تغییر وقف اور بلا عذر متولی کو معزول کرنے کا حکم
    تاریخ: 9 اپریل، 2026
    مشاہدات: 11
    حوالہ: 1110

    سوال

    زید نے ایک پلاٹ مسجد و مدر سے کیلئے ایک تنظیم کو وقف کیا اور تنظیم نے اُس جگہ پر مسجد تعمیر کی اور مسجد میں نماز بھی ہو رہی ہے اور مدرسہ بھی مسجد میں لگ رہا ہے اور مسجد کے امام کو ماہانہ تنخواہ بھی تنظیم دے رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ واقف کا انتقال ہو گیا اب واقف کا بیٹا یہ وقف ختم کرنا چا رہا ہے اور مسجد و مدرسہ کا انتظام خود چلانا چا رہا ہے۔ کیا واقف کا بیٹا یہ وقف کو ختم کر سکتا ہے یا نہیں ؟

    سائل: عبد اللہ، بمعرفت مفتی یونس انس القادری


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    زید کا بیٹا نہ تو اس وقف کو ختم کرکے اسے وراثت میں تقسیم کر سکتا ہے اور نہ ہی موجودہ متولی (تنظیم) کو بغیر کسی شرعی وجہ کے ہٹا کر انتظام خود سنبھالنے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔البتہ وقف کے انتظامی معاملات میں اس بیٹے کو استحسانا شامل کیا جائے۔

    جب کوئی شخص اپنی جائداد یا پلاٹ مسجد و مدرسہ کیلئے وقف کر دیتا ہے اور وہاں باقاعدہ نماز و تعلیم کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، تو وہ وقف تام اور لازم ہو جاتا ہے، جس کے بعد وہ واقف کی ذاتی ملکیت سے نکل کر خالصتاً مِلکِ الٰہی میں چلا جاتا ہے۔ لہٰذا، ایسے وقف کا ابطال یا اسے دوبارہ اپنی ملکیت میں لینا کسی صورت جائز نہیں ہے اور نہ ہی واقف کے ورثاء اس پر وراثت کا دعویٰ کر سکتے ہیں کیونکہ وقف پر وراثت جاری نہیں ہوتی۔

    جہاں تک مسجد و مدرسہ کے انتظام (تولیت) کا تعلق ہے، تو شرعی اصول کے مطابق تولیت کوئی ترکہ نہیں ہے کہ واقف کے وارثوں کا اس میں خود بخود حق بن جائے، بلکہ متولی مقرر کرنے کی ولایت واقف کو حاصل ہوتی ہے۔ چونکہ زید نے اپنی زندگی میں انتظام ایک تنظیم کے سپرد کر دیا تھا، اس لیے اب زید کے انتقال کے بعد اس کے بیٹے کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ زبردستی انتظام اپنے ہاتھ میں لے، کیونکہ کسی بھی متولی کو بغیر کسی شرعی جرم، خیانت یا نااہلی کے معزول نہیں کیا جا سکتا۔

    البتہ، متولی کے انتخاب اور تقرری میں یہ بنیادی اصول ہے کہ جب تک واقف کے اقارب اور اولاد میں سے کوئی شخص تولیت کی اہلیت رکھتا ہو، تو کسی اجنبی کو متولی نہیں بنایا جائے گا، کیونکہ واقف کا قریبی رشتہ دار وقف کے معاملے میں زیادہ شفیق واقع ہوتا ہے اور اس کا مقصد وقف کی نسبت کو اپنے خاندان کی طرف قائم رکھنا ہوتا ہے۔ اس ترتیب میں واقف کی اپنی اولاد اور ان کی نسلیں (نسلاً بعد نسل اور بطناً بعد بطن) سب سے مقدم اور حقدار ہیں، بشرطیکہ وہ دیندار، دیانتدار، ہوشیار اور کارگزار ہوں۔ چنانچہ جب تک خاندان اور اولاد میں کوئی لائق اور اہل شخص موجود ہو، تولیت کو اجنبیوں کی طرف منتقل نہیں کیا جائے گا، لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ یا تو واقف متولی کو معزول کرنے کا اختیار استعمال کرے یا موجودہ انتظام میں کوئی ایسی شرعی خرابی پیدا ہو جائے جو از خود تبدیلی کا تقاضا کرتی ہو، مثلاً: متولی سے خیانت یا اپنے کام سے ہی عاجز آنا ثابت ہوجائے ۔

