والدہ کی اخراجات سے بچت اور مکان کی ملکیت کا تعین
    تاریخ: 9 اپریل، 2026
    مشاہدات: 8
    حوالہ: 1109

    سوال

    میں کنیز بیگم زوجہ بشیر صدیقی، میرے 5 بیٹے ندیم، وسیم، شاہنواز، سرفراز اور رمیز اور 3بیٹیاں نرگس، نسرین، ناہد ہیں۔ میں 1991 میں اپنی والدہ کے گھر کو چھوڑ کر دوسرے گھر کرائے پر گئی۔ میرے بڑے بیٹے ندیم 1991 سے کمانے کیلئے لگے، باقی اور بیٹی بیٹے اس وقت پڑھتے تھے۔ میرے شوہر کی آمدنی کم تھی، گھر چلانے کیلئے میرا بڑا بیٹا ندیم میرے شوہر کو خوراکی دیا کرتے تھے اور میں خود بھی چھوٹے موٹے کام کر کے گھر چلاتی تھی۔ 1995 میں ندیم کو حامد گارمنٹس میں کانٹریکٹ مل گیا، اس کے بعد گھر کے معاملات وہی دیکھتا تھا اور گھر میں خوراکی بھی وہی زیادہ دیتا تھا۔ میرا دوسرا بیٹا وسیم 93-1992 میں وہ بھی کام میں لگ گیا اور پھر وہ بھی گھر میں خوراکی دینے لگا۔ اس کے بعد 1995 میں ندیم نے اسے کام سے ہٹا کر میٹرک کے امتحان دلوائے، پھر میٹرک کے بعد وہ دوبارہ کام میں لگا اور خوراکی دینے لگا۔ میرا تیسرا بیٹا شاہنواز، 1996 میں اس کو بڑے بیٹے ندیم نے کام سکھانے کیلئے صدر بھیجا اور تقریباً ڈیڑھ سے دو سال اس کو کرایہ بھاڑا بھی دیا، اس کے بعد ڈیڑھ سے دو سال بعد شاہنواز بھی گھر میں اپنی خوراکی دینے لگا۔ اس وقت شاہنواز 2 ہزار روپے دیتا تھا 1998 سے، اور وسیم جو کہ 3 ہزار روپے دیتا تھا اور بڑا بیٹا ندیم چار سے پانچ ہزار روپے خوراکی دیتا تھا اور میرے شوہر بھی دو سے تین ہزار خوراکی دیتے تھے اور میں خود بھی چھوٹے موٹے کام کر کے گھر چلاتی تھی۔ پھر ہم اورنگی ٹاؤن چھوڑ کر ناگن چورنگی شفٹ ہوئے، اس وقت پھر سب نے خوراکی بڑھا کر دی، ندیم پانچ سے چھ ہزار روپے خوراکی دیتا تھا، وسیم تین سے چار ہزار روپے خوراکی دیتا تھا اور شاہنواز دو سے تین ہزار روپے خوراکی دینے لگا، میرے شوہر بھی تقریباً دو سے تین ہزار روپے دیتے تھے۔

    اب میں نے پچھلے کئی سال سے گھر کی خوراکی میں سے 4 لاکھ روپے جمع کیے، ان پیسوں کو جمع کرنے کیلئے اپنے بچوں کو سادہ کھلایا اور ہاتھ کھینچ کر چلی اور بڑی پریشانیوں سے اپنی خواہش اور اپنے بچوں کی خواہش کو مار کر جمع کیے تھے کیونکہ میرا گھر کرائے کا تھا اور میری خواہش تھی کہ میں جلد از جلد اپنا گھر لے لوں تاکہ کرائے میں در بدر نہ رہوں اور آرام سے اپنے بچوں کے ساتھ رہ سکوں۔ ہم نے یہ مکان دو منزلہ گراؤنڈ پلس ون لیا جو 2002 میں لیا تھا جس کی کل رقم 5 لاکھ 35 ہزار تھی اور اس گھر میں ڈھائی 2.5 لاکھ قرض کی رقم بھی تھی جو ان 5لاکھ 35 ہزار سے الگ تھی، اور اس میں 4لاکھ میرے پاس تھے باقی 1لاکھ روپے میرے بڑے بیٹے ندیم نے ذاتی پیسوں سے دیے اور 36 ہزار روپے میری بڑی بیٹی نرگس نے ذاتی دیے جو اس نے اسکول میں پڑھا کر جمع کیے تھے تو یہ رقم 5لاکھ 35 ہزار ہوئی اور اس کے بعد ڈھائی 2.5 لاکھ روپے کی رقم جو قرض تھی وہ میرے شوہر مرحوم، ندیم، وسیم اور شاہنواز نے ذاتی پیسوں سے ادا کی 2009 میں۔

