سوال
میں محمد شکیل قادری میں نے اپنے بیٹے انس رضا کا نکاح 17 ستمبر 2023 کو کیا تھا ،جس سے نکاح کیا تھا اس کا نام ’’فضاء‘‘ ہے۔فضاء کا نکاح ہونے کے بعد لڑکی والے لڑکی کو اپنے گھر لے گئے تھے کہ رخصتی کچھ عرصے بعد کریں گے۔تقریباً 3 مہینے بعد لڑکی نے کسی اور لڑکے کے ساتھ بھاگ کر اپنا نام ’’مسکان ‘‘بتا کر نکاح کر لیا حالانکہ پیدائشی سرٹیفکیٹ میں بھی لڑکی کا نام ’’فضاء‘‘ ہی ہے۔فضاء کے ابو کا نام بشیر احمد ہے۔ رہنمائی فرما کر یہ بتا دیں کہ کیا لڑکی کا نکاح پر نکاح ہو سکتا ہے؟ ہمیں فتوی چاہیے تاکہ ہم کو رٹ میں پیش کر سکے ، ہمارا کورٹ میں کیس چل رہا ہے مہربانی کرکے ہمیں جلد از جلد فتوی عطا کر دیجیے،شکریہ۔
سائل: شکیل قادری ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں جس نکاح کا ذکر کیا گیا ہے وہ ہرگز منعقد نہ ہوا بلکہ اگر عملِ ازدواج (ہم بستری)ہوا تو محض زنا ہے اور اگر یہ نہ ہوا تب بھی غیر محرم کے ساتھ بلا ضرورت شرعی رہائش وغیرہ سخت حرام ہے۔جس دوسرے شخص سے کورٹ میرج ہوئی اس پر لازم ہے کہ وہ منکوحہ انس کو فورا الگ کردے ۔ اور اس عورت پر بھی لازم ہے کہ وہ دوسرے شخص سے الگ ہوجائے۔
اگر اس دوسرے شخص کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ لڑکی انس کے نکاح میں ہے اور اس سے عملِ ازدواج کرچکا تو اس لڑکی پر عدت لازم ہے۔عدت سے پہلے اس کا اصلی شوہر (انس) عملِ ازدواج نہیں کرسکتا ۔ اور اگر وہ دوسرا شخص یہ جانتے ہوئے کہ یہ لڑکی کسی کے نکاح میں ہے اس نے نکاح اور عمل ازدواج کیا تو لڑکی پر کوئی عدت نہیں ہے،کہ زانیہ پر زجرًا عدت نہیں۔
منکوحہ انس کا نکاح دوسری جگہ کروانے میں جتنے لوگ بھی شریک ہوئے سب کے سب فاسق وفاجر، زنا کا دروازہ کھولنے والے ظالم وجابر حرام کبیرہ کے مرتکب،مستحقِ غضب ِجباّر وعذابِ نار ہیں۔ان پر لازم ہے کہ اپنی اس بری حرکت پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے صدقِ دل سے اعلانیہ توبہ واستغفار کریں ۔ اور آئندہ ایسی حرکتوں سے بچنے کا اللہ رب العزت سے پختہ عہد کریں ۔ اور اگر یہ لوگ احکام شریعہ پر عمل پیرا نہیں ہوتے ہیں تو مسلمانوں کو چاہیے کہ ان کا بائیکاٹ کریں نہ تو ان کے ساتھ کھائیں پئیں اور نہ نشست وبرخاست رکھیں،لیکن اگر ان لوگوں نے مذکورہ نکاح حلال جانتے ہوئے کروایا ہے تو یہ کفر ہے ان پر لازم ہے کہ علانیہ توبہ واستغفار کریں اور احتیاطاً تجدید اسلام وتجدید نکاح بھی کریں۔
دلائل و جزئیات:
شادی شدہ عورت سے نکاح حرام ہے،اللہ رب العزت فرماتا ہے: وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ. اور حرام ہیں شوہر دار عورتیں۔(النساء: 24)
اسی الفتاوی الہندیۃ میں ہے:"لَا يَجُوزُ لِلرَّجُلِ أَنْ يَتَزَوَّجَ زَوْجَةَ غَيْرِهِ". ترجمہ:کسی شخص کیلئے جائز نہیں کہ دوسرے شخص کی منکوحہ سے شادی کرلے۔( الفتاوی الھندیۃ،کتاب النکاح،القسم السادس المحرمات التي يتعلق بها حق الغير،1/280،دار الفکر)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں رقمطراز ہیں:”یہ نکاح نہ ہوئے محض زنا ہوئے۔قال اللہ تعالی {والمحصنت من النساء} اب جس کے پاس ہے اس پر فرض قطعی ہے کہ عورت کو اپنے پاس سے جدا کردے اور نکال دے اور عورت پر فرض قطعی ہے کہ اس سے جدا ہوجائے اپنے خاوند عمر کے پاس آئے اور یہ روپیہ کہ زید نے بکر اور اس شخص ثالث سے لیا بالکل حرام قطعی اور رشوت بلکہ زنا کی خرچی تھا زید پر فرض ہے کہ یہ روپیہ جس جس سے لیا ہے اسے واپس کرے زید اور وہ شخص ثالث اور وہ عورت تینوں میں سے جو شخص ان احکام کی تعمیل نہ کرے۔