التعلیق جلد 13 ص 242،243 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
خانیہ کے الفاظ اس طرح ہیں:لایقع الطلاق وان نوی کانہ قال لھا بالعربیۃ احسبی انک طالق وان قال ذٰلک لایقع وان نوی۔ترجمہ: طلاق نہ ہوگی اگرچہ نیت کرلے کیونکہ گویا اس نے عربی میں اس سے کہا ہے کہ تم یہ سمجھو کہ تمہیں طلاق ہے۔ایسا کہا تو طلاق نہ ہوگی اگر چہ نیت کرلے۔( فتاوی قاضیخان کتاب الطلاق نولکشور لکھنؤ جلد2ص 210)
خلاصہ یہ ہوا کہ مذکورہ تعلیق درست نہیں ہے لہذا اگر چہ بیوی اپنے میکے جائے طلاق نہ ہوگی۔البتہ یہ بات قابل غور ہے کہ عورت کا اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر بلا ضرورت گھر سے نکلنا جائز نہیں مگر یہ کہ وہ میکے ہفتے میں صرف ایک مرتبہ شوہر کی اجازت کے بغیر بھی جاسکتی ہے اس کے لیے شوہر کی اجازت ضروری نہیں ہے ،چناچہ قرآن مجید میں خود اللہ کریم کا واضح فرمان موجود ہے :وقرن فی بیوتکن :ترجمہ: اور عورتیں اپنے گھروں میں ہی ٹھہری رہیں ۔
السنن الکبری للبیھقی میں حدیث پاک موجود ہے :عَنِ بْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِّی أَنَّ إِمْرَأَۃً أَتَتْہُ فَقَالَتْ: مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلٰی اِمْرَأَتِہِ؟ فَقَالَ: لاَ تَخْرُجْ مِنْ بَیْتِہِ إِلاَّ بِإِذْنِہِ. ترجمہ: ’حضرت ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک خاتون نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شوہر کے بیوی پر حق کے بارے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چاہیے کہ وہ اس کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر نہ نکلے۔(السنن الکبریٰ، بیہقی ، حدیث نمبر 1449)
رہی بات کورٹ سے خلع کی تو شرعی اعتبار سے کورٹ کی یکطرفہ خلع واقع نہیں ہوتی،کیونکہ خلع کے لیے شوہر کا رضامند ہونا اور اسکا خلع کی ڈگری پر دستخط کرنا ضروری ہے ،اگر شوہر کورٹ میں حاضر ہوکر اپنی رضامندی ظاہر نہ کرے اور نہ ہی خلع کی ڈگری پر دستخط کرے ، اور نہ ہی اس فیصلے کو تسلیم کرے تو محض یک طرفہ فیصلے سے خلع واقع نہیں ہوگی کیونکہ خلع نام ہے ملک نکاح کو کسی چیز (مال) کے ذریعے ختم کرنے کا جبکہ اس میں خلع کے الفاظ بھی ہوں۔
چناچہ عالمگیری کتاب الطلاق الباب الثامن فی الخلع وما فی حکمہ ج1ٍص 519 میں ہے:الخلع ازالۃ ملک النکاح ببدل بلفظ الخلع کذا فی فتح القدیر:ترجمہ:لفظ خلع کے ساتھ ملک نکاح کو کسی چیز کے عوض ختم کرنے کا نام خلع ہے۔
پھر فتح القدیر کتاب الطلاق باب الخلع ج 4ص 188میں ہے:وفی الشرع اخذہ المال بازاء ملک النکاح: ترجمہ: شریعت میں خلع ملک نکاح ختم کرنے کے بدلے مال لینا ہے ۔
تو جب تک شوہر رضامند نہ ہواوروہ خلع کی ڈگری پر دستخط نہ کرے خلع نہ ہوگا خواہ خلع کی یہ ڈگری کوئی بھی جاری کرے اگر چہ سپریم کورٹ جاری کرے ۔کیونکہ یہ حق صرف شوہر کا ہے اور اسی کو یہ حق ہے کہ وہ اسکو استعمال کرے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :والذی بیدہ عقدۃ النکاح(البقرہ:238) ترجمہ:اور جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے ۔
اس آ یت کے تحت حکیم الامت مفتی احمدیار خان نعیمی تفسیر نورالعرفان ص60پرفرماتے ہیں ،معلوم ہوا کہ نکاح کی گرہ مرد کے ہاتھ میں رکھی گئی ہے ،طلاق کا اسکو ہی حق ہے عورت کو نہیں۔نہ خلع میں نہ بغیر خلع،یعنی خلع میں مرد کی مرضی پر طلاق موقوف ہوگی ۔آج کل عوام نے جو خلع کے معنیٰ سمجھے ہیں کہ عورت اگر مال دے دے تو بہر حال طلاق واقع ہوجاوے گی خواہ مرد طلاق دے یا نہ دے، یہ غلط ہے۔
سیدی اعلیٰ حضرت (فتاوی رضویہ ج13 ص 264رضا فاؤنڈیشن لاہور) فرماتے ہیں خلع شرع میں اسے کہتے ہیں کہ شوہر برضائے خود مہر وغیرہ مال کے عوض عورت کو نکاح سے جدا کردے تنہا زوجہ کے کئیے نہیں ہوسکتا۔
پھر احادیث میں بھی اسی بات کی صراحت ہے۔ چناچہ ابن ماجہ باب طلاق العبد ج1ص672میں ہے :إِنَّمَا الطَّلَاقُ لِمَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ رواہ ابن عباس ترجمہ : طلاق کا حق اسی کو حاصل ہے جسکو بیوی سے ہم بستری کا حق حاصل ہے۔
یوںہی السنن الکبریٰ للبیھقی باب طلاق العبد ج7ص591میں ہے :عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ مَمْلُوكًا، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ, فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا يَمْلِكُ الطَّلَاقَ مَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ ترجمہ:عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک غلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اپنی طلاق کا مسئلہ لایا (کہ اسکے آقا نے اسکی بیوی کو طلاق دے دی ہے آیا طلاق ہوئی یا نہیں؟)آپ نے ارشاد فرمایا طلاق کا مالک وہ ہے ہے جسکو بیوی سے ہم بستری کا حق حاصل ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:13محرم الحرام 1440 ھ/24ستمبر 2018 ء