    آپ سے یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ جو پیسے 4لاکھ میں نے گھر لینے کیلئے جمع کیے تھے وہ میں نے کس طرح جمع کیے تھے وہ میں نے پہلے ہی بتایا اور وہ پیسے میں نے جو سب اپنی خوراکی دے دیتے تھے اس سے بچا کر جمع کیے تھے اور ان پیسوں کو جمع کرنے کیلئے میں نے اپنے بچوں کو سادہ کھلایا، اپنی خواہش اور بچوں کی خواہش کو مار کے اور بڑی تکلیف سہہ کر جمع کیے تھے، تو یہ پیسے قرآن و حدیث کی روشنی میں کیا یہ وراثت تصور کیے جائیں گے؟ کیونکہ یہ پیسے میں نے جمع کیے تھے یا پھر ان چار لوگوں میں حصہ لگے گا جو اپنی خوراکی دیتے تھے؟

    2010-2009 میں میرے بڑے بیٹے ندیم، وسیم اور نرگس نے اس گھر کی تعمیر کرائی اور اس بات کی اجازت اپنے والدین سے لی اور اس وقت اس رضامندی سے بنائی کہ جب بھی یہ گھر فروخت ہوگا تو اس علاقے کی گراؤنڈ پلس ون کی ری سیل ویلیو علیحدہ کر کے اور جتنے بھی پیسے لگیں گے وہ ہم تین نے جس طرح سے لگائے ہیں اس طرح تقسیم کر لیں گے اور اس بات پر میرے والدین راضی تھے۔ آج یہ گھر 1 کروڑ 33 لاکھ میں سیل کیا گیا ہے اور اس وقت اس علاقے میں گراؤنڈ پلس ون کی قیمت 90 لاکھ سے ایک کروڑ ہے تو 33 لاکھ روپے جو ہم دو بھائی اور ایک بہن نے والدین کی رضامندی سے لگائے تھے اسے علیحدہ کر لیے اور 1 کروڑ کی رقم جو 5 لاکھ 35 ہزار اور ڈھائی 2.5 لاکھ دونوں رقم بڑھ کر آج 90 لاکھ سے کروڑ میں پہنچی ہے اس کی تقسیم کا طریقہ بتائیں اور یہ اوپر کی تعمیر جو ہم تین بھائی بہن نے کی تھی اس میں سب بھائی بہن رہائش پذیر ہیں یعنی سب مل کر پورے گھر میں رہتے ہیں۔

    میرے بڑے بیٹے ندیم جو شروع سے معاملات اور لین دین میں آگے تھا اور جس نے بھائی بہنوں کی شروع سے دیکھ بھال کی، اس کی خواہش، میری خواہش اور میرے شوہر مرحوم کی خواہش اور باقی سب بچوں کی خواہش یہ ہے کہ یہ رقم وراثت کے طور پر سب بچوں میں تقسیم کی جائے اور شاہنواز کا کہنا یہ ہے کہ اسے چار حصوں میں تقسیم کر دیا جائے اور ایک حصہ اسے دے دیا جائے مگر اس کا کہنا یہ ہے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں جو فیصلہ آئے گا میں اسے قبول کروں گا، تو یہ تو آپ مجھے قرآن و حدیث کی روشنی میں بتائیں کہ یہ وراثت کی شکل میں ہے یا چار حصوں کی شکل میں ہے؟ کیونکہ اس وقت میرے دو بیٹے بہت چھوٹے تھے اور تین بیٹے بڑے تھے، میں نے بہت مشکل سے وقت گزار کر یہ پیسے اپنے بچوں کی خواہش کو مار کر جمع کیے تھے، میں چاہتی ہوں کہ میرے کسی بھی بچے کے ساتھ ناحق نہ ہو۔ میرے تمام بچے اور میرے مرحوم شوہر اور میں چاہتی ہوں کہ یہ پیسے میرے تمام بیٹے اور بیٹیوں میں وراثت کی شکل میں سب کو تقسیم ہوں۔ میں 2015-2014 سے اپنے چھوٹے بیٹوں اور اپنے شوہر کے ساتھ الگ کھاتی پکاتی ہوں، میں نے اپنے تین بڑے بیٹوں کو الگ کر دیا ہے وہ سب اسی گھر میں رہتے ہیں مگر سب کا کھانا پکانا الگ ہے۔ میرے تیسرے نمبر والے بیٹے شاہنواز کا کہنا ہے کہ وراثت صرف چار حصوں میں تقسیم کر دی جائے یا پھر قرآن و حدیث کی روشنی میں جو فیصلہ ہوگا وہ میں مان لوں گا۔ میں یہ کہہ رہا ہوں آپ مجھے بیان کر دیں کہ ان پیسوں کو کیسے قرآن و حدیث کی روشنی میں تقسیم کیا جائے؟ میرے شوہر 14 نومبر 2025 کو انتقال کر گئے ہیں، میں عدت میں ہوں، براہِ مہربانی آپ مجھے اس کا طریقہ کار بتا دیں، آپ کی مہربانی ہوگی۔

