سوال
میری کزن اور اسکی فیملی لاہور میں رہتی ہے۔مجھے وہ پسند ہے لیکن مجھے میری امی سے پتہ چلا کہ بچپن میں میری امی نے اس لڑکی کو اپنا دودھ پلادیا تھا کہ جب اس لڑکی کی امی کی حالت حمل کی وجہ سے خراب تھی۔کیا میں اب اس لڑکی سے نکاح کرسکتا ہوں؟
سائل: مزمل۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر مذکورہ عورت عادلہ ثقہ (یعنی جھوٹ نہیں بولتی،سب کے سامنے شریعت کی مخالفت نہیں کرتی)ہیں تو انکی گواہی سے حرمت رضاعت ثابت ہوگی اور یہ نکاح ناجائز و حرام قرار پائے گا۔کیونکہ جس طرح عورت نسب سے حرام ہوتی ہے اسی طرح رضاعت سے بھی ان سے نکاح حرام ہوجاتا ہے۔حدیث پاک میں آیا: ’’جو رشتہ نسب کے سبب حرام ہے وہ رضاعت کے سبب بھی حرام ہے‘‘۔(صحیح مسلم، حدیث نمبر 1445)
مسئلہ کی تفصیل:
کتبِ فقہیہ میں عقد نکاح سے قبل خبر واحد کی شہادت ِرضاعت سے متعلق دو فقہی روایات مروی ہیں۔ایک جواز ِ نکاح کی تو دوسری عدم جواز کی۔البتہ مفتی بہ یہ ہے کہ حرمت رضاعت ثابت ہوگی اور نکاح جائز نہ ہوگا۔
بحوالہ ’’المحیط‘‘معراج الدرایۃاورفتح القدیر میں ہےواللفظ لہ:"وَفِي الْمُحِيطِ: لَوْ شَهِدَتْ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ قَبْلَ الْعَقْدِ، قِيلَ يُعْتَبَرُ فِي رِوَايَةٍ وَلَا يُعْتَبَرُ فِي رِوَايَةٍ". ترجمہ:محیط میں منقول ہے کہ اگر ایک عورت عقدِ نکاح سے پہلے شہادتِ رضاعت دے تو ایک روایت کے مطابق اس شہادت کا اعتبار ہوگی اور دوسری روایت میں اعتبار نہ ہوگا۔ (فتح القدیر،کتاب الرضاع،3/462،دار الفکر)(معراج الدرایۃ شرح الہدایۃ،کتاب الرضاع،3/879،دار الکتب العلمیۃ بیروت)
روایتِ جواز:
(۱) متون مذہب میں سے مختصر القدوری اور الہدایۃ میں ہے واللفظ لہ:"ولا تقبل في الرضاع شهادة النساء منفردات وإنما تثبت بشهادة رجلين أو رجل وامرأتين ".ترجمہ:رضاعت میں اکیلی عورتوں کی گواہی قبول نہیں ہوتی کہ حرمت رضاعت دو مرد یا ایک مرد و اور دو عورتوں سے ثابت ہوتی ہے۔(الہدایۃ،کتاب الرضاع،220/1، دار احياء التراث العربي،متخصر القدوری،کتاب الرضاع،ص:153،دار الکتب العلمیۃ بیروت)
(۲)المبسوط للامام محمد ،الفتاوی الانقرویہ،واقعات المفتیین اور فتاوی قاضی خان میں ہے واللفظ لہ:"وإن أراد الرجل أن يخطب امرأة فشهدت امرأة قبل النكاح أنها أرضعتهما كان في سعة من تكذيبها كما لو شهدت بعد النكاح ".ترجمہ:اگر کوئی شخص کسی عورت کو نکاح کا پیغام بھیجنا چاہے پھر کوئی عورت نکاح سے قبل گواہی دے کہ اس نے مرد و عورت دونوں کو دودھ پلایا تھا تو مرد اس مرضعہ کی تکذیب کرسکتا ہے جیسا کہ اگر یہ مرضعہ نکاح کے بعد گواہی دے۔(فتاوی قاضی خان،کتاب النکاح،باب الرضاع،1/365،قدیمی کتب خانہ)(واقعات المفتین،کتاب الرضاع،ص48،دار الکتب العلمیۃ)(الفتاوی الانقرویہ،کتاب الرضاع،69) (المبسوط للامام محمد،کتاب الرضاع،مسالۃ من الرضاع،3/20،دار الکتاب العلمیۃ)
