سوال
کیا جیل میں قیدی کی نیتِ اقامت معتبر ہے تاکہ وہ پوری نماز پڑھ سکے؟ ایک تنظیم کے ساتھ دور دراز علاقوں سے لاہور لائے گئے افراد کو ایک تھانے سے دوسرے تھانے منتقل کیا جاتا رہا، جس کے باعث وہ اکثر 15 دن سے کم مقیم رہے یا انہیں مدتِ قیام معلوم نہ تھی کہ کب آگے منتقل کر دیا جائے۔ چونکہ جیل آنے کے بعد اکثر 15 دن پورے ہونے سے پہلے ہی عدالت میں پیشی کیلئے منتقل کر دیا جاتا ہے، اس لیے قیام کی یقینی صورتحال نہیں بن پاتی۔ بعض لوگوں کی پیشی مسافتِ سفر سے زیادہ بھی ہوتی ہے، جہاں انہیں کبھی ویڈیو لنک اور کبھی خود جانا پڑتا ہے۔ ان تمام صورتوں کا شرعی حکم بیان فرما دیں۔کچھ افراد نے ابھی تک نیتِ اقامت اس لیے نہیں کی کہ شاید مذاکرات کامیاب ہو جائیں اور وہ رہا ہو جائیں، یا یہ کہ قیدی ہونے کی وجہ سے ان کی نیت معتبر نہیں ہے۔ لہٰذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ :
(۱) جیل میں قیدی نماز قصر پڑھے گا یا مکمل؟ (۲) کیا قیدی کی نیتِ اقامت معتبر ہے یا نہیں؟ (۳) اگر مذاکرات یا رہائی کی امید ہو تو نیت کرنی چاہیے یا نہیں؟ (۴) نیز، قیدی پر نمازِ جمعہ اور عیدین کا کیا حکم ہے؟ اگر وہ جمعہ پڑھے تو کیا ظہر ساقط ہوگی یا نہیں؟ اگر عید کی نماز نہ پڑھ سکتا ہو تو وہ دن کیسے گزارے، (۵) اور کیا قیدی پر صدقہ فطر واجب ہے یا نہیں؟
سائل: محمد امجد جمیل نقشبندی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
یہاں تین امور ہیں: (۱) قیدی نماز قصر پڑھے گا یا نہیں؟ (۲) جمعہ و عید پڑھے گا؟ (۳) قیدی پر صدقہ فطر واجب ہوگا؟
تمام کا جواب ترتیب وار ملاحظہ ہو:
قیدی کے قصر و اتمام صلاۃ کا حکم:
قصر کا تعلق اس مسافت سے ہے جو کم از کم 92 کلومیٹر یا اس سے زیادہ ہو۔ اگر کسی قیدی کو اس کے گھر یا جائے قیام سے گرفتار کر کے اتنی دور نہ لے جایا گیا ہو (یعنی مسافتِ سفر سے کم فاصلہ ہو)، تو ایسا قیدی شرعاً مسافر نہیں بلکہ مقیم ہی شمار ہوگا اور وہ اپنی تمام نمازیں مکمل پڑھے گا۔ ایسے شخص کیلئے نیتِ اقامت کا مسئلہ ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ وہ سفرِ شرعی کی حدود میں داخل ہی نہیں ہوا۔
تاہم، وہ قیدی جسے مسافتِ سفر کی دوری سے لایا گیا ہو، اس کا حکم یہ ہے کہ وہ اپنی مرضی سے نقل و حرکت نہ کر سکنے کی وجہ سے اپنی نیت میں خود مختار نہیں، بلکہ جیل حکام کے تابع ہے۔ چونکہ قیدی کو اپنی مدتِ قیام کا یقینی علم نہیں ہوتا اور اسے پندرہ دن سے پہلے ہی عدالت میں پیشی یا دوسرے مقام پر منتقل کیے جانے کا قوی امکان رہتا ہے، اس لیے ایسی غیر یقینی صورتحال میں اس کی نیتِ اقامت شرعاً معتبر نہیں ہوتی۔ لہٰذا، جب تک اسے کسی ایک مقام (جیسے لاہور) پر مستقل پندرہ دن قیام کا پختہ ارادہ یا یقینی علم نہ ہو، وہ شرعی مسافر ہی رہے گا اور چار رکعت والے فرائض میں قصر یعنی دو رکعت ادا کرے گا۔
جیل میں جمعہ اور عیدین کا حکم:
قیدی چاہے شرعی طور پر مسافر ہو یا مقیم، اس پر جمعہ اور عید کی نماز لازم نہیں ۔
شرعی اعتبار سے جمعہ اور عیدین کے واجب ہونے کیلئے سات بنیادی شرائط کا پایا جانا ضروری ہے، جن میں سے ایک اہم شرط اقامت ہے۔ چونکہ مسافر قیدی سفر کی حالت میں ہوتا ہے، اس لیے اس سے جمعہ و عید کا وجوب ساقط ہو جاتا ہے؛ ایسی صورت میں اس پر ظہر کی نماز ادا کرنا فرض ہے ۔دوسری وجہ یہ ہے کہ نمازِ جمعہ کیلئے اذنِ عام (عام اجازت) بھی شرط ہے، یعنی مسجد کا دروازہ اس طرح کھلا ہو کہ جس مسلمان کا جی چاہے وہ نماز کیلئے آ سکے اور کسی قسم کی روک ٹوک نہ ہو۔ چونکہ جیل پابندیوں والی جگہ ہے جہاں باہر سے عام لوگوں کے آنے کی اجازت نہیں ہوتی، اس لیے وہاں اذنِ عام کی شرط مفقود ہوتی ہے۔ لہٰذا جیل میں مقیم یا مسافر قیدیوں پر جمعہ لازم نہیں رہتا، بلکہ ان پر انفرادی طور پر ظہر کی نماز ادا کرنا لازم ہے۔یہی حکم عیدین کا ہے کہ جس پر جمعہ لازم نہیں اس پر عیدین بھی لازم نہیں۔