    سائل: رمیز


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    تعمیراتی رقم (33 لاکھ روپے) کا حکم: سب سے پہلے یہ بات واضح رہے کہ گھر کی اوپر والی منزل کی تعمیر پر جو 33 لاکھ روپے خرچ ہوئے، وہ وراثت کا حصہ نہیں ۔ چونکہ یہ رقم تین بچوں (ندیم، وسیم اور نرگس) نے والدین کی اجازت سے اپنے ذاتی مال سے لگائی تھی، اس لیے گھر کی کل قیمت (1 کروڑ 33 لاکھ) میں سے یہ 33 لاکھ روپے نکال کر سب سے پہلے ان تینوں کو ان کے لگائے گئے تناسب(فیصد) سے دیے جائیں گے۔

    گھر کی ملکیت اور بچت شدہ رقم (4 لاکھ) کا شرعی حکم: عام عرف اور خاندانی رواج میں جب اولاد جوائنٹ فیملی سسٹم میں اپنی والدہ کو گھر کے اخراجات (خوراکی) کیلئے رقم دیتی ہے، تو وہ شرعاً ہبہ (تحفہ) کے زمرے میں آتی ہے۔ اس رقم سے کی جانے والی بچت پر والدہ کا مکمل ملکانہ قبضہ ثابت ہوتا ہے۔ چونکہ والدہ (کنیز بیگم) نے یہ رقم اپنی خواہش اور صوابدید سے گھر خریدنے کیلئے جمع کی تھی، لہٰذا وہ 4 لاکھ روپے شرعاً والدہ ہی کی ملکیت تھے۔ مکان کی خریداری کے وقت والدہ کی نیت اپنے لیے گھر لینے کی تھی (جیسا کہ سوال میں مذکور ہے کہ ’’ میری خواہش تھی کہ میں جلد از جلد اپنا گھر لے لوں‘‘)، اس لیے اس رقم کے تناسب سے اس گھر کی اتنی ملکیت والدہ کی قرار پائے گی۔

    قرض کی ادائیگی اور دیگر حصص: گھر کی کل قیمت میں جو رقم دیگر افراد نے شامل کی (مثلاً ندیم کے ایک لاکھ، نرگس کے 36 ہزار اور بعد میں ڈھائی لاکھ روپے قرض کی ادائیگی جو مرحوم شوہر اور تین بیٹوں نے مل کر کی)، اس ادائیگی سے وہ تمام افراد اس گھر میں اپنے اپنے لگائے گئے پیسوں کے تناسب سے حصہ دار بن گئے۔ شرعی قاعدے کے مطابق جس نے جتنا پیسہ لگایا، وہ اتنے فیصد حصے کا مالک ہے۔

    وراثت (ترکہ) کی تقسیم کا طریقہ: وراثت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ صرف وہی مال تقسیم ہوتا ہے جو انتقال کے وقت مورث (مرنے والے) کی ذاتی ملکیت میں ہو۔ چونکہ یہ گھر مکمل طور پر مرحوم بشیر صدیقی کی ملکیت نہیں تھا، بلکہ اس میں بیوہ (والدہ) اور بچوں کا تناسبی حصہ پہلے سے موجود ہے، اس لیے پورے گھر کو مرحوم کا ترکہ قرار دے کر تقسیم کرنا درست نہیں۔

    گھر کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم (تعمیراتی خرچ نکال کر جو 1 کروڑ بچی ہے) میں سے صرف اتنا حصہ مرحوم بشیر صدیقی کا ترکہ شمار ہوگا جو انہوں نے قرض کی ادائیگی میں اپنی جیب سے ادا کیا تھا۔اور شاہنواز کا یہ کہنا کہ رقم صرف 4 حصوں میں تقسیم ہو، شرعاً درست نہیں۔

