royalty par li gai madaniyat se hasil shudah munafa par khums ka hukm
سوال
ہم معدنیات نکالنے کا کام کرتے ہیں۔ طریقہ کار یہ ہے کہ ہم پہاڑ کے مالک سے رائلٹی کی بنیاد پر معاہدہ کرتے ہیں۔ مثلاً: ہم نے ایک پہاڑ سے ایک لاکھ روپے کی مالیت کا مال نکالا، تو معاہدے کے تحت کل آمدنی کا %30 (یعنی 30 ہزار روپے) اخراجات نکالنے سے پہلے ہی پہاڑ کے مالک کو دے دیا جاتا ہے۔ بقیہ 70 ہزار روپے میں سے ہم اپنے کھدائی اور مزدوری کے اخراجات (مثلاً 20 ہزار روپے) نکالتے ہیں، جس کے بعد ہمارے پاس خالص منافع 50 ہزار روپے بچتا ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں اس خالص منافع (50 ہزار روپے) پر ڈھائی فیصد (2.5%) کے حساب سے زکوٰة دینی ہوگی یا اس پر خمس (یعنی 20% بیس فیصد) لاگو ہوگا؟ چونکہ پہاڑ ہمارا ذاتی نہیں ہے بلکہ ہم اسے رائلٹی پر لے کر کام کر رہے ہیں، تو کیا ہم پر بھی معدنیات والا قانون (خمس) لاگو ہوتا ہے؟ جبکہ پہاڑ کے مالک کو جو 30 فیصد حصہ مل رہا ہے، اس پر تو یقیناً خمس کی کٹوتی ہوگی۔ براہِ کرم وضاحت فرما دیں۔
سائل: عبد اللہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
زمین سے نکلنے والی دھاتی معدنیات (جو آگ پر پگھل کر ڈھل جاتی ہوں) پر شرعاً خمس (20 فیصد) واجب ہے، نہ کہ زکوٰۃ۔ یہ خمس کل برآمد شدہ مال پر واجب ہوتا ہے اور اس میں اخراجات منہا نہیں کیے جاتے۔ چونکہ پہاڑ آپ کی ملکیت نہیں، اس لیے خمس کی بنیادی ذمہ داری پہاڑ کے مالک پر ہے، تاہم آپ کو چاہیے کہ مالک کی طرف سے وکالت (اجازت) لے کر پہلے کل مال کا خمس نکالیں، پھر باقی بچنے والے 80 فیصد مال پر اپنا رائلٹی کا معاہدہ (30/70) نافذ کریں۔ اگر مالک خمس نہیں نکالتا اور آپ کو اس کی طرف سے وکالت بھی حاصل نہیں، تو آپ اپنے حصے میں آنے والے اس مال کو جو خمس کی مد میں بنتا ہے، صدقہ کریں تاکہ آپ کا نفع مشتبہ مال سے پاک ہو جائے۔
تفصیلِ مسئلہ:
معدنیات پر خمس کے وجوب کیلئے نہ تو مال کا نصاب کو پہنچنا شرط ہے اور نہ ہی اس پر سال گزرنا، بلکہ معدنیات نکلتے ہی خمس ادا کرنا لازم ہے اور اس میں کھدائی یا مزدوری کے اخراجات منہا نہیں کیے جاتے۔ خاتم المحققین علامہ ابن عابدین الشامی رحمہ اللہ کی تحقیق کے مطابق راجح اور مفتیٰ بہ قول یہی ہے کہ دھاتی معدنیات خواہ جنگل سے نکلیں یا کسی کی ذاتی مملوکہ زمین سے، ان پر خمس (20 فیصد) واجب ہوتا ہے۔
جہاں تک پہاڑ سے نکالے گئے مال پر زکوٰۃ کا تعلق ہے، تو معدنیات پر زکوٰۃ لازم نہ ہونے کی دو صورتیں ہیں: (۱) اگر معدنیات سونا چاندی کے علاوہ ہوں (مثلاً لوہا، تانبا وغیرہ)، تو چونکہ مالِ تجارت بننے کیلئے عملِ تجارت شرط ہے(چاہے عقد خریداری ہو یا کرایہ داری) اور آپ یہ مال خرید نہیں رہے بلکہ رائلٹی پر نکال رہے ہیں، اس لیے یہ آپ کے حق میں مالِ تجارت نہیں اور اس پر زکوٰۃ نہیں۔ (۲) اگر معدنیات سونا یا چاندی ہوں، تو بھی حدیثِ مبارکہ "لَا ثِنٰی فِی الصَّدَقَۃِ" (ایک مال پر دوہرے واجبات نہیں) کے تحت جس سال خمس ادا کر دیا گیا، اس سال زکوٰۃ لازم نہیں ہوگی؛ زکوٰۃ کا حکم اگلے سال اس صورت میں ہوگا جب وہ سونا چاندی آپ کی ملکیت میں رہے اور زکوٰۃ کی دیگر تمام شرائط پوری ہوں۔
نیز مالک سے خمس کی ادائیگی کی وکالت اس لیے ضروری ہے کہ خمس کی اصل ذمہ داری اسی پر ہےاور اس کی اجازت کے بغیر اس کا واجب (خمس) ادا نہیں ہوگا۔ اگر وہ اجازت نہ دے، تو آپ کا اپنے حصے سے قدرِ خمس کے برابر رقم صدقہ کرنا محض اپنے مال کو پاک کرنے کیلئے ہے، اس سے مالک کا شرعی ذمہ فارغ نہیں ہوگا۔