    دلائل و جزئیات:

    شے موقوفہ انسان کی ملکیت سے نکل جاتی ہے، علامہ علی بن ابو بکر الفرغینانی (المتوفی:593ھ) فرماتے ہیں:"ان الوقف إزالة الملك إلى الله تعالى على وجه القربة".ترجمہ: وقف یہ ہے کہ اپنی ملکیت کو اللہ تعالی کیلئے عبادت کے طور پر زائل کرنا ۔(الہدایۃ،کتاب الوقف،شروط الوقف،3/19،دار احیاء التراث العربی)

    امام اہلسنت رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:’’تمام اوقاف علی الصحیح المفتی بہ اور خصوصا مساجدباجماع امت اﷲ عزوجل کے سواکسی کی ملک نہیں قال اﷲ تعالی:وانّ المساجد ﷲ (اور یہ کہ مسجدیں اﷲہی کی ہیں )‘‘۔(فتاوی رضویہ،16/393،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    وقف میں تغییر ہرگز جائز نہیں، الفتاوی الہندیۃ میں ہے:"وَلَا يَجُوزُ تَغْيِيرُ الْوَقْفِ عَنْ هَيْئَتِهِ".ترجمہ:اور وقف کو اسکی حالت سے تبدیل کرنا جائز نہیں ہے ۔( الفتاوی الہندیۃ،کتاب الوقف، الباب الرابع عشر فی المتفرقات، 2/365، دار الفکر)

    یونہی خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"الْوَاجِبَ إبْقَاءُ الْوَقْفِ عَلَى مَا كَانَ عَلَيْهِ".ترجمہ: وقف کو اسی حالت پر رکھنا واجب ہے جس حالت پر وہ فی الحال موجود ہے۔(رد المحتار، کتاب الوقف، مطلب فی استبدال الوقف وشروطہ، 4/388، دار الفکر بیروت)( فتح القدیر، کتاب الوقف،6/288، دار الفكر)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’وقف کو اس کی ہیئت سے بدلنا جائز نہیں اگرچہ مقصود واحد ہو مثلا کسی مسجد پر دکانیں وقف ہیں کہ ان کا کرایہ مسجد میں صرف ہوتا ہے انہیں حمام کردیا جائےا ور اس کا کرایہ مسجد کو دیا جائے یا حمام کا کرایہ مسجد پر وقف تھا اسے دکانیں کردیا جائے یہ ناجائزہے حالانکہ مقصودیعنی کرایہ واحد ہے‘‘۔(فتاوی رضویہ، 16/544، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    تولیت میں وراثت نہیں، امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’تولیت کوئی ترکہ نہیں کہ ہر وارث کا اس میں حق ہو تو لیت واقف کے اختیار کی ہے جسے متولی کردےوہی ہوگا۔ درمختار میں ہے: ولایۃ نصب القیم الی الواقف(متولی مقرر کرنے کی ولایت واقف کو حاصل ہے)‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 16/548، رضا فاؤنڈیشن لاہور) (فتاوی رضویہ، 16/601، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    تولیتِ وقف میں اقارب کی ترجیح ،علامہ مدقق علاؤ الدین حصکفی (المتوفی: 1088ھ) فرماتے ہیں: "وما دام أحد يصلح للتولية من أقارب الواقف لا يجعل المتولي من الأجانب) لأنه أشفق ومن قصده نسبة الوقف إليهم". ترجمہ: جب تک واقف کے قریبی رشتہ داروں میں کوئی صالح تولیت موجود ہو اجنبیوں میں سے کسی کو متولی نہیں بنایا جائے گا کیونکہ یہ وقف کے معاملہ میں زیادہ شفیق واقع ہوگا اور اس کا مقصد یہ ہوگا کہ وقف کی نسبت اس کے خاندان کی طرف قائم رہے۔ (الدر المختار، کتاب الوقف، فرع طالب تولیۃ الوقف لا یولی، 4/424، دار الفکر)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’جب تک واقف کی اولاد صلبی سے کوئی مرد لائق باقی رہے گا اولاد اولاد کو تولیت نہ پہنچے گی، جب ان میں کوئی نہ رہے گا اس وقت اولاد اولاد سے کوئی لائق متولی کیا جائے گا اور ان میں جب تک کوئی رہا تیسرے درجہ سے مقررر نہ کیا جائے گا وعلی ھذا القیاس نسلاً بعدنسلٍ اور بطناً بعد بطنٍ کے یہی معنی ہیں اس میں واقف کی اپنی اولاد واولاد اولاد واولاد اولاد ، اولاد سب داخل ہیں مگر بترتیب کہ سب سے مقدم اولاد پھر اولاد اولاد ، اولاد اولاد اولاد الٰی آخر الدہر۔ اسعاف میں ہے: لایکون للبطن الاسفل شیئ مابقی من البطن الاعلی احدوھکذا الحکم فی کل بطن حتی تنتہی البطون موت ۔ بطن اسفل کو کچھ حق نہ ملے گا جب تک بطن اعلٰی میں سے کوئی ایک موجود ہے، اور یہی حکم تمام بطنوں کا ہے حتی کہ موت کے سبب بطون منتفی ہوجائیں ‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 16/555، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    ایک اور مقام پر امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’اقربائے واقف میں سے جو شخص سنی پرہیز گار، دیندار، دیانتدار علماء وصلحائے اہلسنت کے اتفاق رائے سے اس کام کیلئے زیادہ مناسب ہو وہی سجادہ نشین ومتولی کیا جائے، علم، تقوٰی ودیانت واہلیت کا لحاظ سب سے مقدم ہوگا اور جب تک اقارب واقف میں سے ایسامل سکے اجنبیوں میں سے نہ کیا جائے گا‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 16/629، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    متولی کو کب معزول کیا جائے گا، اسکے متعلق علامہ مدقق علاؤ الدین محمد بن علی الحصکفی (المتوفی: 1088ھ) فرماتے ہیں: "(وَيُنْزَعُ) وُجُوبًا بَزَّازِيَّةٌ (لَوْ) الْوَاقِفُ دُرَرٌ فَغَيْرُهُ بِالْأَوْلَى (غَيْرَ مَأْمُونٍ) أَوْ عَاجِزًا أَوْ ظَهَرَ بِهِ فِسْقٌ كَشُرْبِ خَمْرٍ وَنَحْوِهِ فَتْحٌ".ترجمہ: متولی سے ولایت وقف وجوباً واپس لے لی جائیگی (بزازیہ) اگرچہ وہ خود واقف ہو(درر)تو غیر واقف سے بدرجہ اولٰی واپس لے لی جائیگی جب کہ وہ امین نہ ہو یا عاجز ہو یا اس کا فسق شراب نوشی وغیرہ ظاہر ہوچکاہو(فتح)۔ (الدر المختار، کتاب الوقف، مطلب في الوقف إذا خرب ، 4/380، دار الفکر)

    ظہورِ فسق کے صورت سے متعلق خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "وأن الناظر إذا فسق استحق العزل ولا ينعزل".ترجمہ: اور یہ کہ متولی جب فسق (گناہ) میں مبتلا ہو جائے تو وہ برطرفی کا مستحق ہو جاتا ہے، لیکن وہ (محض فسق کی وجہ سے خود بخود) برطرف نہیں ہوتا۔(رد المحتار، کتاب الوقف، تحت قولہ غیر مامون، 4/380، دار الفکر)

    صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:’’متولی اگر امین نہ ہو ،خیانت کرتا ہو یا کام کرنے یا کام کرنے سے عاجز ہے،یا علانیہ شراب پیتا ہو ،جوا کھیلتا ہو یا دوسرا علانیہ فسق کرتا ہو یا اسے کیمیا بنانے کی دھت ہو تو اسکو معزول کرنا واجب ہے‘‘۔(بہار شریعت، 2/577، مکتبۃ المدینۃ کراچی)

    متولی کے اوصاف بیان کرتے ہوئے امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں :”عاجز یا کاہل نہ ہو کہ اپنی حماقت یا نادانی یا کام نہ کرسکنے یا محنت سے بچنے کے باعث وقف کو خراب کرے“ ۔(فتاوی رضویہ، 16/557، رضا فاؤنڈیشن لاہور) ۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:20 رمضان المبارک 1447ھ/10 مارچ 2026ء