قیدی پر صدقہ فطر کا حکم:
صدقہ فطر کا وجوب شخص پر اس کی مالی حیثیت پر مبنی ہے۔اگر عاقل بالغ قیدی صاحبِ نصاب ہے یعنی اس کے پاس اپنی ضروریات سے زائد اتنی رقم یا مال موجود ہے جو نصابِ زکوٰۃ کو پہنچتا ہے، تو اس پر صدقہ فطر واجب ہے۔قید ہونا صدقہ فطر کے وجوب کو ساقط نہیں کرتا۔اگر اس کے پاس مال ہے تو وہ اپنی طرف سے اور اپنے نابالغ بچوں کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرے۔ہاں ادائیگی اگرچہ جیل میں ہونے کے سبب عید الفطر سے مؤخر ہوجائے کوئی گناہ نہیں لاتی کہ اس کا وقت عمر بھر ہے، ہاں انتقال کرگیا تو اس کے مال سے اس کا فطرانہ محسوب نہ ہوگا، کہ صدقہ فطر شخص پر واجب ہے مال پر نہیں۔
دلائل و جزئیات:
نمازِ قصر کے بارے میں اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الۡاَرْضِ فَلَیۡسَ عَلَیۡکُمْ جُنَاحٌ اَنۡ تَقْصُرُوۡا مِنَ الصَّلٰوۃِ٭ۖ اِنْ خِفْتُمْ اَنۡ یَّفْتِنَکُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا. ترجمہ: جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر اس کا گناہ نہیں کہ نماز میں قصر کرو اگر خوف ہو کہ کافر تمھیں فتنہ میں ڈالیں گے۔ (سورۃ النساء: 101)
سفرِ شرعی کی مسافت کے متعلق امام احمد رضا خان (المتوفی: 1340ھ) فرماتے ہیں:’’اگر اپنے مقام سے ساڑھے 57 میل (تقریبا 92 کلو میٹر) کے فاصلے پر علی الاتصال جانا ہو کہ وہیں جانا مقصود ہے بیچ میں جانا مقصود نہیں اور وہاں پندرہ دن کامل ٹھہرنے کا قصد نہ ہو تو قصر کریں گے ورنہ پوری پڑھیں گے‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 8/270، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
متردد نیت کے مسافر کے بارے میں الفتاوی الہندیۃ میں ہے: "قال أصحابنا رحمهم الله تعالى في تاجر دخل مدينة لحاجة نوى أن يقيم خمسة عشر يوما لقضاء تلك الحاجة لا يصير مقيما لأنه متردد بين أن يقضي حاجته فيرجع وبين أن لا يقضي فيقيم فلا تكون نيته مستقرة".ترجمہ: ہمارے اصحاب رحمہم اللہ نے فرمایا کہ وہ تاجر جو کسی شہر میں کسی ضرورت کیلئے گیا اور اس نے حصولِ حاجت کیلئے پندرہ دن اقامت کی نیت کر لی تو وہ مقیم نہ ہوگا، کیونکہ وہ اس بارے میں متردد ہے کہ اگر ابھی کام ہو جاتا ہے تو لوٹ جائے اور اگر نہیں ہوگا تو اقامت کرے، لہذا اس کی پختہ نیت نہ ہوئی۔ (الفتاوی الہندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر فی صلاۃ المسافر، 1/140، دار الفکر)
متبوع اور تابع کی نیت کے متعلق امام احمد رضا خان (المتوفی: 1340ھ) رقم فرماتے ہیں: ’’نوکر کی اپنی نیت معتبر نہ ہونی بلکہ نیت آقا کا تابع ہونا اس حالت میں ہے کہ آقا کے ساتھ ہو ورنہ خود اس کی نیت معتبر ہے ،تنویر الابصار وردالمحتار میں ہے : المعتبر نیۃ المتبوع لاالتابع کامرأۃ وفاھا مھرھا المعجل وعبد وجندی اذاکان یرتزق من الامیر اوبیت المال واجیر، مشاھرۃ اومسانھۃ، تارتار خانیہ واسیر و غریم وتلمیذ مع زوج ومولی وامیرو مستاجرو اٰسر ودائن واستاذ فقید المعیۃ ملاحظ فی تحقیق التبعیۃ اھ ملتقطا"ترجمہ: سربراہ کی نیت کا اعتبار ہے تابع کا نہیں جیسا کہ وہ خاتون جس کا مہر معجل ادا کردیا گیا اور غلام ، سپاہی اس وقت جب امیر سے یا بیت المال سے روزی لیتا ہو یا ماہانہ یا سالانہ مزدوری پر ہو تارتار خانیہ۔ قیدی مقروض اور شاگرد جب یہ لوگ اپنے متبوع خاوند ، مولی ، مستاجر ، قید کرنے والا، قرض خواہ اور استاذ کے ساتھ ہوں اور تابع ہونے کے اثبات کیلئے معیت کی قید ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا اھ ملتقطاً ‘‘۔ (فتاوی رضویہ ، 8/261، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
نمازِ عید کے وجوب میں امام برہان الدین مرغینانی (المتوفی: 593ھ) فرماتے ہیں: "وتجب صلاة العيد على كل من تجب عليه صلاة الجمعة". ترجمہ: نمازِ عید ہر اس شخص پر واجب ہے جس پر نمازِ جمعہ واجب ہے۔ (الہدایۃ،باب صلاۃ العیدین، 1/84، دار احياء التراث العربي بیروت)
مسافر پر جمعہ کے حکم کے متعلق امام برہان الدین مرغینانی (المتوفی: 593ھ) لکھتے ہیں: "ولا تجب الجمعة على مسافر".ترجمہ: مسافر پر جمعہ واجب نہیں۔ (الہدایۃ ، باب صلاۃ الجمعۃ، 1/83، دار احياء التراث العربي بیروت)
قیدی پر جمعہ نہیں، امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’جمعہ کی ایک شرط اذن عام ہے، جیل میں کوئی نہیں جاسکتا توا س میں نماز جمعہ ناممکن وباطل ہے اور ظہر کی جماعت بھی ان کو جمعہ کے دن جائز نہیں، جبکہ جیل حدود شہر میں ہو ، بلکہ ہر شخص تنہا ظہر پڑھے ملازم ہو یا ماخوذ، ہاں جیل بیرونِ شہر ہو تو ظہر بجماعت پڑھیں،تنویر الابصار میں ہے: یشترط لصحتھا الاذن العام فلو دخل امیر حصنا واغلق بابہ وصلی باصحابہ لم تنعقد ۔صحت جمعہ کے لئے اذن عام شرط ہے، اگر کسی امیر نے قلعہ میںداخل ہوکر دوازہ بند کرلیا اور اپنے ساتھیوں کو جمعہ پڑھا یا تو یہ جمعہ منعقد نہ ہوگا۔درمختار میں ہے: کرہ تحریما لمعذور ومسجون ومسافر اداء ظہر بجماعتہ فی مصر قبل الجعۃ وبعدھا۔ شہر میں معذور ، قیدی اور مسافر کے لئے جمعہ سے پہلے اور بعد نماز ظہر جماعت کے ساتھ ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 8/396، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:’’مریض یا مسافر یا قیدی یا کوئی اور جس پر جمعہ فرض نہیں ان لوگوں کو بھی جمعہ کے دن شہر میں جماعت کے ساتھ ظہر پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے، خواہ جمعہ ہونے سے پیشتر جماعت کریں یا بعد میں۔ يوہيں جنھیں جمعہ نہ ملا وہ بھی بغیر اذان و اقامت ظہر کی نماز تنہا تنہا پڑھیں، جماعت ان کے ليے بھی ممنوع ہے‘‘۔ (بہار شریعت، 1/774، مکتبۃ المدینۃ)
قیدی پر نماز عید نہیں، امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’نماز عید شہروں میں ہر مرد آزاد، تندرست، عاقل ، بالغ، قادر پر واجب ہے ، قادر کے یہ معنی کہ نہ اندھا ہو ،نہ لولا ہو، نہ لُنجھا، نہ قیدی، نہ کسی ایسے مریض کا تیماردار ہو کہ یہ اُسے چھوڑ کر گھر سے جائے تو مریض ضائع رہ جائے، نہ ایسا بوڑھا کہ چل پھرنہ سکے، نہ اُسے نماز کو جانے میں حاکم یا چور یا دُشمن کی طرف سے جان یا مال یا عزت کا سچا خوف ہو، نہ اس وقت مینہ یا برف یا کیچڑ یا سردی ا س قدر شدت سے ہو کہ نماز کو جانا سخت مشقت کا موجب ہو‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 8/570، رضا فاؤنڈیشن لاہور) ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:20 رمضان المبارک 1447ھ/10 مارچ 2026ء