دلائل و جزئیات:
اقسامِ معادن اور ان پر وجوبِ خمس کے متعلق امام شمس الآئمہ محمد بن احمد السرخسی (المتوفی:483ھ) فرماتے ہیں: "اعلم أن المستخرج من المعادن أنواع ثلاثة منها جامد يذوب وينطبع كالذهب والفضة والحديد والرصاص والنحاس، ومنها جامد لا يذوب بالذوب كالجص والنورة والكحل والزرنيخ، ومنها مائع لا يجمد كالماء والزئبق والنفط. فأما الجامد الذي يذوب بالذوب ففيه الخمس عندنا". ترجمہ: جان لو کہ کانوں سے نکلنے والی اشیاء کی تین قسمیں ہیں: ایک وہ جو جامد ہے، پگھلتی ہے اور ڈھل جاتی ہے جیسے سونا، چاندی، لوہا، سیسہ اور تانبا؛ دوسری وہ جو جامد ہے لیکن پگھلانے سے پگھلتی نہیں جیسے جپسم، چونا، سرمہ اور ہڑتال؛ اور تیسری وہ جو مائع (بہنے والی) ہے جو جمتی نہیں جیسے پانی، پارہ اور پیٹرول (نفط)۔ بہرحال وہ جامد چیز جو پگھل جاتی ہے اس میں ہمارے نزدیک پانچواں حصہ (خمس) واجب ہے۔ (المبسوط للسرخسی، کتاب الزکاۃ، باب المعادن، 2/211، دار المعرفۃبیروت) (العنایۃ شرح الہدایۃ، 2/233، دار الکتب العلمية)
الفتاوی الہندیۃ میں ہے: "وأما المائع كالقير والنفط والملح، وما ليس بمنطبع، ولا مائع كالنورة والجص والجواهر واليواقيت فلا شيء فيها كذا في التهذيب....وإن وجد في أرض مملوكة اتفقوا جميعا على وجوب الخمس فيه واختلفوا في أربعة أخماسه قال أبو حنيفة - رحمه الله تعالى - هي لصاحب الخطة كذا في شرح الطحاوي". ترجمہ: اور بہرحال مائع اشیاء جیسے رال، پیٹرول اور نمک، اور وہ جو نہ ڈھلتی ہیں نہ مائع ہیں جیسے چونا، جپسم اور جواہر و یاقوت، تو ان میں کچھ (خمس) نہیں ، اسی طرح تہذیب میں ہے۔ اور اگر (معدن) کسی کی ذاتی مملوکہ زمین میں پائی جائے تو اس میں خمس کے واجب ہونے پر سب کا اتفاق ہے، البتہ باقی چار حصوں میں اختلاف ہے، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ وہ اس زمین کے (پہلے) مالک کیلئے ہیں، اسی طرح شرحِ طحاوی میں ہے۔ (الفتاوی الہندیۃ، کتاب الزکاۃ، الباب الخامس، 1/203، قدیمی کتب خانہ)
علاء الدین السمرقندی (المتوفی: 539 ھ) فرماتے ہیں: " وإن وجده في أرض مملوكة فالخمس واجب". ترجمہ: اور اگر وہ (معدن) کسی کی مملوکہ زمین میں ملے تو خمس واجب ہے۔(تحفة الفقهاء ، باب المعدن والركاز، 1/328، دار الکتب العلمیة بیروت)
ذاتی زمین کی معدنیات پر حکمِ خمس سے متعلق علامہ مدقق علاؤ الدین محمد بن علی الحصکفی (المتوفی: 1088ھ) فرماتے ہیں: "المعدن (لا شيء فيه إن وجده في داره) وحانوته (وأرضه) في رواية الأصل واختارها في الكنز".ترجمہ: کان میں کچھ (واجب) نہیں، اگر اسے اپنے گھر، دکان یا اپنی زمین میں پائے، یہ روايتِ اصل (الاصل للامام محمد) ہے اور اسے ہی کنز میں اختیار کیا گیا ۔(الدر المختار ، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الرکاز، 2/321، دار الفکر بیروت)