مسلمان اسے اپنی صحبت سے نکال دیں اور اس کے پاس اٹھنا بیٹھنا ترک کریں ۔قال اللہ تعالی {واما ینسینك الشيطان فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين}جب کبھی شیطان تجھے بھول میں ڈالے تو یاد آنے پر ظالم لوگوں کے پاس مت بیٹھ‘‘۔ (فتاوی رضویہ،11/316،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) اسی طرح کے ایک سوال کے جواب کے تحت تحریر فرماتے ہیں:”جس عورت کا شوہر زندہ ہے اور طلاق نہیں ہوئی ہے،اس کا نکاح نہیں ہوسکتا،اللہ عزوجل فرماتا ہے،{والمحصنت من النساء}،یہ لوگ سخت حرام کے مرتکب ہوئے اور اگر اس حرام کو حلال بنانا چاہا تو کفر ہے،ان لوگوں پر توبہ لازم اور احوط یہ کہ تجدید اسلام وتجدید نکاح کریں،اور ان سے میل جول اور ان کی تقریبوں میں شرکت نہ کی جائے،جب تک توبہ نہ کرلیں‘‘۔(فتاوی امجدیہ،کتاب النکاح، 2/58،مکتبہ رضویہ کراچی)
منکوحۃ الغیر سے وطی کرنے پر اس کی عدت کب ہے اور کب نہیں اس کے متعلق علامہ ابو المحاسن فخر الدین حسن بن منصور قاضی خان اوزجندی (المتوفی:592ھ) فرماتے ہیں:"ولو تزوج بمنكوحة الغير وهو لا يعلم أنها منكوحة الغير فوطئها تجب العدة وإن كان يعلم أنها منكوحة الغير فوطئها لا تجب العدة". ترجمہ:اگر کسی کی منکوحہ سے شادی کرلی اور معلوم نہ تھا کہ یہ غیر کی منکوحہ ہے پھر اس سے وطی کرلی تو عدت واجب ہوگی اور اگر معلوم تھا کہ یہ غیر کی منکوحہ ہے پھر وطی کی تو عدت واجب نہیں (کیونکہ اب یہ زنا ہوا جس کی عدت نہیں)۔(فتاوی قاضی خان،کتاب النکاح،1/320،دار الکتب العلمیۃ بیروت)
اگر دوسرے شخص کو عورت کا منکوحۃالغیر ہونا معلوم ہو پھر بھی نکاح کے بعد وطی کرلےتو اس پر شرعی حدہے،علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"وَلِهَذَا يَجِبُ الْحَدُّ مَعَ الْعِلْمِ بِالْحُرْمَةِ لِكَوْنِهَا زِنًا كَمَا فِي الْقُنْيَةِ وَغَيْرِهَا".ترجمہ:اس لئے جب منکوحۃ الغیر کی حرمت جانتے بوجھتے دوسرے شخص نے وطی کی تو شرعی حَداس پر واجب ہوگی کیونکہ یہ فعل زنا ہوا ایسا ہی قنیہ وغیرہا میں مرقوم ہے۔(رد المحتار،باب العدۃ،مطلب عدة المنكوحة فاسدا والموطوءة بشبهة،3/516،دار الفکر)
زانیہ کی عدت نہیں، الفتاوی الہندیۃ میں ہے:"لَا تَجِبُ الْعِدَّةُ عَلَى الزَّانِيَةِ وَهَذَا قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى كَذَا فِي شَرْحِ الطَّحَاوِيِّ".ترجمہ:زانیہ پر عدت واجب نہیں یہ قول طرفین رحمہما اللہ کا ہے ایسا ہی شرح الطحاوی میں مرقوم ہے۔ (الفتاوی الہندیۃ،کتاب الطلاق،الباب الثالث عشر فی العدۃ،1/526،دار الفکر)
زانیہ کی عدت نہ ہونے کی وجہ علامہ ابو بکر بن مسعود الکاسانی (المتوفی:587ھ) بیان فرماتے ہیں:"وَلَا عِدَّةَ عَلَى الزَّانِيَةِ حَامِلًا كَانَتْ أَوْ غَيْرَ حَامِلٍ؛ لِأَنَّ الزِّنَا لَا يَتَعَلَّقُ بِهِ ثُبُوتُ النَّسَبِ".ترجمہ:زانیہ چاہے حاملہ ہو یا نہ ہو اس کی عدت نہیں کیونکہ زنا سے ثبوت نسب کا تعلق نہیں ہوتا۔(بدائع الصنائع،کتاب الطلاق،فصل فی توابع الطلاق،3/192،دا ر الکتب العلمیۃ بیروت)۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب