غیر مرسومہ طلاق نامے کا حکم
    تاریخ: 9 اپریل، 2026
    مشاہدات: 13
    حوالہ: 1111

    سوال

    میرے شوہر عبدالرؤف نے شادی کے تین ماہ بعد مجھے تین طلاقیں لکھ کر دیں، لیکن اس کے بعد حلف اٹھا کر دوبارہ میرے ساتھ رہنے لگے۔ اس دوران میرے ہاں دو بیٹوں کی ولادت ہوئی۔ پھر وہ ہیروئن کے نشے کے عادی ہو گئے اور کام کاج بھی چھوڑ دیا۔ کچھ عرصے بعد ایک حادثے میں ان کی ٹانگ پر پلستر چڑھا، جس کی وجہ سے وہ چھ ماہ تک بستر پر رہے۔ اسی دوران انہوں نے تحریری طور پر یہ لکھا کہ ’’اب اگر نکلنے کے بعد نشے کو ہاتھ لگایا تو طلاق ہو جائے گی‘‘۔ مجھے صحیح سے یاد نہیں کہ انہوں نے یہ جملہ کتنی بار لکھا تھا، لیکن باہر نکلنے کے بعد انہوں نے دوبارہ نشہ کر لیا۔ اس بنا پر میرے گھر والوں نے انہیں یہ کہہ کر نکال دیا کہ اب طلاق واقع ہو چکی ہے۔

    اس کے بعد میں نے عدت گزاری اور شوہر نے حلالہ کروایا۔ تین ماہ کی عدت کے بعد میرا نکاح دوبارہ ان سے کر دیا گیا۔ اس وقت بھی وہ نشہ کر رہے تھے اور کام کاج بھی صحیح سے نہیں کرتے تھے۔ حالات ایسے ہوئے کہ مجھے اپنے سسرال سے واپس امی کے گھر آنا پڑا۔ آخر کار جب میرے گھر والوں نے انہیں نکال دیا تو میں ان کے ساتھ سرجانی چلی گئی، کیونکہ وہاں سستے کرائے کے مکان مل جاتے ہیں۔ پھر میری بہن اور بہنوئی مجھے اور بچوں کو واپس امی کے گھر لے آئے۔ میرے شوہر بھی پیچھا کرتے ہوئے گھر کے پاس آگئے اور دو تین دن وہیں باہر گزارے۔ اسی جنونی کیفیت میں انہوں نے اپنا ہاتھ بھی کاٹ لیا تھا۔

    پھر جب میرے بھائی سے ان کی لڑائی ہوئی تو یہ طے پایا کہ انہیں ایک آخری موقع دے کر گھر میں رکھ لیا جائے، بشرطیکہ وہ نشہ چھوڑ دیں اور کام کاج کریں۔ اسی بنیاد پر وہ تحریر لکھوائی گئی جو میں نے آپ کو بھیجی ہے۔ اس تحریر میں انہوں نے صرف ’’طلاق‘‘ لکھا تھا، لیکن میری بہن نے بول کر ’’تین طلاق‘‘ لکھوا دیا۔ اب میرے شوہر کا کہنا ہے کہ اس وقت مجھے اپنی فیملی کو حاصل کرنا تھا، اس لیے دباؤ میں آکر مجھے یہ لکھنا پڑا۔ میرے شوہر ابھی نشے کے علاج کے سلسلے میں ہسپتال میں داخل ہیں۔ براہِ کرم شریعت کے اعتبار سے میری رہنمائی فرمائیں کہ مجھے اب کیا کرنا چاہیے؟

    آخر میں لکھوائی گئی تحریر مندرجہ ذیل ہے:

    راحیمہ کا بیان: نہ میں خود باہر جاؤں گی اور نہ ہی ان کے ساتھ باہر جاؤں گی، جب تک کہ یہ نشے کے اثر سے باہر نہیں نکل جاتے۔ اگر پندرہ دن کی مہلت کے دوران ٹھیک ہوتے ہوئے انہوں نے دوبارہ نشے کے عادی ہوئے ، تو میں ان سے خلع لے لوں گی۔