ذاتی زمین سے نکلنے والی معدنیات کے حکم اور روایات کے اختلاف پر علامہ ابن عابدین شامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "(قوله: واختارها في الكنز) أي حيث اقتصر عليها كالمصنف وأراد بذلك بيان أنها الأرجح لكن في الهداية قال عن أبي حنيفة روايتان ثم ذكر وجه الفرق بين الأرض والدار على رواية الجامع الصغير ولم يذكر وجه رواية الأصل وربما يشعر هذا باختيار رواية الجامع وفي حاشية العلامة نوح أن القياس يقتضي ترجيحها لأمرين، الأول: أن رواية الجامع الصغير تقدم على غيرها عند المعارضة، الثاني: أنها موافقة لقول الصاحبين والأخذ بالمتفق عليه في الرواية أولى، والحاصل: أن الإمام فرق في وجوب الخمس بين المعدن والكنز وبين المفازة والدار وبين الأرض المباحة والمملوكة وهما لم يفرقا بين ذلك في الوجوب".ترجمہ: یعنی مصنف کی طرح انہوں نے اسی پر اکتفا کیا اور اس سے یہ واضح کرنا چاہا کہ یہی قول ارجح ہے، لیکن ہدایہ میں ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے اس بارے میں دو روایتیں ہیں، پھر صاحبِ ہدایہ نے جامع صغیر کی روایت کے مطابق زمین اور گھر کے درمیان فرق کی وجہ ذکر کی اور روايتِ اصل کی وجہ ذکر نہیں کی، اور شاید یہ بات جامع صغیر کی روایت کو اختیار کرنے کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔ اور علامہ نوح کے حاشیہ میں ہے کہ قیاس دو وجوہات کی بنا پر اسی (جامع صغیر کی روایت) کی ترجیح کا تقاضا کرتا ہے: پہلی یہ کہ تعارض کے وقت جامع صغیر کی روایت کو دیگر پر مقدم رکھا جاتا ہے، دوسری یہ کہ یہ صاحبین (امام ابویوسف و امام محمدرحمہما اللہ) کے قول کے موافق ہے اور جس روایت پر سب کا اتفاق ہو اسے لینا بہتر ہے۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ امامِ اعظم رحمہ اللہ نے خمس کے وجوب میں معدن اور دفینے کے درمیان، اور جنگل و گھر کے درمیان، اور مباح (لاوارث) و مملوکہ زمین کے درمیان فرق کیا ہے، جبکہ صاحبین نے وجوب کے معاملے میں ان کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا۔ (رد المحتار، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الرکاز، 2/321، دار الفکر بیروت)
اخراجات کی کٹوتی کے حوالے سے ابن الساعاتی (المتوفی 694 ھ) بیان کرتے ہیں: " ولا تحتسب مؤونته والخراج عليه". ترجمہ: اور (عشر و خمس میں) نکالنے کی مشقت (مزدوری وغیرہ) اور خراج کے اخراجات شمار (منہا) نہیں کیے جائیں گے۔( مجمع البحرين وملتقى النيرين، كتاب الزكاة، فصل في العشر، ص: 192، دار الکتب العلمیة بیروت)
اموال زکوۃ کے متعلق علامہ برہان الدین محمود بن احمد مازہ الحنفی (المتوفی:616ھ) فرماتے ہیں: " مال الزكاة الأثمان، وهو: الذهب والفضة وأشباهها، والسوائم وعروض التجارة".ترجمہ:زکوٰۃ کے مال (یہ)ہیں :ا ثمان یعنی سونا چاندی اور ان کی مثل (کوئی دوسری کرنسی) ، چرائی کے جانوراور تجارت کا سامان۔ (المحیط البرھانی ،کتاب الزکاۃ،الفصل الثالث ،2/240، دار الكتب العلمية، بيروت)
مال تجارت میں وجوب ِ زکوۃ کی شرط بیان کرتے ہوئے علامہ مدقق علاؤ الدین محمد بن علی الحصکفی (المتوفی: 1088ھ) فرماتے ہیں: " وشرط مقارنتها لعقد التجارة وهو كسب المال بالمال بعقد شراء أو إجارة". ترجمہ: نیت کا عقدِ تجارت سے ملا ہونا (وجوب زکوۃ کیلئے)شرط ہےاور تجارت یہ ہے کہ عقدِ خریداری و کرایہ داری سے مال کو مال کے ذریعے کمانا۔ (الدر المختار، کتاب الزکوۃ، 2/273-274، دار الفکر بیروت)
ایک ہی مال پر دو مرتبہ واجبی صدقات نہیں، امام ابوبکر ابن ابی شیبہ (المتوفی: 235ھ) روایت نقل فرماتے ہیں: "قال: لا ثني في الصدقة".ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: صدقہ (زکوۃ، عشر، خمس) میں دوہرا نہیں ۔ (المصنف لابن ابی شیبہ، کتاب الزکاۃ، 6/401، رقم الحدیث: 11044، مطبوعہ دار کنوز اشبیلیا) ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:10 ذو القعدہ 1447ھ/28 اپریل 2026ء