    مرحوم کا جو حصہ نکلے گا، اسے تمام ورثاء میں قرآن و حدیث کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق یوں تقسیم کیا جائے گا کہ اگر وہی ورثاء ہیں جو سوال میں مذکور ہیں تومرحوم (بشیر صدیقی) کے کفن دفن کے اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لئے وصیت کی ہو تو اس کو مرحوم کے تہائی مال سے پورا کرنے کے بعد تمام ترکہ کے کل 104 حصے کئے جائیں گےجن میں سےمرحوم کی زوجہ کو 13 حصے، 5 بیٹوں میں سے ہر ایک کو 14 اور 3 بیٹیوں میں سے ہر ایک کو 7 حصے تقسیم ہونگے۔اس ترکے کی حسابی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ ترکے کی کل رقم کو مبلغ یعنی 104 سے تقسیم Divide کریں جو جواب آئے اسے محفوظ کرلیں اور اسے ہر ایک وارث کے حصے پر ضرب Multiplyدے دیں، حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔یاد رہے کہ ترکے کی تقسیم کے وقت ہر چیز کی تقسیم کا حکم الگ الگ بیان نہیں کیا جاتا، بلکہ منقولہ و غیر منقولہ ترکے (مثلاً: دکان، مکان، پلاٹ، زمین، زیورات، بینک اکاؤنٹ وغیرہ) میں سے ہر چیز کو فروخت کرکے یا اس کی موجودہ قیمت لگا کر مجموعی مالیت نکالی جاتی ہے اور پھر اس سب مال کی شریعت کے مطابق تقسیم ہوتی ہے۔

    ضروری وضاحت: یہ بات خاص طور پر ملحوظ رہے کہ اولاد اپنے مرحوم والد کے ترکے کی تقسیم کا مطالبہ تو کر سکتی ہے، لیکن والدہ کے حصے کی تقسیم کا مطالبہ کرنے کا انہیں شرعاً کوئی حق حاصل نہیں۔ شریعت کی رو سے ترکہ وفات کے بعد تقسیم ہوتا ہے، زندگی میں نہیں۔ والدہ اپنے حصے کی مکمل مالک ہیں، وہ اسے جہاں چاہیں خرچ کریں یا اپنے پاس محفوظ رکھیں؛ اولاد کا ان کی زندگی میں اس حصے پر دعویٰ باطل ہے۔ اگر اس قسم کے ناجائز مطالبے سے والدہ کو قلبی اذیت پہنچی تو یہ نافرمانی کے زمرے میں آتا ہے جس پر سخت اخروی عذاب کی وعید ہے۔

    دلائل و جزئیات:

    السراجی فی المیراث میں ہے : "تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ : الاول یبدا بتکفینہ وتجھیزہ من غیر تبذیر ولا تقتیر، ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ، ثم تنفذ وصایا ہ من ثلث ما بقی بعد الدین ، ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ".ترجمہ:میت کے ترکہ کے ساتھ ترتیب وار چار حقوق متعلق ہیں: مناسب تجہیز و تکفین سے ابتدا کی جائے گی ، پھر بقیہ مال سے اس کے قرضے ادا کئے جائیں گے ، قرضوں کی ادائیگی کےبعد بقیہ مال کے ثلث سے وصیت کو نافذ کیا جائے گا ،پھر باقی ترکہ ورثاء کےدرمیان تقسیم کیا جائے گا۔ (السراجیۃ مع القمریۃ،ص:11/12،مکتبۃ المدینہ العلمیۃ کراچی)

    قرآنِ مجید میں زوجہ کے حصے کے متعلق اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے: وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ. ترجمہ: تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں۔(النساء:12)

    بیٹے بیٹیوں کے حصے کے بارے میں ارشاد باری تعالی ہے: یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ. ترجمہ: اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔ (النساء: 11)

    مالک کی اجازت سے تعمیرات کے حکم میں امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’فی العقود الدریۃ من کتاب العاریۃ سئل فی رجل بنی بمالہ لنفسہ قصرا فی دار ابیہ باذنہ ثم مات ابوہ عنہ و عن ورثۃ غیرہ فھل یکون القصر لبانیہ الجواب نعم کما صرح بذٰلک فی حاشیۃ الاشباۃ۔ترجمہ: العقود الدریۃ میں کتاب العاریۃ کے بیان میں مذکور ہے، ایک ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے اپنے باپ کی اجازت سے اس کی زمین پر اپنے مال سے اپنے لئے گھر بنایا پھر باپ اس سمیت دیگر ورثاء کو چھوڑ کر فوت ہوگیا تو یہ عمارت اس بانی کی ہوگی۔الجواب، ہاں۔ جیسا کہ اس کی تصریح الاشباہ میں ہے‘‘۔(فتاوی رضویہ،کتاب الوکالۃ ،جلد 19 ص 224 رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)