(۳)علامہ برہان الدین محمود بن احمد مازہ الحنفی (المتوفی:616ھ) فرماتے ہیں:"وحط الإخبار قبل العقد أو بعده، ولا يجب عليه ذلك".ترجمہ:خبر رضاعت عقدِ نکاح سے قبل و بعد دونوں کو شامل ہےاور ایسی عورت سے احتراز واجب نہیں۔(المحیط البرہانی،کتاب النکاح،الفصل الثالث عشر فی بیان اسباب التحریم،3/75،دار الکتب العلمیۃ بیروت)
(۴)علامہ محمد بن محمد شہاب الکردی البزازی (المتوفی:827ھ) فرماتے ہیں:" وَلَا يَثْبُتُ بِشَهَادَةِ النِّسَاءِ وَحْدَهُنَّ لَكِنْ إنْ وَقَعَ فِي قَلْبِهِ صِدْقُ الْمُخْبِرِ تُرِكَ قَبْلَ الْعَقْدِ أَوْ بَعْدَهُ". ترجمہ: اکیلی عورت کی گواہی سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوگی۔لیکن اگر مرد کے دل میں آیا کہ خبر دینے والا سچا ہے تو چاہے یہ خبر نکاح سے پہلے دی گئی یا بعد میں اِس عورت سے پر ہیز کرے۔(الفتاوی البزازیۃ،باب الرضاع،1/104،دار الکتب العلمیۃ)
(۵) علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) سے سوال ہوا کہ کیا مرضعہ عورت کی تنہا گواہی حرمت رضاعت ثابت کرے گی؟آپ علیہ الرحمہ نے ارشاد فرمایا:"حُجَّةُ الرَّضَاعِ حُجَّةُ الْمَالِ وَهُوَ شَهَادَةُ عَدْلَيْنِ أَوْ عَدْلٍ وَعَدْلَتَيْنِ وَلَا يَثْبُتُ بِشَهَادَةِ النِّسَاءِ وَحْدَهُنَّ لَكِنْ إنْ وَقَعَ فِي قَلْبِهِ صِدْقُ الْمُخْبِرِ تُرِكَ قَبْلَ الْعَقْدِ أَوْ بَعْدَهُ كَمَا فِي الْبَزَّازِيَّةِ (أَقُولُ) : أَيْ تُرِكَ احْتِيَاطًا.ترجمہ: رضاعت کی دلیل مال کی دلیل کی طرح ہے یعنی دو عادل مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں،لہذا اکیلی عورت کی گواہی سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوگی۔لیکن اگر مرد کے دل میں آیا کہ خبر دینے والا سچا ہے تو چاہے یہ خبر نکاح سے پہلے دی گئی یا بعد میں اِس عورت سے پر ہیز کرے ،ایسا ہی بزازیہ میں ہے۔ (علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں) میں کہتا ہوں کہ یہ پرہیز احتیاطی ہے۔(العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ،باب الرضاع،1/35،دار المعرفۃ)
