رضاعی بھائی کی نواسی سے نکاح کرنا

    razaai bhai ki nawasi se nikah karna

    تاریخ: 21 اکتوبر، 2026
    مشاہدات: 89
    حوالہ: 1889

    سوال

    ایک شخص کی دو بیویاں تھیں: پہلی بیوی سے ایک بیٹا پیدا ہوادوسری بیوی سے دو بیٹے اور ایک بیٹی پیدا ہوئے۔دوسری بیوی نے اپنے ایک بیٹے کے بیٹے یعنی اپنے پوتے کو دودھ پلایا۔ یعنی اس لڑکے کو اس کی سگی دادی نے دودھ پلایا۔اب پہلی بیوی سے پیدا ہونے والے بیٹے کی نواسی (یعنی اس بیٹے کی بیٹی کی بیٹی) اور اس لڑکے کے درمیان نکاح کرنا مقصود ہے۔

    سوال یہ ہے کہ:کیا اس لڑکے کو اس کی سگی دادی کے دودھ پلانے کی وجہ سے پہلی بیوی کے بیٹے کی نواسی سے نکاح کرنا حرام ہوجاتا ہے، یا دونوں کا آپس میں نکاح شرعاً جائز ہے؟اگر رضاعت کی وجہ سے کوئی حرمتِ نکاح پیدا ہوتی ہے تو براہِ کرم اس کی تفصیل بھی بیان فرمائیں۔

    سائل :ارشد :کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت کا حکم یہ ہے کہ دادی، یعنی دوسری بیوی، نے اپنے پوتے کو دودھ پلایا، جس سے یہ دادی اس پوتے کی رضاعی ماں ہوگئی۔ جب یہ دادی اس پوتے کی رضاعی ماں بن گئی تو دادا بھی اس کا رضاعی باپ بن گیا، اور دادا کی پہلی بیوی سے جو بیٹا ہے، وہ اس کا رضاعی بھائی ہوگیا۔ لہٰذا رضاعی بھائی (پوتے) کا اپنے رضاعی بھائی، (یعنی دادا کی پہلی بیوی کے بیٹے کی) نواسی سے نکاح کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔

    اگر دوسری بیوی نے اپنے پوتے کو دودھ نہ پلایا ہوتا تو دوسری بیوی کا پوتا، پہلی بیوی کے بیٹے کا بھتیجا ہوتا، اور بھتیجے کا اپنے چچا کی بیٹی کی بیٹی سے نکاح کرنا جائز ہوتا؛ لیکن یہاں جب دوسری بیوی نے پوتے کو دودھ پلا دیا تو دودھ پلانے کی وجہ سے حرمتِ رضاعت ثابت ہوگئی ہے۔

    اللہ عز وجل کارضاعی ماں اور بہن کے بارے ارشاد گرامی ہے :’’ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَاَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ‘‘.ترجمہ: (تم پرحرام کی گئیں) تمہاری مائیں جنہوں نے دودھ پلایا اور دودھ کی بہنیں۔ (النساء: 23)

    جو رشتے نسب سے حرام ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہیں اس بارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان مبارک سنن الترمذی میں ہے :’’ عن علي بن أبي طالب قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: «إن الله حرم من الرضاع ما حرم من النسب»۔۔۔«حديث علي صحيح»ترجمہ:حضرت مولا علی شیر خدا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ارشاد فرمایا: بے اللہ پاک نے جو رشتےنسب سے حرام فرمائے ہیں وہ رشتے رضاعت سے بھی حرام فرمائے ہیں۔۔۔ حضرت مولا علی شیر خدا رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث صحیح ہے۔ (سنن الترمذی، حدیث 1146، جلد 3، صفحہ 444، الناشر: مصر)

    دودھ پینے والے پر اس کے رضاعی ماں باپ ،ان کی تمام اولادیں اگرچہ رضاعی باپ کی دوسری بیوی کی اولاد کیوں نہ ہو حرام ہیں اس بارے 'فتاوی ہندیہ ' میں ہے :’’ يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب و الرضاع جميعا حتى أن المرضعة لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت رضيعا أو ولد لهذا الرجل من غير هذه المرأة قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت امرأة من لبنه رضيعا فالكل إخوة الرضيع و أخواته و أولادهم أولاد إخوته و أخواته و أخو الرجل عمه و أخته عمته و أخو المرضعة خاله و أختها خالته و كذا في الجد والجدة‘‘.ترجمہ: رضیع (یعنی دودھ پینے والے بچے) پر اس کے رضاعی ماں باپ اور ان کے اصول و فروع خواہ وہ نسبی ہوں یا رضاعی، سب حرام ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ مرضعہ کی اس شوہر سے اولاد یا اس کے علاوہ کسی شوہر سے اولاد، اس کو دودھ پلانے سے پہلے کی ہو یا بعد کی، یا اس نے کسی اور کو دودھ پلایا ہو یا اس کے شوہر کی کسی دوسری بیوی سے اولاد ہو خواہ اس کو دودھ پلانے سے پہلے کی ہو یا بعد کی ،یا کسی عورت نے اس کے شوہر کی وطی سے اترا ہوا دودھ جس کو پلایا ہو، تو یہ سب اس رضیع کے رضاعی بہن بھائی ہیں، اور اِن کی اولادیں اس کے بھتیجے بھتیجیاں، بھانجے بھانجیاں ہیں، اور مرضعہ کے شو ہر کے بہن بھائی اس کے چچا و پھوپی ہیں اور مرضعہ کے بہن بھائی اس کے ماموں و خالہ ہیں، اسی طرح دادا، دادی، نانا ،نانی کے بارے میں(حکم ہے)۔ (فتاویٰ عالمگیری، جلد 1، صفحہ 343، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

    صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اس بارے لکھتے ہیں :”تقدیرن اس لڑکے کی رضاعی بہن ہے اور رضاعی بہن سے نکاح حرام۔ قال اللہ تعالی "وَاَخَوٰتُکُمۡ مِّنَ الرَّضٰعَۃ ِ"یعنی رضاعی بہن سے نکاح حرام ہے حدیث میں ہے: "يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب"رضاعی بہن یا بھائی یا صرف وہی نہیں جس کے ساتھ دودھ پیا، بلکہ مرضعہ کی تمام اولادیں سب اس کے بھائی بہن ہیں، بلکہ مرضعہ کے شوہر جس کا یہ دودھ ہے اس کی تمام اولادیں اگرچہ دوسری عورت سے ہوں وہ بھی اس کے بھائی بہن ہیں۔ (فتاوٰی امجدیہ، ج02، ص 99، مکتبہ رضویہ کراچی)

    والله تعالى اعلم بالصواب


    کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــہ: محمد سجاد سلطانی

    الجــــــــواب الصــــحــــــیح: ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    26ربیع الثانی 1448ھ/ 09 اکتوبر 2026ء کو جاری کیا گیا