    الاشباہ کے الفاظ یہ ہیں:"كُلُّ مَنْ بَنَى فِي أَرْضِ غَيْرِهِ بِأَمْرِهِ فَالْبِنَاءُ لِمَالِكِهَا".ترجمہ:جس نے غیر کی زمین میں اسکی اجازت سے تعمیرات کی تو تعمیرات مالک ِ زمین کی ہوگی۔

    اسکے تحت حاشیہ حموی میں ہے:"ھذا اذا اطلق او عینہ للمالک فلو عینہ لنفسہ فھو لہ".ترجمہ:یہ اس وقت ہے جب اس نے تعمیرات مطلق رکھی یا مالک کے لئے انہیں متعین کردیا لیکن اگر اس نے اپنے لئے تعیین کردی تو وہ تعمیرات اسکی ہوگی۔(حاشیۃ الحموی علی الاشباہ ،2/100)

    فقہی ضابطے’’القول قول الدافع‘‘کے بیان میں امام اہلسنت رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:’’ان مسائل میں اصل کلی یہ ہے کہ جوشخص اپنے مال سے کسی کو کچھ دے اگر دیتے وقت تصریح ہوکہ یہ دینا فلاں وجہ پر ہے مثلاً ہبہ یا قرض یا ادائی دین ہے جب توآپ ہی وہی وجہ متعین ہوگی اور اگر یہ کچھ ظاہر نہ کیا جائے تو دینے والے کا قول معتبر ہے کہ وہ اپنی نیت سے خوب آگاہ ہے اگر اپنی نافع نیت بتائے گا مثلاً کہے میں نے قرضاً دیا قرض میں دیا ہبہ مقصود نہ تھا تو اس کا قو ل قسم کے ساتھ مان لیا جائے گا اور جو اس کے خلاف کا مدعی ہو وہ محتاج اقامت بینہ ہوگا مگر جبکہ قرائن ودلائل عرف سے اس کا یہ قول خلاف ظاہر ہو تو نہ مانیں گے اور اسی کو اقامتِ بینہ کی تکلیف دیں گے بکثرت مسائل اسی اصل پر متفرع ہیں، مداینات العقود الدریۃ میں بزازیہ سے ہے: القول قول الدافع لانہ اعلم بجھۃ الدفع.ترجمہ: دینے والے کی بات معتبر ہوگی کیونکہ دینے کی وجہ کو وہ بہتر جانتا ہے۔(فتاوی رضویہ،16/96،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    ورثاء اسی چیز کےمستحق ہوتے ہیں، جو مرنے والے کی ملک ہو، چنانچہ امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:”ورثاء اس چیز کے مستحق ہوتے ہیں، جو مورث کی ملک اوراس کاترکہ ہو‘‘۔ (فتاوی رضویہ،17/306،رضافاؤنڈیشن،لاھور)

    اسی بارےمیں ایک اورمقام پرارشادفرماتےہیں:”ارث متعلق نہ شود جز بترکہ وترکہ نیست جزآنکہ ہنگام موت مورث درملک اوست.یعنی میراث کاتعلق ترکہ کے ماسوا کے ساتھ نہیں ہوتا اورترکہ سوائے اس شے کے نہیں جو مورث کی موت کے وقت اس کی ملکیت میں ہو۔(فتاوی رضویہ،26/109،رضافاؤنڈیشن،لاھور)

    والدین کے متعلق قرآن مجید میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے: وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا. ترجمہ: اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ہُوں(اُف تک)نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا۔(بنی اسرائیل: 23)

    شعب الایمان کی روایت ہے، حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : "كُلُّ الذُّنُوبِ تُؤَخَّرُ إِلَى مَا شَاءَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا عُقُوقَ الْوَالِدَيْنِ، فَإِنَّهُ يُعَجِّلُهُ لِصَاحِبِهِ فِي الْحَيَاةِ قَبْلَ الْمَمَاتِ".ترجمہ: ماں باپ کی نافرمانی کے علاوہ اللہ تعالیٰ ہر گناہ میں سے جسے چاہے معاف فرما دے گا جبکہ ماں باپ کی نافرمانی کی سزا انسان کو موت سے پہلے زندگی ہی میں مل جائے گی۔( شعب الایمان، الخامس والخمسون من شعب الایمان... الخ، فصل فی عقوق الوالدین، 10/288، الرقم:7505، مكتبة الرشد) ۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:20 رمضان المبارک 1447ھ/10 مارچ 2026ء