سوال
میرے پھوپھا کا انتقال ہوا، ورثاء میں ایک بیوی اور صرف ایک بہن ہے ، انکے علاوہ کوئی وارث نہیں ہے۔ نہ بھائی نہ بہن نہ والدین، نہ تایا نہ انکی اولاد ۔ انکی وراثت سے کس کو کتنا حصہ ملے گا شرعی رہنمائی فرمائیں۔
سائل: خورشید احمد: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
بر تقدیرِصدقِ سائل و انحصارِ ورثاء یعنی اگر ورثاء صرف یہی ہیں جو بتائے گئے تو کل مالِ وراثت کو چار حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ، جس میں سے ایک حصہ(25 فیصد) بیوی کا اور تین حصے (75 فیصد ) بہن کو ملیں گے
مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کےمطابق ہے: بیویوں کےحصے بارے میں ارشاد ہے ۔قال اللہ تعالٰی:وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔(سورۃ النساء آیت نمبر 10، 11)
ایک بیٹی ہو تو اس کے حصے کے بارے میں ارشاد فرمایا: وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ۔ ترجمہ کنز الایمان : اور اگر ایک لڑکی تو اس کاآدھا۔(النساء :11)
رد کے اصول میں سے تیسرا یہ ہے کہ اگر من لایرد کے ساتھ من یرد کی صرف ایک صنف ہو تو اصلِ مسئلہ من لایرد کے سہام سے بناکر اس سے من لایرد کا حصہ اصل مسئلہ سے دے کر باقی من یرد پر لوٹادیں گے۔ جیساکہ سراجی میں ہے: والثالث: أن يكون مع الأول من لا يردّ عليه، فأعط فرضَ مَن لا يردّ عليه من أقل مخارجه، فإن استقام الباقي على رؤوس من يردّ عليه فبها كزوج وثلاث بنات، وإن لم يستقم فاضرب وفق رؤوسهم في مخرج فرضِ مَن لا يردّ عليه إن وافق رؤوسهم الباقي كزوج وست بنات، وإلا فاضرب كل رؤوسهم في مخرج فرضِ مَن لا يردّ عليه، فالمبلغ تصحیح المسألة۔ ترجمہ: تیسری قسم یہ ہے کہ اول (یعنی اہل رد) کے ساتھ من لا یرد علیہ (یعنی غیر اہل رد) ہو پس فرض من لا یرد علیہ (غیر اہل رد) کا (اس کے) کمتر مخارج سے دیدو۔ پس اگر باقی رؤوس من یرد علیہ ( یعنی اہلِ رد) پر مستقیم ہو جائے تو بہتر ہے مثلاً شوہر اور تین بیٹیاں (وارث) ہوں اور اگر وہ (باقی رؤس اہل رد پر) مستقیم نہ ہو تو ان (اہل رد) کے روس کے وفق کو من لا یرد علیہ (غیر اہل رد) کے مخرج میں ضرب دو۔ اگر ان (اہل رد) کے رؤس باقی کے متوافق ہوں مثلاً شوہر اور چھ بیٹیاں (وارث) ہوں۔ ورنہ ان ( اہلِ رد) کے رؤس کو فرض من لا یرد علیہ (غیر اہل رد) کے مخرج میں ضرب دو پس حاصل ضرب مسئلہ کی تصحیح ہو گی۔(السراجی، ص 71)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:18 صفر المظفر 1445ھ/ 05 ستمبر 2023 ء