سوال
زید نے گھر خریدا اور کچھ پیسے کم ہوئے تو اپنی زوجہ سے بطورِ قرض لیے ، پھر کچھ عرصہ بعد سفر میں جانے کی وجہ سے زوجہ نے اپنے کچھ پیسے اپنے شوہر یعنی زید کو حفاظت سے رکھنے کیلئے بطورِ امانت دیے، اور زید نے کہا کہ سفر سے واپسی پر وہ پیسے دوبارہ اپنی زوجہ کو دے دیگا، لیکن واپس آنے کے بعد زید’’کچھ دنوں میں واپس کو دوں گا ، یہ کہہ کر ٹال دیا‘‘۔کچھ وقت گزرا تو زید کے مکان کی lease کا مسئلہ کھڑا ہوا، تو زید نے اپنا مکان بیوی کے نام کر دیا اور اسے مالک بنادیا ، لیکن زید کی زوجہ نے مکان کا کوئی مطالبہ زید سے نہیں کیا تھا، یہ سب زید نے اپنی مرضی سے اور قانونی کارروائی پوری کرنے کیلئے کیا، کیونکہ filer or non-filers کے بہت مسئلہ ہوتے ہیں۔پھر کچھ وقت گزرا تو زید کی زوجہ نے اپنے امانت رکھے ہوۓ پیسوں کا سوال کیا، اور قرض کے پیسے دوبارہ لوٹانے کا مطالبہ کیا، زید مکر گیا، اور کہنے لگا کہ ’’سفر میں جو شاپنگ کروائی تھی، وہ پیسے اسی میں گن لو‘‘۔ اور جب قرض کی واپسی کا مطالبہ کیا تو کہا کہ ’’گھر تمہارے نام کیا ہے، وہ پیسے اس میں گن لو‘‘، حالانکہ واللہ گھر نام پر کرواتے وقت ایسی کوئی بات یا شرط ذکر نہیں کی گئی تھی۔اب زید اور اس کی زوجہ کے درمیان ناراضگی ہے کہ آپ میرے پیسے واپس نہیں کر رہے، اور وہ کہتی ہیں قیامت کے دن اللہ پورا حساب لے گا، معاف نہیں کرونگی کبھی بھی میں اپنے پیسے۔زید کاروباری آدمی ہے اور کھاتے پیتے گھرانے سے ہے۔براہ کرم فرداً فرداً قرض اور امانت کے پیسوں کا حکم زید کیلئے بتا دیں ۔
نوٹ: شوہر کے بیانیہ کے مطابق بیوی کا اپنا کوئی مال نہیں، یہ مال بھی شوہر ہی کا دیا ہوا تھا جس کا بیوی مطالبہ کر رہی ہے۔ نیز سفر میں احتیاطاً شوہر نے بیوی کو کچھ پیسے رکھنے کو کہے کہ کام آئیں گے لیکن ضرورت نہ پڑی پھر ان پیسوں سے بیوی کو سونا لے کر دیا جو بیوی کے پاس ہی، چاہے تو اسے بلا اجازت بیچ بھی سکتی ہے۔ اسی طرح گھر (جہاں خود کی رہائش نہ تھی) بیوی کے نام کیا جسے بھی بلا اجازت بیوی بیچنے کا اختیار رکھتی ہے۔
سائلہ: بنت حواء
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر پوچھی گئی صورت میں میاں بیوی ایک جگہ رہتے ہیں، ایک خرچ ہے، شوہر اپنی آمدنی اسے دیتا ہے، بیوی اپنے اور شوہر اور سب گھر کے خرچے اس سے پورے کرتی ہے، تو اس صورت میں وہ تمام روپیہ شوہر کی ملکیت ہے، عورت کا خرچ بھی ملکِ شوہر پر ہوتا ہے، اسے شرع میں ’’ تموین ‘‘کہتے ہیں ۔ لہذا بیوی کا شوہر کو امانت وقرض دینے کا قول در حقیقت اس مال میں اپنی ملکیت کا دعوی ہے کہ یہ خلافِ ظاہر ہے جو کہ شرعی گواہوں کے بغیر ثابت نہ ہوگا۔ یعنی گواہ ثابت کریں کہ شوہر نے یہ مال اسے بطور ہبہ (تحفہ) یا نفقہ خاص مالک بنا کر دیا تھا۔اور جب مدعیہ بیوی گواہ پیش کرنے سے عاجز ہو اور مدعی علیہ شوہر حلفیہ اس کا انکار کردے تو دعوی ساقط ہوجائے گا۔ پس اس صورت میں جب مال ہی شوہر کا ہے تو اس سے امانت اور قرض کی واپسی کا سوال ختم ہوجاتا ہے کہ مالک سے اسی کے مال کی امانت اور قرض کا مطالبہ نہیں ہوتا۔
البتہ جہاں تک تعلق ہے اس سونے اور گھر کا جو شوہر کی جانب سے بیوی کے نام کیا گیا ہے، تو یہاں شوہر کی طرف سے صریح اجازت، کہ بیوی اس مال (سونے اور گھر) کو اپنی صوابدید پر فروخت بھی کر سکتی ہے، اس بات پر بین دلیل ہے کہ شوہر نے یہ اشیاء بیوی کو بطورِ مالک دی ہیں۔
تفصیل مسئلہ:
میاں بیوی کے مالی معاملات میں اصل بنیاد ’’ تموین‘‘اور ’’ تملیک‘‘کے فرق پر قائم ہے، جس کے تحت شوہر کی جانب سے زوجہ کو خرچ کیلئے دیے جانے والے مال کی دو بنیادی صورتیں بنتی ہیں: پہلی صورت یہ ہے کہ میاں بیوی اور بچے ایک ہی جگہ رہتے ہوں، گھر کا خرچ مشترک ہو اور شوہر اپنی آمدنی بیوی کے حوالے کر دیتا ہو تاکہ وہ اپنے، شوہر کے اور تمام گھر کے مصارف اس سے پورے کرے۔ اسے ’’ تموین‘‘ کہتے ہیں ۔ اس صورت میں وہ تمام روپیہ تمام وکمال شوہر ہی کی ملکیت رہتا ہے، یہاں تک کہ بیوی کا اپنا خرچ بھی ملکِ شوہر پر ہوتا ہے؛ لہٰذا ظاہر ہے کہ اس مد میں سے جو کچھ رقم بھی بچت ہوگی، وہ شوہر ہی کا مال تصور کی جائے گی۔ اگر بیوی اس بچت پر اپنی مستقل ملکیت کا دعویٰ کرے کہ یہ اسے بطورِ ہبہ یا نفقہِ خاص دیا گیا تھا، تو یہ دعویٰ چونکہ خلافِ ظاہر ہے، اس لیے شرعی اصول ’’ البینۃ علی المدعی‘‘کے تحت بیوی پر لازم ہوگا کہ وہ دو عاقل بالغ مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں بطورِ گواہ پیش کر کے اس تملیک کو ثابت کرے۔دوسری صورت یہ ہے کہ میاں بیوی جدا رہتے ہوں اور شوہر اسے نفقہ بھیجتا ہو، یا ایک ہی جگہ رہتے ہوں مگر شوہر عورت کے ذاتی خرچ کیلئے اسے جداگانہ رقم دیتا ہو۔ خواہ یہ رقم قاضی کے حکم سے طے شدہ ہو، باہمی رضا مندی سے ماہوار مقرر ہو، یا وقت اور مقدار کے تعین کے بغیر وقتاً فوقتاً اس کے خرچ کیلئے دی جاتی ہو؛ اس صورت میں جو کچھ اسے دیا گیا وہ بیوی کی ملکیت ہو جاتا ہے۔ اس رقم میں سے جو کچھ بھی بچے گا، خواہ وہ عورت کی اپنی کفایت شعاری سے ہو یا اس وجہ سے کہ وہ عرصہ دراز اپنے میکے رہی اور اس کے اخراجات وہاں سے پورے ہوئے، بہر صورت اس بچت کی مالک عورت ہی کہلائے گی۔
جہاں تک بیوی کے اس دعوے کا تعلق ہے کہ اس نے پہلی صورت (تموین) کے مال میں سے شوہر کو قرض یا امانت دی تھی، تو جب تک وہ اس مال کی شرعی مالکہ ہونا ثابت نہ کر دے، اس کا مطالبہ مسموع نہیں ہوگا۔ اگر بیوی کے پاس گواہ نہ ہوں اور شوہر (مدعی علیہ) حلفیہ اس کا انکار کر دے کہ یہ مال بیوی کی ملکیت تھا، تو شرعی قاعدے ’’ والیمین علی من انکر‘‘کے تحت بیوی کا دعویٰ ساقط ہو جائے گا۔
البتہ وہ مخصوص اثاثے جیسے مکان اور سونا، جن کے بارے میں شوہر کا صریح اقرار موجود ہو، ان کا حکم تملیک کا ہوگا۔ اگر شوہر نے مکان بیوی کے نام کیا اور اسے سونا خرید کر دیا، اور ساتھ ہی اسے ان اشیاء کو فروخت کرنے کا مالکانہ اختیار اور تصرف کی اجازت بھی دی، تو یہ اس بات پر دلالتِ قطعی ہے کہ شوہر نے یہ چیزیں تموین کے بجائے تملیک کے طور پر دی ہیں۔ شرعی قاعدہ ’’ المملک ادری بجہۃ التملیک‘‘ کے مطابق مالک کی اپنی نیت اور تصرف کا مکمل اختیار دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ اب یہ اشیاء بیوی کی مستقل ملکیت ہیں اور شوہر کا ان سے دستبردار ہونا ثابت ہو چکا ہے، جس پر رجوع بھی جائز نہیں۔
دلائل و جزئیات:
بیوی کو دئے گئے مال میں اس کی ملکیت ہونے نہ ہونے کی تفصیل میں امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’روپیہ زوجہ کو خرچ کےلئے دیا جاتا ہے اس کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ زن و شو وعیال ایک جگہ رہتے ہیں ایک خرچ ہے شوہر سب آمدنی اسے دے دیتا ہے وہ اپنے اور شوہر اور سب گھر کے مصار ف اس سے اٹھاتی ہے، اس صورت میں وہ روپیہ تمام و کمال ملک شوہر پر رہتا ہے، عورت کا خرچ بھی ملک شوہر پر ہوتا ہے،اسے شرع میں تموین کہتے ہیں، عقد نکاح کا اصل موجب یہی ہے، ظاہرہے کہ اس میں جو کچھ پس انداز ہوگا شوہر کا ہے۔ دوسری صورت یہ کہ زن و شو جدا ہیں شوہر اسے نفقہ بھیجتا ہے یا ایک ہی جگہ ہیں مگر عورت کے خرچ کا اسے جدا دیتا ہے، عام ازیں کہ وقت معین پر مثلاً ماہوار رقم معین مثلاً دس روپے خاص بحکم قاضی خواہ بتراضی، یا تعیین کچھ نہیں وقتاً فوقتاً مختلف مقدار میں اس کے خرچ کے لئے بھیجتا یا اسے دیتا ہے، اس صورت میں جو کچھ اسے دیا وہ ملک زن ہوگیا، اس میں سے جو کچھ بچے گا، خواہ عورت کی جُز رَسی سے یا یوں کہ وہ مہینوں اپنی ماں کے یہاں رہی اور مصارف ماں نے کئے بہر حال عورت ہی اس کی مالک ہے‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 18/615، رضا فاؤندیشن لاہور)
بیوی کے نفقہ اور تملیک کے ضابطے میں علامہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم المصری (المتوفی:970ھ) فرماتے ہیں: "فالتمكين متعين فيما إذا كان له طعام كثير وهو صاحب مائدة فتمكين المرأة من تناول مقدار كفايتها، فليس لها أن تطالبه بفرض النفقة وإن لم يكن بهذه الصفة فإن رضيت أن تأكل معه فبها ونعمت وإن خاصمته في فرض النفقة يفرض لها بالمعروف وهو التمليك كذا في غاية البيان".ترجمہ: پس (کھانے پر) قدرت دینا اس صورت میں متعین ہے جب شوہر کے پاس بہت سا کھانا ہو اور وہ دسترخوان والا (سخی یا مالدار) ہو، تو عورت کو اپنی کفایت کے بقدر کھانے پر قادر کر دینا کافی ہے، ایسی صورت میں عورت کو یہ حق نہیں کہ وہ (علیحدہ سے) نفقہ مقرر کرنے کا مطالبہ کرے۔ اور اگر شوہر اس صفت کا حامل نہ ہو، پھر اگر عورت اس کے ساتھ کھانے پر راضی ہو جائے تو یہ بہتر ہے، اور اگر وہ نفقہ مقرر کرنے کا جھگڑا کرے تو اس کے لیے معروف طریقے سے نفقہ مقرر کیا جائے گا اور وہ تملیک (یعنی اسے رقم یا غلہ کا مالک بنا دینا) ہے، اسی طرح غایۃ البیان میں ہے۔ (البحر الرائق، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، 4/188-189، دار الكتاب الإسلامي)
دعویٰ، گواہی اور قسم کے ضابطے کے بارے میں امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’بحرالرائق میں ہے : ان لم تکن للمدعی بينۃ حلف القاضی المدعی علیہ بطلب المدعی لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم للمدعی الک بینۃ قال لافقال لک یمینہ سأل ورتب الیمین علی فقدان البینۃ۔ اگر مدعی کے پاس گواہ نہ ہوں تو پھر قاضی مدعی علیہ سے قسم کا حلف لے اگر مدعی طلب کرے کیونکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مدعی کو فرمایا کیا تیرے پاس گواہ ہیں، اس نے کہا نہیں، فرمایا تجھے اس کی قسم لینی ہوگی، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خود سوال فرمایا اور مرتب فرمایا کہ قسم گواہ نہ ہونے پر ہے۔ اسی میں ہے: ثبوت الحق فی الیمین مرتب علی العجز عن اقامۃ البینۃ بما رویناہ فلایکون حقہ دونہ۔ قسم کا حق گواہ پیش کرنے سے عاجز ہونے پر مرتب ہوتا ہے اس حدیث کے سبب جو ہم نے روایت کی ہے تو اس عجز کے بغیر قسم کا حق نہ ہوگا... جب مدعی اثبات دعوٰی سے عاجز ہو، منکر کو ثبوت دینے کی حاجت نہیں۔ فان البینۃ علی من ادعی والیمین علی من انکر۔ کیونکہ گواہ پیش کرنا مدعی پر اور قسم مدعی علیہ پر ہے‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 18/597، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "قال في البحر في اختلاف الزوجين، وفي البدائع هذا كله إذا لم تقر المرأة أن هذا المتاع اشتراه فإن أقرت بذلك سقط قولها لأنها أقرت بالملك لزوجها ثم ادعت الانتقال إليها فلا يثبت الانتقال إلا بالبينة. اهـ. وكذا إذا ادعت أنها اشترته منه كما في الخانية ولا يخفى أنه لو برهن على شرائه كان كإقرارها بشرائه ولا بد من بينة على الانتقال إليها منه بهبة أو نحو ذلك ولا يكون استمتاعها بمشريه ورضاه بذلك دليلا على أنه ملكها ذلك كما تفهمه النساء، والعوام وقد أفتيت بذلك مرارا. اهـ. كلام البحر، والله سبحانه وتعالى أعلم. (أقول) وكتبت فيما علقته على البحر من هذا المحل أن ظاهر كلام البدائع سقوط قولها ولو كان ما تدعيه ما يختص بالنساء وأنه ينبغي تقييده بما لم يكن من ثياب الكسوة الواجبة على الزوج". ترجمہ: بحر الرائق میں میاں بیوی کے اختلاف کے بارے میں کہا گیا ہے اور بدائع الصنائع میں ہے کہ: یہ تمام احکام (کہ کون سی چیز کس کی ہوگی) اس وقت ہیں جب عورت یہ اقرار نہ کرے کہ یہ سامان شوہر نے خریدا تھا۔ پس اگر اس نے اقرار کر لیا کہ یہ شوہر نے خریدا تھا، تو اب عورت کا (ملکیت کا) قول ساقط ہو جائے گا؛ کیونکہ اس نے پہلے شوہر کی ملکیت کا اقرار کیا اور پھر اپنی طرف ملکیت کی منتقلی کا دعویٰ کیا، لہٰذا یہ منتقلی بغیر ثبوت (گواہان) کے ثابت نہ ہوگی۔ اسی طرح اگر عورت یہ دعویٰ کرے کہ اس نے یہ سامان شوہر سے خریدا ہے جیسا کہ خانیہ میں ہے۔ اور یہ بات پوشیدہ نہیں کہ اگر شوہر گواہوں سے ثابت کر دے کہ اس نے یہ سامان خریدا ہے، تو یہ عورت کے اقرار ہی کی طرح ہے، اور اب عورت کی طرف ہبہ (تحفہ) وغیرہ کے ذریعے منتقلی کے لیے گواہ ضروری ہوں گے۔ اور عورت کا اس (شوہر کے خریدے ہوئے) سامان کو استعمال کرنا اور شوہر کا اس پر راضی ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ شوہر نے اسے اس کا مالک بنا دیا ہے، جیسا کہ عورتیں اور عوام سمجھتے ہیں، اور میں نے اس پر بارہا فتویٰ دیا ہے۔ میں کہتا ہوں(علامہ شامی فرماتے ہیں) میں نے بحر الرائق پر اپنے حاشیے میں لکھا ہے کہ بدائع کی عبارت کا ظاہر یہ ہے کہ عورت کا قول (ملکیت کا دعویٰ) ساقط ہو جائے گا چاہے وہ سامان عورتوں کے ساتھ ہی خاص کیوں نہ ہو، لیکن مناسب یہ ہے کہ اسے ان کپڑوں کے ساتھ مقید کیا جائے جو شوہر پر بیوی کے نان ونفقہ (کسوہ) کے طور پر واجب ہوتے ہیں۔ (العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ، کتاب الفرائض، 2/318، دار المعرفۃ)
خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "المملك وهو أدرى بجهة التمليك". ترجمہ: مالک بنانے والا ملکیت کی وجہ کو بہتر جانتا ہے۔ (العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ، کتاب المداینات، 2/222، دار المعرفۃ)
علامہ شامی رحمہ اللہ ہی فرماتے ہیں: "التلفظ بالإيجاب والقبول لا يشترط، بل تكفي القرائن الدالة على التمليك". ترجمہ: ایجاب وقبول کا تلفظ ضروری نہیں بلکہ ایسے قرائن کا وجود کافی ہے جو تملیک پر دال ہو۔ (رد المحتار، کتاب الہبۃ، 5/688، دار الفکر)
میاں بیوی کے ہبہ میں رجوع کی ممانعت الفتاوی الہندیۃ میں ہے: "وإذا وهب أحد الزوجين لصاحبه لا يرجع في الهبة، وإن انقطع النكاح بينهم". ترجمہ: جب میاں بیوی میں سے کسی نے دوسرے کوکوئی ہبہ دیا تو رجوع کا اختیار نہیں اگر چہ بعد کو نکاح منقطع ہوجائے۔ (الفتاوی الہندیۃ، الباب الخامس فی الرجوع فی الہبۃ، 4/386، دار الفکر)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:’’ جو کچھ شوہر نے استعمال کے لئے دیا وہ ملک شوہر ہے مگریہ کہ دلالت تملیک پائی جائے خواہ لفظاً یا عرفاً، اور عورت کا قبضہ ہوجائے تو اب وہ ملک زوجہ ہوجائے گا اور اب اسے کبھی واپس نہیں لے سکتا، لان الزوجیۃ من موانع الرجوع (کیونکہ زوجیت موانع رجوع میں سے ہے) جہیز میں جو زیور وغیرہ عورت کو ملتاہے وہ یقینا ملک زن ہے۔ ردالمحتارمیں ہے: کل أحد یعلم ان الجہاز ملک المرأ ۃ لاحق لاحد فیہ ۔ ہر ایک کو معلوم ہے کہ جہیز عورت کی ملک ہوتاہے اس میں کسی کاحق نہیں ہے‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 18/597، رضا فاؤنڈیشن لاہور) ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:20 رمضان المبارک 1447ھ/10 مارچ 2026ء