سوال
(1)میری شادی کو چار سال ہوگئے ہیں میری بیوی میرے حقوق ادا نہیں کرتی۔میں دن بھر کام کرنے کے بعد رات 12 یا 1 بجے جب گھر جاتا ہوں تو میری بیوی مجھ سے ایک گلاس پانی کا بھی نہیں پوچھتی،میرے لئے اٹھتی بھی نہیں۔بولتی ہے سونے دو مجھے میں تھکی ہوئی ہوں۔اگر اس سےمحبت بھی کرنا چاہوں تو مجھے دھتکار دیتی ہے۔میں گھر سے باہر نکلتے وقت دو چار دفعہ بوسہ لے لیتا ہوں تو وہ چِڑ جاتی ہے،میرا منہ نوچ لے گی یا دھکا دیدے گی،وہ بولتی ہے کہ مجھے یہ سب اچھا نہیں لگتا،آپ کو یہ سب کرنا ہے تو آپ دوسری شادی کرلو۔
میرے چچاؤں کی وہ بھانجی ہے اور میں یتیم ہوں۔میرے چچا مجھے دوسری شادی کرنے نہیں دے رہے،بولتے ہیں کہ اس گھر میں تجھے دوسری بیوی لانے نہیں دیں گے ۔میں اپنی بیوی کو چھوڑنا نہیں چاہتا لیکن وہ میری ضرورتیں پوری نہیں کرتی،اس لئے میں دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں۔کیا میں شریعۃً دوسری شادی کرسکتا ہوں؟ شریعت کا حکم اور فتوی آپ مجھے بتادیں۔
(2)میں نے اپنی بیوی کو اسکی ماں کے سامنےکہا ’’میں تجھے طلاق دیتا ہوں،میں تجھے طلاق دیتا ہوں‘‘پھر ایک مہینے کے اندر ہی واٹس ایپ پر ان الفاظ سے رجوع بھی کیا’’میں تم سے رجوع کرتا ہوں‘‘۔
سائل: یوسف رضا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
(1)شوہر کے حقوق کی تکمیل بیوی پر لازم و ضروری ہے،عورت کا اپنے شوہر کو ازدواجی حقوق سے روکنا قطعاً جائز نہیں۔احادیث میں ایسی بیوی کے لیے سخت وعیدات آئی ہیں، اپنے عمل پر مذکورہ خاتون کو توبہ کرنا چاہیے۔البتہ شرعی عذر ( جیسے مخصوص ایام، بیماری، یا شوہر کا حدِ اعتدال سے زیادہ ہم بستر ہونا جس کی بیوی میں طاقت نہ ہو یا شوہر کی جانب سے تسکین شہوت کے لیےغیر فطری راستہ اختیار کرنے کا مطالبہ کرنا) ہو تو بیوی شوہر کو روک سکتی ہے۔نیز اگر شوہر ایک سے زائد بیویوں کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ مالی جسمانی حقوق ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہو تو اس کے لیے دوسرے نکاح کی اجازت ہوگی۔
(2)مذکورہ جملے صریح طلاق کے الفاظ ہیں، کہ اردو زبان میں طلاق دیتاہوں حال ہی کے لیے متعین ہے استقبال کا اصلا احتمال نہیں۔لہذا بغیر نیتِ طلاق کے 2دوطلاقِ رجعی واقع ہوگئیں۔پھر عدت کے اندر جن الفاظ سے رجوع کیا گیا وہ رجوع بھی مشروع ہے۔البتہ اب میاں بیوی دونوں کو بہت احتیاط سے رہنا ہوگا کہ اب شوہر کو صرف ایک طلاق کا حق حاصل ہو گا خدانخواستہ اگر زندگی میں کبھی بھی بقیہ ایک طلاق دے دی تو حرمت مغلظہ کے ساتھ بیوی اس شوہر پرحرام ہو جائے گی اورتحلیلِ شرعی کے علاوہ واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔
دلائل و جزئیات:
اگر بیوی حقِ زوجیت سے انکار کرے تو فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں،چنانچہ بخاری شریف کی روایت ہے:"عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ، فَبَاتَ غَضْبَانَ عَلَيْهَا، لَعَنَتْهَا الْمَلائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ". ترجمہ: حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب شوہر نے اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلایا اور وہ نہ آئی، پھر اسی طرح غصہ میں شوہر نے رات گزاری تو صبح تک سارے فرشتہ اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔(صحیح البخاری،کتاب بدء الخلق،4/116،رقم:3237، دار طوق النجاۃ)
رد المحتار میں بحوالہ بدائع ہے:"وَفِي الْبَدَائِعِ: لَهَا أَنْ تُطَالِبَهُ بِالْوَطْءِ لِأَنَّ حِلَّهُ لَهَا حَقُّهَا، كَمَا أَنَّ حِلَّهَا لَهُ حَقُّه". ترجمہ: البدائع میں ہے کہ عورت کو حق حاصل ہے کہ وہ خاوند سے وطی کا مطالبہ کرے کیونکہ مرد کا اس کے لیے حلال ہونا عورت کا حق ہے جس طرح عورت کا مرد کے لیے حلال ہونا مرد کا حق ہے۔ (رد المحتار،3/202،دار الفکر)
علامہ محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"لَا يَحِلُّ لَهُ وَطْؤُهَا بِمَا يُؤَدِّي إلَى إضْرَارِهَا فَيَقْتَصِرُ عَلَى مَا تُطِيقُ مِنْهُ عَدَدًا بِنَظَرِ الْقَاضِي أَوْ إخْبَارِ النِّسَاءِ، وَإِنْ لَمْ يَعْلَمْ بِذَلِكَ فَبِقَوْلِهَا".ترجمہ: خاوند کے لیے اپنی عورت سے ایسے طریقہ سے وطی کرنا حلال نہیں جو عورت کے ضرر کا باعث ہو۔پھر عورت کتنی دفعہ حقوقِ زوجیت پر طاقت رکھتی ہے یہ امر قاضی کی رائے یا عورتوں کے خبر دینے پر منحصر ہوگا اور اگر اس طریقہ سے معلوم نہ ہو تو عورت کے قول پر منحصر ہوگا۔ (رد المحتار،3/204،دار الفکر)
شریعتِ مطہرہ میں مرد کو بیک وقت چار شادیاں کرنے کی اجازت ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتَامٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانِكُمْ ذٰلِكَ أَدْنٰى أَلَّا تَعُوْلُوْا۔ترجمہ:اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کرو گے تو نکاح میں لاؤ جو عورتیں تمہیں خوش آئیں دو 2دو 2 اور تین3تین3 اور چار 4چار4 پھر اگر ڈرو کہ دوبیبیوں کوبرابر نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی کرو یا کنیزیں جن کے تم مالک ہو یہ ا س سے زیادہ قریب ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو۔[النساء:3]
آیت سے معلوم ہوا کہ جب مرد انصاف کرسکے تو اسے ایک سے زائد چار تک شادیاں کرنے کی اجازت ہے۔انصاف یہ ہے کہ مرد دوسری شادی کے لیے جسمانی اور مالی طاقت رکھتا ہو اور بیویوں کے درمیان برابری کرنے کی اہلیت ہو، لہذا اگر کسی شخص میں جسمانی یا مالی طاقت نہیں یا اسے خوف ہے کہ وہ دوسری شادی کے بعد برابری نہ کرسکے گا تو اس کے لیے دوسری شادی کرنا جائز نہیں۔
الدر المختار میں ہے: "(وَ) صَحَّ (نِكَاحُ أَرْبَعٍ مِنْ الْحَرَائِرِ وَالْإِمَاءِ فَقَطْ لِلْحُرِّ) لَا أَكْثَرُ".ترجمہ:آزاد مرد کیلئے چار آزاد و باندی عورتوں سے نکاح درست ہے اس سے زائد درست نہیں۔ (تنویر البصار مع الدر المختار،کتاب النکاح،فصل فی المحرمات،3/48،دار الفکر)
الفتاوی الہندیۃ میں ہے:"وَإِذَا كَانَتْ لَهُ امْرَأَةٌ وَأَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَ عَلَيْهَا أُخْرَى وَخَافَ أَنْ لَا يَعْدِلَ بَيْنَهُمَا لَا يَسْعَهُ ذَلِكَ وَإِنْ كَانَ لَا يَخَافُ وَسِعَهُ ذَلِكَ وَالِامْتِنَاعُ أَوْلَى وَيُؤْجَرُ بِتَرْكِ إدْخَالِ الْغَمِّ عَلَيْهَا كَذَا فِي السِّرَاجِيَّةِ".ترجمہ: اگر ایک بیوی ہو اور خاوند نے چاہا کہ اس کے اوپر دوسری بیوی سے نکاح کرے اور اس کو ان کے مابین عدل نہ کرنے کا خوف ہوا تو اس کو دوسری عورت سے نکاح کی گنجائش نہیں ہے اور اگر اس کو یہ خوف نہ ہو تو دوسری عورت سے نکاح کرنے کی گنجاش ہے لیکن اس سے باز رہنا اولیٰ ہے اور عورت کو غم دینے کی بات چھوڑ دینے سے مرد کو ثواب ملے گا یہ سراجیہ میں ہے۔ (الفتاوی الہندیۃ،کتاب النکاح،الباب الحادی عشر فی القسم،1/341،دار الفکر)
علامہ محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"فَمَا لَا يُسْتَعْمَلُ فِيهَا إلَّا فِي الطَّلَاقِ فَهُوَ صَرِيحٌ يَقَعُ بِلَا نِيَّةٍ". ترجمہ:جس لفظ کا غالب استعمال طلاق میں ہو تا ہو تو وہ صریح ہے اور اس سے بغیر نیت طلاق کے بھی طلاق ہو جاتی ہے۔(رد المحتار،3/247،دار الفکر)
علامہ شیخ شمس الدین محمد بن عبد اللہ تمرتاشی (المتوفی:1004ھ) فرماتے ہیں:"الصَّرِيحُ يَلْحَقُ الصَّرِيحَ".ترجمہ: طلاقِ صریح طلاقِ صریح کولاحق ہوتی ہے۔(تنویر الابصار مع الدر المختار،3/306،دار الفکر) واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 9 ذوالقعدہ1444 ھ/30 مئی 2023ء