    عبدالرؤف کا بیان: میں، عبدالرؤف، یہ مکمل پختہ عہد کرتا ہوں کہ پندرہ دن تک میں مکمل طور پر کمرے میں ہی رہوں گا اور اس کے بعد بھی خود روزگار حاصل کرنے تک اپنی بیوی کو لے کر گھر سے باہر نہیں نکلوں گا۔ ’’اگر میں نے اپنا عہد توڑ کر باہر نکلا یا اپنی بقیہ زندگی میں کبھی بھی کوئی نشہ کیا، تو میں اور راحیمہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے الگ ہو جائیں گے‘‘۔میں، عبدالرؤف، اپنی مرضی اور رضا سے یہ عہد کرتا ہوں کہ ’’اگر ایک بار پندرہ دن کیلئے کمرے میں رہا، تو اس کے بعد اپنی پوری زندگی میں دوبارہ کبھی بھی ہیروئن کو ہاتھ لگایا، تو مجھ میں اور میری بیوی کے درمیان مکمل تین طلاقیں خود بخود واقع ہو جائیں گی‘‘۔اور اپنی بیوی کو بھی خود سے روزگار حاصل کرنے کے بعد ہی اپنے ساتھ لے کر گھر سے نکلوں گا، اس سے پہلے نہیں۔

    نوٹ: شوہر سے Rehab Centre میں رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ شوہر کے آخری تحریری بیانیہ کے بعد شوہر کمرے میں 1 مہینہ رہے اور چار مہینے بعد باہر نکل کر انہوں نے ہیروئن پی، ابھی فی الحال علاج کیلئے Rehab Centre میں ہیں۔ انہوں یہ تحریر نشہ کرنے کے محض 15 منٹ بعد لکھی اور وہ اس وقت نشے کی حالت میں تھے، نیز یہ تحریر کسی باقاعدہ اسٹامپ پیپر پر نہیں تھی بلکہ ایک عام کاغذ پر لکھی گئی۔

    ری ہیب سینٹر

    سائلہ: راحیمہ، بمعرفت مولانا مدثر المدنی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    آپ دونوں کا نکاح بدستور قائم ہے اور بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ کیونکہ مذکورہ تحریر لکھتے وقت شوہر نشے کی حالت میں تھے، نیز یہ تحریر شرعی و عرفی اعتبار سے ’’غیر مرسومہ‘‘تھی، جس کی بنا پر اس تحریری تعلیق کا اعتبار نہیں۔ تاہم، ماضی میں وقوعِ طلاق کے باوجود بغیر شرعی طریقے کے ساتھ رہنے اور حدودِ الٰہی کے ساتھ لاپرواہی برتنے پر میاں بیوی دونوں پر سچی توبہ لازم ہے۔

    تفصیل مسئلہ:

    فقہی اعتبار سے تحریر، کلام کے تابع ہوتی ہے۔ اور تحریری طلاق کی دو اقسام ہیں: مرسومہ اور غیر مرسومہ۔ مرسومہ تحریر وہ ہوتی ہے جو باقاعدہ عنوان، اور دستخط کے ساتھ کسی مستند کاغذ (جیسے اسٹامپ پیپر یا قانونی دستاویز) پر لکھی جائے، جسے عرفِ عام میں معتبر مانا جاتا ہو۔ جبکہ غیر مرسومہ وہ جس میں مذکورہ شرائط میں سے کوئی شرط مفقود ہو۔پوچھے گئے سوال میں یہ تحریر ایک عام کاغذ پر لکھی گئی تھی، جس کی کوئی قانونی یا باقاعدہ حیثیت نہیں۔ ایسی غیر مرسومہ تحریر سے طلاق یا تعلیقِ طلاق تب ہی واقع ہوتی ہے جب لکھنے والے کی نیت طلاق دینے کی ہو، جبکہ یہاں شوہر کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ تحریر محض فیملی کو حاصل کرنے کیلئے لکھی تھی کوئی طلاق مراد نہیں تھی، لہذا اس تحریر کا اعتبار نہیں ہوگا۔