(۶)علامہ طاہر بن عبدالرشید البخاری الحنفی(المتوفی:542ھ) فرماتے ہیں:"لا يجوز شهادة امرأة واحدة علي الرضاع أجنبية كانت أو أم احد الزوجين فان وقع في قلبه صدق المخبر فالأفضل أن يتنزه قبل العقد وبعده".ترجمہ:اکیلی عورت کی شہادتِ رضاعت جائز نہیں چاہے وہ عورت اجنبیہ ہو یا زوجین میں سے کسی کی ماں۔اگر مرد کا دل خبر دینے والی کو سچا جانے تو افضل ہے کہ اِس عورت سے پر ہیز کرے ، چاہے یہ خبر نکاح سے پہلے دی گئی ہو یا بعد میں۔(خلاصۃ الفتاوی،کتاب النکاح ،الفصل الرابع فی الرضاع،2/11،مکتبۃ رشیدیہ)
(۷)الفتاوی الہندیۃ میں ہے:"وَإِنْ كَانَ الْمُخْبِرُ وَاحِدًا وَوَقَعَ فِي قَلْبِهِ أَنَّهُ صَادِقٌ فَالْأَوْلَى أَنْ يَتَنَزَّهَ وَيَأْخُذَ بِالثِّقَةِ وُجِدَ الْإِخْبَارُ قَبْلَ الْعَقْدِ أَوْ بَعْدَهُ وَلَا يَجِبُ عَلَيْهِ ذَلِكَ كَذَا فِي الْمُحِيطِ". ترجمہ:اگر کسی ایک شخص نے خبر دی اور مرد کے دل میں آیا کہ یہ سچا ہے تو اولیٰ یہ ہے کہ عورت سے پر ہیز کرے اور خبر میں بھی ثقہ شخص کی بات کو اختیار کیا جائے گا۔چاہے اس نے نکاح سے پہلے خبر دی ہو یا بعد میں لیکن پر ہیز کرنا اس پر واجب نہیں ہے یہ محیط میں ہے۔(الفتاوی الہندیۃ ،كتاب الرضاع،1/374،دار الكتب العلمية)
روایت ِعدمِ جواز:
(۱) فتاوی قاضی خان کے باب المحرمات میں آیا:"صغير وصغيرة بينهما شبهة الرضاع لا يعلم ذلك حقيقة قالوا لا بأس بالنكاح بينهما هذا إذا لم يخبر بذلك إنسان فإن أخبر عدل ثقة يؤثر بقوله ولا يجوز النكاح بينهما".ترجمہ: ایک بچہ اور بچی کے درمیان رضاعت کا شبہ ہے جسکی حقیقت معلوم نہیں تو فقہاء نے فرمایا ان کے مابین نکاح میں حرج نہیں ، یہ اس وقت ہے جب ان میں حرمت رضاعت کی کسی انسان نے خبر نہ دی ہو ، پھر اگر کسی عادل ثقہ شخص نے خبر دی ہو تو اسکے قول کو ترجیح دی جائے گی اور نکاح جائز نہ ہوگا۔(فتاوی قاضی خان،کتاب النکاح،باب المحرمات،1/324،قدیمی کتب خانہ)
(۲) ایسا ہی علامہ محمد بن محمد شہاب الکردی البزازی نے ’’فتاوی بزازیہ ‘‘میں فرمایا۔(الفتاوی البزازیۃ،باب الرضاع،1/104،دار الکتب العلمیۃ)
فقہاء کرام علیہم الرضوان نے روایت ِ جواز کو معتمد فی المذہب قرار دیا:
قبل العقد شہادت سے متعلق معتمد روایتِ جواز ہے۔چنانچہ ان روایات ذکر کےبعد علامہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم المصری (المتوفی:970ھ) فرماتے ہیں:"وَالْحَاصِلُ أَنَّ الرِّوَايَةَ قَدْ اخْتَلَفَتْ فِي إخْبَارِ الْوَاحِدَةِ قَبْلَ النِّكَاحِ وَظَاهِرُ الْمُتُونِ أَنَّهُ لَا يُعْمَلُ بِهِ وَكَذَا الْإِخْبَارُ بِرَضَاعٍ طَارٍ فَلْيَكُنْ هُوَ الْمُعْتَمَدُ فِي الْمَذْهَبِ".ترجمہ:حاصل کلام یہ ہے کہ قبلِ نکاح ایک عورت کی شہادتِ رضاعت سے متعلق فقہی روایات مختلف ہیں اور متون کا ظاہر یہ ہے کہ (خانیہ کی عدمِ جوازکی )روایت پر عمل جائز نہیں ۔یہی حکم رضاعِ طاری کا ہے،لہذا اسے ہی معتمد فی المذہب ہونا چاہئے۔(البحر الرائق،کتاب الرضاع،3/250،دار الکتاب الاسلامی)
ایسا ہی علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ (المتوفی: 1252ھ) نے فرمایا۔(رد المحتار،کتاب النکاح،باب الرضاع،3/224،دارالفکر)
تنقیح مسئلہ:
اب غور ہو کہ عقد ِنکاح سے قبل خبر ِواحد کے حرمت رضاعت ثابت کرنے پر دو فقہی روایات آئی ہیں۔اور فقہی روایات کا اختلاف ناقل کی طرف سےہوتا ہے کہ بعض اوقات کسی مسئلہ میں جواب کے دو طریقے تھے ایک حکم کے مطابق اور دوسرا احتیاط کے طور پر، تو جس نے جو سنا وہ نقل کر دیا۔نفس مسئلہ بھی اسی قبیل سے ہے کہ یہاں بھی روایتِ جواز قضاء سے متعلق ہے جبکہ دوسری روایتِ عدم جواز احتیاط و دیانت سے۔علامہ ابن نجیم مصر ی اور علامہ ابن عابدین شامی رحمہما اللہ کا روایتِ جواز کو معتمد فی المذہب قرار دینا قضاء سے متعلق ہے۔البتہ صورت مسؤولہ میں فتوی احتیاط و دیانت پر ہے(اسکی تفصیل آگے آرہی ہے)۔
شرح عقود رسم المفتی میں ہے:"أن الاختلاف في الرواية عن أبي حنيفة من وجوه... ومنها : أن يكون الجواب في المسألة من وجهين من جهة الحكم ومن جهة الاحتياط فينقل كل كما سمع. ترجمہ:امام اعظم رحمہ اللہ سے مختلف روایات کی چند وجوہ ہیں ان میں سے ہے کہ کبھی کسی مسئلہ کا جواب دو جہات سے ہوتا ہے ایک قضاء سے دوسرا احتیاط سے،پھر جو ناقل جو جواب سنتا ہے نقل کردیتا ہے۔( شرح عقود رسم المفتی،ص:111،دار النور کراچی)
مزید یہ کہ یہاں تین امور ہیں:
(۱)روایات کی تطبیق۔ (۲)مفتی بہ روایت کی تعیین۔ (۳)روایتِ جواز پر عمل کیوں نہیں؟
(۱)روایات کی تطبیق:
روایتِ جوازقضاء سے متعلق ہے جبکہ دوسری روایتِ عدم جواز احتیاط سے۔
مزید علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ثُمَّ وَفَّقَ بَيْنَهُمَا بِحَمْلِ كُلٍّ عَلَى رِوَايَةٍ أَوْ حَمْلِ الْأَوَّلِ عَلَى غَيْرِ الْعَدْلِ ".ترجمہ: مستقل روایت پر محمول کرنے سے ان دونوں صورتوں (جواز و عدم جواز)کی تطبیق ہوگی،یا پہلی صورتِ عدم جواز کو غیر عادل گواہ پر محمول کرنے سے ۔ (العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ،كتاب الطلاق،1/35 ،دار المعرفة)
(۲)مفتی بہ روایت کی تعیین:
