سوال
زید نے اپنی بیٹی کی شادی اپنی بہن کے نند کے بیٹے سے کروائی جوکہ امریکہ کا رہنے والا ہے،اور شراب نوشی کا عادی ہے۔شادی کے بعد اس بات کا علم اسکی بیوی کو ہوا تو اسکی بیوی نے اسکو قسم دی کہ وہ آئندہ شراب نوشی نہیں کرے گا۔اور اس نے یوں قسم اٹھائی کہ '' اگر میں نے آئندہ شراب پی تو تمہیں طلاق ''اب وہ کافی عرصے سے شراب نوشی کررہا ہے۔ اور اسکا اقرار بھی کرچکا ہے ۔ اب آپ اس مسئلے کا جواب شریعت کی روشنی میں واضح فرادیجیے۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا کہ لڑکے نے اپنے اس قول ''اگر میں نے آئندہ شراب پی تو تمہیں طلاق''کے بعد شراب نوشی کی ہےاور اسکا اقرار بھی کرتا ہے تو اس صورت میں لڑکی کو ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی ہے ، جس کے بعد لڑکی کی عدت شروع ہوچکی ہے ۔ اگر حیض والی ہے تو تین حیض عدت ہے ، حاملہ ہے تو وضع حمل عدت ہے اور اگر حیض والی نہیں ہے تو تین ماہ عدت ہے ۔
شوہر چاہے تو عدت کے دوران رجوع کرسکتا ہے خواہ قول سے رجوع کرے یعنی یہ کہے کہ میں تم سے رجوع کرتا ہوں یا اپنے فعل سے رجوع کرے یعنی بیوی کے ساتھ میاں بیوی والے تعلقات قائم کر لے ۔ لیکن اس رجوع کے باوجود آئندہ صرف دو طلاقوں کا حق حاصل ہوگا۔اور اگر عدت گزر گئی اور عدت میں رجوع نہ کیاتو لڑکی اس کے نکاح سے نکل گئی اب چاہے تو کہیں اور شادی کرلے۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے :وَلَوْ قَالَ: إنْ شَرِبْت الْخَمْرَ فَأَنْت طَالِقٌ فَشَهِدَ عَلَى شُرْبِ الْخَمْرِ رَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ لَا تُقْبَلُ فِي حَقِّ الْحَدِّ وَلَا فِي حَقِّ الطَّلَاقِ وَقِيلَ فِي حَقِّ الطَّلَاقِ وَهُوَ الْمُخْتَارُ لِلْفَتْوَى كَذَا فِي خِزَانَةِ الْمُفْتِينَ۔ترجمہ: اور اگر شوہر کہے کہ اگر میں نے شراب پی تو تجھے طلاق ہے، پھر اسکے شراب پینے پر ایک مرد اور دو عورتیں گوہی دے دیں تو حد کے معاملے میں ان کی گواہی معتبر نہ ہوگی اور نہ ہی طلاق کے معاملے میں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ طلاق کے معاملے میں انکی گواہی کا اعتبار ہوگا ۔یہی فتویٰ دینے کے لیے پسندیدہ ہے اور اسی طرح خزانۃ المفتین میں ہے۔(فتاوی عالمگیری الفصل الثالث فی تعلیق الطلاق بکلمۃ ان جلد 1 ص 448 الشاملہ)
یونہی الملتقط فی فتاوی الحنفیۃ میں ہے : اذا قال :ان شربت الخمر او زنیت او قامرت فامراتی طالق یحنث بفعل واحد من ھذہ الافعال۔ترجمہ: اگر کسی نے کہا اگر میں نے شراب پی یا زنا کیا یا جوا کھیلا تو میری بیوی کو طلاق ہے ۔ ان افعال میں سے کچھ بھی ایک دفعہ ہی کیا تو طلاق واقع ہوجائے گی۔( الملتقط فی فتاوی الحنفیۃ کتاب الطلاق ص 137 الشاملہ )
عدت کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْء:ترجمہ:طلاق والیاں اپنے کو تین حیض تک روکے رہیں۔(البقرہ 228)
اور فرمایا:والائی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍوالائی لم یَحِضْنَ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ۔ترجمہ:اور تمھاری عورتوں میں جوحیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا ہے اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔(الطلاق :04)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:08 صفر المظفر 1440 ھ/17اکتوبر 2018 ء