    نیز یہ امر نہایت قابلِ افسوس ہے کہ ماضی میں تین طلاقوں کے بعد محض حلف کو بنیاد بنا کر ساتھ رہا گیا اور اولاد بھی ہوئی۔ یاد رکھیں کہ تین طلاقوں کے بعد عورت شوہر پر حرمتِ غلیظہ کے ساتھ حرام ہو جاتی ہے اور حلالہ شرعیہ کے بغیر رجوع کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ اس عرصے میں ساتھ رہنا گناہِ کبیرہ تھا۔ اگرچہ بعد میں دوسرے نکاح (حلالہ کے بعد) سے رشتہ بحال ہو گیا، لیکن سابقہ جسارت پر اللہ سے معافی مانگنا لازم ہے۔ اب چونکہ نکاح قائم ہے، تو شوہر نشے کی لت سے تائب ہو کر اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور آئندہ طلاق جیسے الفاظ کو کھیل نہ بنائیں۔

    دلائل و جزئیات:

    ردالمحتارمیں ہے: "الْقَلَمَ أَحَدُ اللِّسَانَيْنِ".ترجمہ:’’قلم دو زبانوں میں سے ایک ہے‘‘۔(ردالمحتار ،9/587، مکتبہ امدادیہ ملتان)

    الاشباہ والنظائرمیں ہے: "قَالَ فِي الْهِدَايَةِ: وَالْكِتَابُ كَالْخِطَابِ".ترجمہ:’’ہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی ‘‘ میں ہے :تحریر خطاب کی طرح ہی ہے‘‘۔(الاشباہ والنظائر ،3/120، مکتبہ ادارۃالقرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی)

    ‎تبیین الحقائق میں امام فخرالدین زیلعی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "ثُمَّ الْكِتَابُ عَلَى ثَلَاثِ مَرَاتِبَ مُسْتَبِينٌ مَرْسُومٌ، وَهُوَ أَنْ يَكُونَ مُعَنْوَنًا أَيْ مُصَدَّرًا بِالْعِنْوَانِ، وَهُوَ أَنْ يَكْتُبَ فِي صَدْرِهِ مِنْ فُلَانٍ إلَى فُلَانٍ عَلَى مَا جَرَتْ بِهِ الْعَادَةُ فِي تَسْيِيرِ الْكِتَابِ فَيَكُونُ هَذَا كَالنُّطْقِ فَلَزِمَ حُجَّةً، وَمُسْتَبِينٌ غَيْرُ مَرْسُومٍ كَالْكِتَابَةِ عَلَى الْجُدْرَانِ وَأَوْرَاقِ الْأَشْجَارِ أَوْ عَلَى الْكَاغَدِ لَا عَلَى وَجْهِ الرَّسْمِ فَإِنَّ هَذَا يَكُونُ لَغْوًا لِأَنَّهُ لَا عُرْفَ فِي إظْهَارِ الْأَمْرِ بِهَذَا الطَّرِيقِ فَلَا يَكُونُ حُجَّةً إلَّا بِانْضِمَامِ شَيْءٍ آخَرَ إلَيْهِ كَالنِّيَّةِ وَالْإِشْهَادِ عَلَيْهِ وَالْإِمْلَاءِ عَلَى الْغَيْرِ حَتَّى يَكْتُبَهُ لِأَنَّ الْكِتَابَةَ قَدْ تَكُونُ لِلتَّجْرِبَةِ، وَقَدْ تَكُونُ لِلتَّحْقِيقِ. وَبِهَذِهِ الْأَشْيَاءِ تَتَعَيَّنُ الْجِهَةُ، وَقِيلَ الْإِمْلَاءُ مِنْ غَيْرِ إشْهَادٍ لَا يَكُونُ حُجَّةً، وَالْأَوَّلُ أَظْهَرُ، وَغَيْرُ مُسْتَبِينٍ كَالْكِتَابَةِ عَلَى الْهَوَاءِ أَوْ الْمَاءِ، وَهُوَ بِمَنْزِلَةِ كَلَامٍ غَيْرِ مَسْمُوعٍ، وَلَا يَثْبُتُ بِهِ شَيْءٌ مِنْ الْأَحْكَامِ، وَإِنْ نَوَى"۔ترجمہ:’’ تحریر کی تین اقسام ہیں(پہلی قسم) مستبینہ مرسومہ اور وہ وہ ہوتی ہے کہ شروع میں عنوان ہو اورشروع میں اس طرح لکھے کہ فلاں سے فلاں کی طرف جس طرح پر خط بھیجنے کی لوگوں کی عادت جاری ہو چکی ہے تو یہ بولنے کی طرح ہے پس یہ ضرور حجت ہوگی ۔(دوسری قسم)مستبینہ غیرمرسومہ جیسے دیواروں پر لکھنا اور درختوں کے پتوں پر لکھنا یا کاغذپرغیر معروف طریقے سے لکھنا ،بے شک یہ تحریرلغو ہے کیونکہ اس طریقے سے کسی امر کے اظہار کا ہمارے ہاں عرف نہیں پس یہ حجت بھی نہیں ہوگامگر جب اس کے ساتھ کوئی دوسری چیز ملی ہوئی ہو۔ جیسا کہ طلاق کی نیت کرنایا اس تحریر پر گواہ بنانا، اور کسی دوسرے سے لکھواناحتی کہ وہ لکھ دے کیونکہ تحریر کبھی تجربہ کے لئے ہوتی ہے اور کبھی تحقیق کے لئے ان مذکورہ چیزوں کے ساتھ اس کی جہت متعین ہو جائے گی۔اور بعض نے کہا کہ املاء کرواناگواہوں کے بغیرہو تووہ حجت نہیں اور پہلا قول زیادہ واضح ہے۔اور (تیسری قسم)غیر مستبینہ جیسا کہ ہوایا پانی پر لکھنا اور یہ اس کلام کی طرح ہے جواتنا آہستہ ہو کہ سُنا نہ جا سکے( جس طرح دل میں کہی ہوئی بات )اس سے کوئی حکم ثابت نہیں ہوتا اگرچہ اس نے نیت بھی کی ہو ‘‘۔(تبیین الحقائق ،7/448، مرکز اہلسنت برکات رضاہند)

    حاشیہ شلبی میں’’تبیین الحقائق ‘‘کی مذکورہ عبارت کے تحت شیخ شلبی علیہ الرحمۃلکھتے ہیں: "(قَوْلُهُ مَرْسُومٌ) الْمَقْصُودُ مِنْ الْمَرْسُومِ أَنْ يَكُونَ عَلَى الْوَجْهِ الْمُعْتَادِ فِي إظْهَارِ الْأَمْرِ عُرْفًا كَالْكُتُبِ الْمُعَنْوَنَةِ وَالْمَحَاضِرِ وَالسِّجِلَّاتِ وَالْقِصَصِ وَنَحْوِهَا اهـ يَحْيَى (قَوْلُهُ وَمُسْتَبِينٌ غَيْرُ مَرْسُومٍ) وَهُوَ كِنَايَةٌ فَيَحْتَاجُ إلَى النِّيَّةِ اهـ. (قَوْلُهُ لَا عَلَى وَجْهِ الرَّسْمِ) أَيْ لَا عَلَى وَجْهِ الْمُعْتَادِ فِي إثْبَاتِ الْمَقَاصِدِ كَمَا يُكْتَبُ عَلَى الْكَاغَدِ لِتَجْرِبَةِ الْمِدَادِ أَوْ الْقَلَمِ أَوْ الْخَطِّ وَنَحْوِهَا. اهـ. (قَوْلُهُ كَالنِّيَّةِ) فَإِنْ كَانَ صَحِيحًا يُبَيِّنُ نِيَّتَهُ بِلِسَانِهِ وَإِنْ كَانَ أَخْرَسَ يُبَيِّنُ نِيَّتَهُ بِكِتَابَتِهِ كَذَا فِي الْمَبْسُوطِ اهـ.ترجمہ:(مرسوم) سے مقصود یہ ہے کہ وہ لوگوں کی عادت کے مطابق ہو جس طرح عرف میں کسی امر کے اظہار کے لئے تحریر لکھی جاتی ہے،جیساکہ عنوان والے خطوط یا سرکاری دستاویزات اورمعاہدات اوررجسٹر اور قصے اور اس کی طرح کی دیگر تحریریں۔ اورصاحب ِتبیین کاقول (مستبین غیر مرسوم) اس کا حکم کنایہ طلاق والا ہے پس اس میں نیت کی احتیاجی ہوگی۔اور اس کا یہ قول(لاعلی وجہ الرسم)یعنی مقاصدکو ثابت کرنے کے لوگوں کی عادت اور معروف طریقے پر نہ ہو ۔جیسا کہ کاغذ پر روشنائی چیک کرنے کے لئے یا قلم یا خط چیک کرنے کے لئے لکھنا۔تبیین کا قول (کالنیۃ)اگر وہ صحیح ہو توزبان سے اپنی نیت بتادے گا اور اگر گونگا ہوتو لکھ کراپنی نیّت بتادے گا ،اسی طرح’’ مبسوط ‘‘میں ہے۔ (المبسوط للسرخسی، /166، مکتبہ رشید کوئٹہ )

    ردالمحتارمیں علامہ ابن عابدین سید محمد امین ا لمعروف شامی علیہ الر حمۃ فرماتے ہیں: "الْكِتَابَةُ عَلَى نَوْعَيْنِ: مَرْسُومَةٍ وَغَيْرِ مَرْسُومَةٍ، وَنَعْنِي بِالْمَرْسُومَةِ أَنْ يَكُونَ مُصَدَّرًا وَمُعَنْوَنًا مِثْلُ مَا يُكْتَبُ إلَى الْغَائِبِ. وَغَيْرُ الْمَرْسُومَةِ أَنْ لَا يَكُونَ مُصَدَّرًا وَمُعَنْوَنًا ... غَيْرَ مَرْسُومَةٍ إنْ نَوَى الطَّلَاقَ يَقَعُ وَإِلَّا لَا، وَإِنْ كَانَتْ مَرْسُومَةً يَقَعُ الطَّلَاقُ نَوَى أَوْ لَمْ يَنْوِ".ترجمہ:’’ کتابت طلاق کی دو قسمیں ہیں (۱ )مر سومہ (۲)غیر مرسومہ، اور مرسومہ سے ہماری مراد یہ ہے کہ اس پر طلاق نامہ کا عنوان ہو اور تمہید ہو جیسے کسی غائب کو خط لکھاجاتا ہے ۔اورغیر مر سو مہ سے ہما ری مراد یہ ہے کہ جس پر طلاق نامہ کا عنوان نہ ہو،اور وجوہِ طلاق بھی بیان نہ کی جائیں... تحریر طلاق اگر غیرمرسومہ ہو اورشوہر نے طلاق کی نیت کی تو طلاق واقع ہو جائے گی اور اگر نیت نہ کی تو طلاق واقع نہ ہو گی اورتحریر ِطلاق اگر مرسومہ ہے (جیساکہ مروجہ قانونی طلاق نامہ) اس کے سبب طلاق واقع ہو جائے گی چاہے طلاق کی نیت ہویا نہ ہو‘‘۔( ردالمحتار، 4/455 ،مکتبہ امدادیہ ملتان)

    طلاق کے حکم کو مذاق بنانے والوں کو رب تعالی کا ارشاد ہے:تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَاۚ-وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ.ترجمہ: یہ اللہ کی حدیں ہیں ان سے آگے نہ بڑھو اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے تو وہی لوگ ظالم ہیں ۔(البقرۃ: 229)

    تین طلاق کے بعد بیوی کو پاس رکھنے والے کو مفتی محمدوقا را لدین قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’جس شخص نے مطلقہ ثلاثہ کو اپنے پاس رکھا ہے، وہ حرام کاری میں مبتلا ہوا۔ اہل محلہ اور رشتہ داروں کو اس سے ملنا جلنا ناجائز و گناہ تھا، جب تک و ہ اس عورت کو اپنے سے جدا نہ کردے اور بالاعلان توبہ نہ کرے‘‘۔ (وقار الفتاوٰی،3/165،بزم وقارالدین کراچی)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:21رمضان المبارک 1447ھ/11 مارچ 2026ء