بابِ دیانات (یعنی حلال و حرام) میں احتیاطا ثقہ خبر واحد مفتی بہ ہوا کرتی ہے،چنانچہ شمس الآئمہ محمد بن احمد السرخسی (المتوفی:483ھ) فرماتے ہیں:"خَبَرَ الْوَاحِدِ إذَا كَانَ ثِقَةً حَجَّةٌ فِي أُمُورِ الدِّينِ، وَلَيْسَ بِحُجَّةٍ فِي الْحُكْمِ وَالْقَاضِي لَا يُفَرِّقُ بَيْنَهُمَا إلَّا بِالْحُجَّةِ الْحكمِيَّةِ، فَأَمَّا إذَا قَامَتْ عِنْدَهُ حُجَّةٌ دِينِيَّةٌ يُفْتِي لَهُ بِأَنْ يَأْخُذَ بِالِاحْتِيَاطِ؛ لِأَنَّهُ إنْ تَرَكَ نِكَاحَ امْرَأَةٍ تَحِلُّ لَهُ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَتَزَوَّجَ امْرَأَةً لَا تَحِلُّ لَهُ".ترجمہ:خبر واحد جب ثقہ ہو تو امور دین میں حجت ہوتی ہے لیکن فیصلہ لازم کرنے میں حجت نہیں ہوتی کیونکہ قاضی حجتِ حکمیہ سے ہی تفریق کرسکتا ہے۔البتہ جب شوہر کے پاس حجت دینیہ ہو تو اسے احتیاطی فتوی دیا جائے گا،کیونکہ ایسی عورت جس سے نکاح حلال ہے کو ترک کرنا اولی ہے اس عورت سے جس سے نکاح حلال نہیں۔(المبسوط للسرخسی،باب الرضاع،5/138،دار المعرفۃ)
علامہ محمد بن محمد شہاب الکردی البزازی رحمہ اللہ نے فرمایا:"فالأحوط أن يفارقها؛ لأن الشك وقع في الأول في الجواز، وفي الثاني في البطلان والدفع أسهل من الرفع".ترجمہ:زیادہ احتیاط بچنے میں ہے کیونکہ پہلی صورت (یعنی قبل العقد و بعد العقد روایتِ جواز)میں جواز میں شک واقع ہوا ہے اور دوسری صورت (یعنی بعد العقد روایت جواز)میں بطلان میں، اور عقد کو نہ ہونے دینا ،اسے ختم کرنے کے مقابلے میں زیادہ آسان ہے۔(الفتاوی البزازیۃ،باب الرضاع،1/104،دار الکتب العلمیۃ)
علامہ مقدسی رحمہ اللہ کے حوالے سے علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:كَتَبْت فِي حَاشِيَتِي عَلَيْهِ عَنْ الْعَلَّامَةِ الْمَقْدِسِيِّ أَنَّ قَوْلَ الْخَانِيَّةِ يُؤْخَذُ بِقَوْلِهِ مَعْنَاهُ يُفْتِي لَهُمْ بِذَلِكَ احْتِيَاطًا فَأَمَّا الثُّبُوتُ عِنْدَ الْحَاكِمِ فَيَتَوَقَّفُ عَلَى نِصَابِ الشَّهَادَةِ التَّامِّ وَقَالَ الشَّيْخُ قَاسِمٌ فِي شَرْحِ النُّقَايَةِ نَحْوُ ذَلِكَ مُعَلَّلًا بِأَنْ تَرَكَ نِكَاحَ امْرَأَةٍ تَحِلُّ لَهُ أَوْلَى مِنْ نِكَاحِ مَنْ لَا تَحِلُّ لَهُ ".ترجمہ: میں (علامہ شامی رحمہ اللہ)نے علامہ مقدسی کے حوالے سے اپنے حاشیے میں لکھاکہ خانیہ کا قول ان معنوں میں لیا جائے کہ اس پر فتوی بطور احتیاط ہے۔رہا حاکم شرع کے ہاں ثبوت ِحرمت تو اس میں مکمل نصاب شہادت پر توقف کریں گے۔شرح نقایہ میں شیخ قاسم نے اس قسم کے مسائل کی تعلیل کرتے ہوئے فرمایاکہ ایسی عورت جس سے نکاح حلال ہے کو ترک کرنا اولی ہے اس عورت سے جس سے نکاح حلال نہیں ۔ (العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ،كتاب الطلاق،1/35 ،دار المعرفة)
البحر الرائق میں شیخ قسم بن قطلوبغا رحمہ اللہ کا قول منقول ہے کہ:"وَقَالَ الشَّيْخُ قَاسِمُ بْنُ قُطْلُوبُغَا فِي شَرْحِ النُّقَايَةِ وَلَوْ قَامَتْ عِنْدَهُ حُجَّةٌ دِينِيَّةٌ يُفْتَى لَهُ بِالْأَخْذِ بِالِاحْتِيَاطِ".ترجمہ: شرح النقایۃ میں شیخ قاسم بن قطلوبغا نے فرمایا کہ اگر حجتِ دینیہ قائم ہوگئی تو اسی پر احتیاطاً فتوی دیا جائے گا۔( البحر الرائق،کتاب الرضاع،3/250،دار الکتاب الاسلامی)
(۳)روایتِ جواز پر عمل کیوں نہیں؟
نفس مسئلہ دیانات (یعنی حلال و حرام)کے باب سے ہے۔اور بابِ دیانات میں ایک شخص کی گواہی اگر زوالِ ملک کو متضمن نہ ہو تو یہ گواہی مقبول ہوتی ہے اور حرمت ثابت کردیتی ہے، اگر چہ نصابِ شہادت کامل نہ ہو۔
علامہ کمال الدین محمد بن عبد الواحد ابن الہمام (المتوفی:861ھ) فرماتے ہیں:"وإذا كانت الحرمة لا تستلزم زوال الملك فالشهادة قائمة على مجرد الحرمة حقا لله تعالى فيقبل فيها خبر الواحد".ترجمہ:اگر حرمت زوالِ ملک کو مستلزم نہ ہو تو یہ شہادت محض اس حرمت پر قائم ہوگی جو حق اللہ سے متعلق لہذا اس میں خبر واحد مقبول ہوگی۔(فتح القدیر،کتاب الرضاع،3/462،دار الفکر)
ایسا ہی علامہ مفتی محمد ہاشم ٹھٹوی سندی رحمۃ اللہ تعالی علیہ (المتوفی:1173ھ) نے ’’فاکہۃ البستان ‘‘میں فرمایا:"ومن الديانات الحل والحرمة إذا لم يكن فيهما زوال الملك. كذا في الهداية : أي يقبل خبر الواحد العدل في الحل والحرمة إذا لم يكن ما أخبره بالحرمة متضمناً زوال الملك، وأما إذا تضمنه فلا يقبل في الحرمة، يتفرع على هذا ما في فتاوي قاضي خان : رجل تزوج امرأة، فأخبره مسلم ثقة رجل أو امرأة أنهما ارتضعا من امرأة واحدة، قال في الكتاب : أحب إلي أن يتنزه ويطلقها، ويعطيها نصف المهر إن لم يكن دخل بها ، ولا يثبت الحرمة بخبر الواحد عندنا ما لم يشهد به رجلان أو رجل وامرأتان، وإنما يتنزه احتياطاً، فإن لم يطلقها ولم يتنزه وسعه ذلك ؛ لأن ملك النكاح لا يبطل بهذه الشهادة".ترجمہ:دیانات یعنی حلت و حرمت میں جب شہادت زوالِ ملک کو متضمن نہ ہو (تو خبر واحد مقبول ہوتی ہے) ایسا ہی ہدایہ میں ہے کہ حلت و حرمت کے باب میں ایک عادل کی خبر بھی مقبول ہوتی ہے کہ جب وہ خبرِ حرمت زوالِ ملک کو متضمن نہ ہو،البتہ اگر خبر زوال ملک کو متضمن ہو تو حرمت میں قبول نہیں ہوگی۔اسی قاعدہ پر فتاوی قاضی خان میں مسئلہ متفرع ہوا کہ کسی شخص نے ایک عورت سے نکاح کرلیا پھر کسی ثقہ مسلمان مرد یا عورت نے خبر دی کہ میاں بیوی نےایک عورت سے دودھ پیا ،تو اس کتاب میں حکم بیان ہوا کہ میں پسند کرتا ہوں کہ وہ مرد اس عورت سے احتراز کرے ،طلاق دے اور اگر دخول نہیں کیا تو نصف مہر دے دے،لیکن ہم احناف کے ہاں اس مسئلہ میں حرمت ثابت نہیں ہوگی جب تک دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں گواہی نہ دے لیں،عورت سے احتراز کا حکم احتیاطی ہے ۔اگر عورت کو طلاق نہ دے اور احتراز نہ کرے تو مرد کو اختیار ہے ،کیونکہ ملکیتِ نکاح اس گواہی سے باطل نہیں ہوگی۔(فاکہۃ البستان فی مسائل ذبح وصید الطیر والحیوان،مطلب: لا يقبل خبر الواحد العدل في الحرمة إذا كان متضمنا زوال الملك،ص:46،دار الکتب العلمیۃ بیروت)
درپیش مسئلہ میں بھی خبر واحد کی گواہی زوالِ ملک کو متضمن نہیں کیونکہ کسی بھی شے میں زوال ملک کیلئے پہلے ملکیت کا ثابت ہونا ضروری ہے اور ملکیتِ نکاح کیلئے پہلے عقد نکاح ضروری ہے ۔اب جبکہ نکاح نہیں ہوا تو ملکیتِ نکاح بھی نہیں پائی گئی لہذا یہاں خبر واحد زوالِ ملک کو متضمن نہ ہوئی،نتیجۃً یہ خبر مقبول ہوگی اور حرمتِ رضاعت ثابت کرے گی۔
شبہات و ازالہ شبہات:
(۱) بابِ دیانات میں وہ خبر واحد مقبول ہوتی ہے جو حق اللہ سے متعلق ہو،اگر حق العبد سے متعلق ہو تو حجت نہیں ہوتی اور معلوم ہے کہ نکاح حق العبد ہے۔چنانچہ علامہ قوام الدین الکاکی الحنفی (المتوفی:749ھ) فرماتے ہیں:"فلما كان كذلك كان حقاً من حقوق العبد ؛ فلا يثبت بشهادة الفرد؛ كما في النكاح لم يعتبر حجة لهذا".ترجمہ:جب معاملہ حق العبد سے متعلق ہو تو وہاں اکیلے شخص کی گواہی کچھ ثابت نہیں کرتی،جیسا کہ نکاح کہ اسی لئے اس میں خبر واحد حجت نہیں ہوتی(کیونکہ یہ بھی حق العبد ہے)۔(معراج الدرایۃ فی شرح الہدایۃ،8/48،دار الکتاب العلمیۃ بیروت) (فاکہۃ البستان فی مسائل ذبح وصید الطیر والحیوان،ص:47،دار الکتب العلمیۃ)
جواب:یہ درست ہے کہ نکاح حق العبد ہےلیکن قبل العقد یہ حق بندے کیلئے ثابت نہیں ہوتا ،ہاں نکاح ہوجانے کے بعد یہ حق ثابت ہوتا ہے اور اس میں کوئی کلام نہیں کہ بعد العقد شہادتِ فرد حجت نہیں۔
(۲)باب دیانات میں خبر واحد کی قبولیت بھی احتیاطی ہے۔ابو البرکات محمد ایوب بن لطیف اللہ الپشاوری (المتوفی:1335ھ) کافی کے کتاب الکراہیۃ سے بیان کرتے ہیں:"شهادة الفرد حجة في التنزه".ترجمہ:اکیلے شخص کی گواہی احتیاط میں حجت ہے۔(کشف القناع عن شہادۃ النساء فی الرضاع،ص:357،دار الکتب پشاور)
