لے پالک کے حصہ کا شرعی حکم
    تاریخ: 7 اپریل، 2026
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 1105

    سوال

    مفتی صاحب میری پھوپھی جان جو کہ اولاد کی نعمت سے محروم ہیں انہوں نے اپنے دو بھائیوں سے بچے لے کر پالے جس میں سےایک بھائی مکرم مبین کے ایک بیٹے اکرم کو اور مقدس مبین کے دو بیٹے اور ایک بیٹی یعنی ذیشان،سلمان اور حنا کو لے کر پالا ۔ اب میرے پھوپھا کا انتقال ہوگیا ہے وراثت میں انہوں نے ایک گھر چھوڑا، میری پھپو نے وہ گھر اکرم اور ذیشان کے نام کردیا اور تیسرے لے پالک محمد سلمان کو اس میں سے کسی قسم کا کوئی حصہ نہیں دیا۔ پھوپھامرحوم کی ایک سگی بہن ابssھی موجود ہیں انکی اولا بھی ہیں ۔ اسکے علاوہ انکے بھائی ،ماں ،باپ وغیرہ کوئی بھی نہیں ہے۔اس صورت حال کے پیش نظر میرے سوالات کا قرآن و سنت کی روشنی میں جواب دیں

    1:۔ وراثت کی تقسیم کا یہ طریقہ کہ تین لے پالک بیٹوں میں سے دو کو حصہ دینا اور ایک کو کچھ نہ دینا درست ہے؟

    2:۔ پھوپھا کی سگی بہن اور انکے بچوں کاپھوپھا کی وراثت میں کوئی حصہ بنتا ہے یا نہیں ؟وراثت کا اصل حقدا ر کون ہے۔

    سائل: محمد سلمان نیو کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں ذکر کیا گیااور ذکرکردہ ورثاء کے علاوہ مرحوم کا اور کوئی وارث نہیں ہے تو حکم شرع یہ ہے سب سے پہلے مرحوم کے مال سے انکی تجہیز و تکفین کا بندوبست کیا جائے گا،پھر اگر اس پر کسی کا قرضہ ہوتو اسکے سارے مال سے اس قرضے کی ادائیگی کی جاتی ہے، اگر قرضے میں سارا مال چلا جائے تو بات مکمل ہے اب چونکہ مزید مال موجود ہی نہیں لہذا ورثاء کو کچھ نہیں ملے گا لیکن اگر اسکے ذمے جو قرض ہے اسکی ادائیگی کے بعد مال بچ جائے تو دیکھیں گے کہ اگر مرنے والے نے کسی غیر وارث کے لیے وصیت کی ہے تواس مابقی بعد اداء القرض (قرض کی ادائیگی کے بعد جو بچا اس) مال کے تین حصے کیے جاتے ہیں ،ایک حصہ سے وصیت پوری کی جاتی ہے اور بقیہ دو حصے اسکے ورثاء میں شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم کر دئیے جاتے ہیں۔

    السراجی فی المیراث ص 5پر ہے:قال علمائنا تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ الاول یبدأ بتکفینہ وتجہیزہ ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ :ترجمہ: ہمارے علماء نے فرمایا کہ میت کے ترکے سے چار طرح کے حق متعلق ہوتے ہیں پہلا تجہیز و تکفین پھراسکے تمام مال سے اسکے قرض ادا کئے جائیں گے پھر قرض کی ادائیگی کے بعد جو مال بچا اس سے وصیت نافذ کی جائے گی، پھر جو مال بچے اسکو ورثاء میں تقسیم کردیا جائے گا۔

    لہذا اگر مرنے والے نے اپنی لے پالک اولاد کے لیے کسی طرح کی کوئی وصیت کی ہے تو اسکے کل مال کے ایک تہائی حصہ سے وصیت پوری کی جائے گی۔ لیکن ان کو وراثت سے حصہ نہیں ملے گا ،کیونکہ منہ بولی یا لے پالک اولاد، از روئے شرع نسبی اولاد کی طرح نہیں ہوتی ۔ اسکے احکام نسبی اولاد کے احکام سے جدا ہوتے ہیں۔ چناچہ تفسیر مظہری میں ہے:فلا يثبت بالتبني شىء من احكام النبوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك(تفسیر مظہری ، جلد 7 ص 234)ترجمہ:منہ بولا بنانے سے نسبی اولاد والے احکام ثابت نہیں ہونگے مثلا وراثت،نکاح وغیرہ کا حکم۔

    المبسوط للسرخسی میں ہے:الْأَسْبَابُ الَّتِي بِهَا يُتَوَارَثُ ثَلَاثَةٌ الرَّحِمُ وَالنِّكَاحُ وَالْوَلَاءُ :ترجمہ: وہ اسباب جن کی وجہ سے وراثت حاصل ہوتی ہے تین ہیں ۔1:رشتہ داری(ماں باپ،بہن بھائی، بیٹا،بیٹی،)2: نکاح (شوہر ، بیوی) اور ولاء (یعنی مرنے والے کے معتق)۔ (المبسوط للسرخسی، کتاب الفرائض جلد 29 ص 138،الشاملہ)

    1:۔آپکی پھپونے (جنہوں نے آپکو پالا )مرحوم کی وراثت کی اپنی دانست سے جو تقسیم وہ درست نہیں ہے ، ایسی تقسیم کو توڑنا واجب ہے ، اور مرحوم کے شرعی ورثاء کو شریعت کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق حصہ ملے گا جسکی تفصیل یہ ہے کہ مرحوم وراثت کے کل 4 حصے لیے جائیں گے جس میں سے ایک حصہ مرحوم کی زوجہ کو اور بقیہ تین حصے انکی بہن کو ملیں گے۔

    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ :ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو ۔

    وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ:ترجمہ کنز الایمان :اور اگر ایک لڑکی تو اس کا آدھا۔(النساء :11)

    سراجی باب الرد میں ہے: والثالث ان یکون مع الاول من لایرد علیہ فاعط فرض من لا یرد علیہ من اقل مخارجہ فان استقام الباقی علی روؤس من یرد علیہ فبہا:ترجمہ:اور رد کا تیسرا قاعدہ یہ ہے کہ پہلی قسم ( جن پر رد ہوتا ہے) کے ساتھ وہ بھی ہوں جن پر رد نہیں ہوتاپھر غیر مردود کوانکا حصہ اقل مخرج سے دیں پھر باقی مردود علیھم کے روؤس پر پورا آئے تو اسی حساب سے دے دیں گے۔(سراجی باب الرد ص 71 مکتبۃ البشرٰی)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:26 رجب المرجب 1440 ھ/03 اپریل 2019 ء