جواب:اوّلا یہ احتیاطی حکم تب ہے کہ جب شہادت زوالِ ملک کو متضمن ہو۔جیسا کہ ’’فاکہۃ البستان ‘‘میں بیان ہوا۔ثانیاً یہاں فتوی احتیاط پر ہی دیا جائے گا جس کی تفصیل پیچھے گزری۔
(۳) شک کی بنیاد پر حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی اور قبل العقد جواز و عدم جواز کی روایات شک پیدا کررہی ہیں لہذا یہاں بھی حرمت ثابت نہیں ہوگی۔ ہندیہ میں ہے:" فَفِي الْقَضَاءِ لَا تَثْبُتُ الْحُرْمَةُ بِالشَّكِّ".ترجمہ: شک سے حرمت رضاعت قضاء ثابت نہیں ہوتی۔(الفتاوی الہندیۃ،کتاب الرضاع،1/344،دار الفکر)
جواب:اوّلا اس مسئلے کا سباق یہ ہے کہ کسی عورت نے بچےکے منہ میں اپنی چھاتی دی اور معلوم نہ ہوا کہ اس نے دودھ پیا یا نہیں ؟تو اس مسئلے میں شک کی وجہ سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوگی۔جبکہ مسئلہ ما نحن فیہ اس سے مختلف ہے یہاں مرضعہ کو شک نہیں کہ میں نے دودھ پلایا تھا یا نہیں؟بلکہ معلوم ہے کہ دودھ پلایا تھا۔
(۴) قبل العقد آنے والی فقہی روایات میں روایتِ عدمِ جواز کی وجہِ ترجیح کیا ہے؟
جواب:یہاں متعدد وجوہ ِترجیح ہیں،ملاحظہ ہو:
وجہِ اوّل: متونِ مذہب میں روایتِ جواز قبل العقد و بعد العقددونوں کو عام ہے پھر نصابِ شہادت مکمل نہ ہونے کی صورت میں نکاح جائز قرار پایا اور معلوم ہے کہ شہادت قضاء سے متعلق ہوتی ہے جبکہ نفس مسئلہ دیانت سے تعلق رکھتا ہے جس میں خبر واحد بھی مؤثر ہوتی ہے،لہذا روایتِ عدم جواز راجح ہوگی۔
وجہِ ثانی: فقہاء کرام کے اقوال (جن کی تفصیل پیچھے گزری)یعنی فتوی احتیاطا عدم ِجواز پر ہوگا۔
وجہِ ثالث: فقہ حنفی کا اصول ہے جو گزرا کہ جہا ں خبر واحد زوال ملک کو متضمن ہو وہاں خبر مقبول نہیں ہوگی بخلاف اسکے کہ جہاں خبر زوال ملک کو متضمن نہ ہو لہذا وہاں عادل کی خبر واحد بھی مقبول ہوگی اورچونکہ قبل العقد ملکیت نکاح ثابت نہیں ہوتی لہذا خبر واحد مقبول ہوگی۔
وجہِ رابع: مقام ِبضعہ (یعنی عورت) میں اصل حرمت ہے (الاصل في الابضاع الحرمة ) کہ عورت بغیر نکاح کے حلال نہیں ہوتی۔لہذا اپنی اصل کے لحاظ حرمت ثابت ہے۔نیز قاعدہ فقہیہ کہ "اذا اجتمع الحلال و الحرام غلب الحرام"یعنی جب حلال و حرام جمع ہوجائیں تو ترجیح حرام کو دی جائے گی۔اور اس قاعدہ کی اصل حدیث مبارکہ ہے: "دَعْ ما يَرِيبُكَ إلى ما لا يَرِيبُكَ".یعنی جو تجھے شبہ میں ڈالے اسے چھوڑ دے (کنز العمال:7294)۔ لہذا حرمت ہی ثابت کی جائے گی۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب