حرمت مصاہرت اور ملک غیر میں تصرف
    تاریخ: 15 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 32
    حوالہ: 408

    سوال

    میرا نام شہناز ہے میرے شوہر عرفان سے میرے چار بچے ہیں تین بیٹیاں اور ایک بیٹا۔میراشوہر گارمنٹس کا کام کرتا ہے اور بازار وغیرہ بھی لگاتا ہے اور بازار میں غلط اور گندے لوگوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے ، اور میاں بیوی کی پرائیوٹ باتیں بھی جا کر دوستوں کو بتاتا ہے، میرے منع کرنے کے بعد کئی مرتبہ مجھ پر ہاتھ بھی اٹھایا ہے ، اور دو تین بار گھر سے بھی نکالا ہے، اور گھر پر بھی جو ان بیٹیوں کی موجودگی میں ایسی گندی حرکتیں کرتا ہے جو کسی باپ کو زیب نہیں دیتی ، جہاں تک میری ذات کی بات تھی تو میں برداشت کرتی رہی، لیکن پھر اس نے تین مہینے پہلے نہایت ہی گھٹیا حرکت کی جس کا علم مجھے بعد میں ہو اوہ یہ کہ میری بیٹی نے بتایا کہ ’’تین مہینے پہلے وہ سب چھت پر سورہے تھے تو دہ واش روم کے لئے نیچے آئی تو ابو سوئے ہوئے تھے لیکن جب انہوں نے مجھے دیکھا کہ میں نیچے آئی ہوں تو وہ مجھے اپنے کمرے میں لے گئے ، دروازہ بند کر کے کنڈی لگادی پہلے اپنے کپڑے اتارے اور پھر میرے بھی زبر دستی کپڑے اتارنے کی کوشش کی جس پر میں چلائی اور بڑی مشکل سے باہر نکلی‘‘ اور میری بیٹی نے مجھے کہا کے امی میں نے آپ کو اس لئے نہیں بتایا کہ میں ڈر گئی تھی۔جب میری بیٹی نے یہ بات بتائی تو میں نے پولیس میں رپورٹ کروائی اور پولیس نے میری بیٹی سے بیان لیا اور پھر اسے جیل میں بند کروادیا ہے۔اب وہ ہم پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ میں جیل سے باہر نکل کر سب کو باہر نکالوں گا اور یہ مکان بیچ دوں گا، تاکہ کیس دب جائے اور اسے سزا نہ ہو اور سب سے یہی کہہ رہا ہے کہ میری بیوی مکان کے چکر میں میرے ساتھ یہ سب کر رہی ہے حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے مجھے کوئی مکان کا لالچ نہیں ہے صرف مکان میرے بچوں کی چھت ہے کہاں لے کرجاؤں جو ان بچے ہیں اس لیے مکان کی بات کر رہی ہوں بات تو بیٹی کی عزت کی ہے۔مکان کے پیپر گھر پر میرے پاس ہیں اور اس کے بھائی بہن اس کو بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    (۱)کیا میرا اور اس کا رشتہ باقی ہے؟

    (۲)ایسا شخص جوان بیٹیوں کے درمیان رہنے کے قابل ہے؟

    (۳)کیا میں ان کا غذات کی بنا پر مکان بیٹے کے نام کرواسکتی ہوں؟تا کہ میرےبچوں کے سر سے یہ چھت بھی نہ چلی جائے۔

    شرعی راہنمائی فرمائیں اور مشورہ بھی عنایت فرمائیں تاکہ میں گناہ اور بد نامی سے بھی بیچ سکوں اور میرےبچوں کے سر پر چھت بھی رہے۔

    سائلہ:شہناز ۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    (۱) مفتی کا کام پوچھی گئی صورت کا جواب دینا ہے معاملے کی جانچ پڑتال کرنا اس کے ذمہ نہیں ۔لہذا اگر آپ کے شوہر کا اپنی بیٹی کو چھونا شہوت (یعنی شوہر جوان ہیں تو انتشار آلہ ہو،اگر پہلے سے انتشار تھا تو اب زیادہ ہواور اگر شوہر بوڑھے ہیں تو دل میں حرکت پیدا ہو اور اگر پہلے سےہو تو زیادہ ہوجائے)کے ساتھ تھا کہ چھوتے وقت شہوت تھی اور انزال نہیں ہوا(منی نہیں نکلی)،اب چاہے یہ عمل جان بوجھ کر ہوا یا بھول کر یا غلطی سے حرمت مصاہرت ثابت ہوگئی یعنی آپ اپنے شوہر پر ہمیشہ کیلئے حرام ہوگئیں اور یہ حرمت تحلیل شرعی سے بھی حلال نہیں ہوگی۔الّا یہ کہ بیٹی نے اتنے موٹے کپڑے پہنے تھے کہ جسم کی حرارت محسوس نہیں ہوئی تو حرمت ثابت نہیں ہوگی۔کیونکہ چاہے زوجہ موطؤہ کی لڑکیاں ہوں یا زوجہ کی ماں، دادیاں، نانیاں ہوں،اِن مشتہاۃ (قابل شہوت ہو یعنی نو برس سے کم عمر کی نہ ہو)عورتوں میں سے کسی کے ساتھ جماع یا شہوت کے ساتھ چھونے ،بوسہ لینے،فرجِ داخل کی طرف نظر کرنے،گلے لگانے،دانت کاٹنے،مباشرت حتی کہ سر پر جو بال ہوں انہيں چھونے سے بھی حرمت ثابت ہوجاتی ہے۔

    ہاں اگر آپ کے پاس اس معاملہ سے متعلق دوعادل گواہ نہیں اور شوہر بشہوت چھونے سے انکاری ہے تو شوہر کے قول کاقسم کے ساتھ اعتبار ہوگا اور نکاح قائم رہے گا۔اور اگر شوہر بیوی کے سامنے اقرار کرلیتا ہے کہ میں نے اپنی بیٹی کو شہوت کے ساتھ چھووا ہے لیکن بیوی کے پاس اس کے اقرار پر گواہ نہ ہوں اور شوہر مفتی یا قاضی کے پاس قسم کے ساتھ انکار کر دیتا ہے تو پھر بھی حرمتِ مصاہرت ثابت نہ ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا لیکن بیوی کیلئے جائز نہیں ہوگا کہ وہ اس کے ساتھ رہے، وہ طلاق لے کر یا شرعی خلع لے کر پوری کوشش کرکے اس سے اپنی جان چھڑائے، اگر اس طرح بھی جان نہ چھوڑے تو جس طرح ممکن ہو اس سے دور رہے اور اس کو اپنے اوپر قابو نہ دے ۔

    (۲)ایسے بے حیاء شوہر سے جیسا ہوسکے خلاصی حاصل کرنے کی کوشش کرے چاہے وہ طلاق لے کر ہو (اگرچہ زبانی جبری طلاق ہوکہ زبانی جبری طلاق نافذ ہےخواہ جبر پولیس کے ذریعے ہو یا کوئی اور ذریعہ اپنایا جائے)یا شرعی خلع لے کر پھر جب تک خلاصی نہ ہوسکے بیٹیوں کو ایسے انسان کی تنہائی میں قطعی نہ دیں۔

    (۳)اگر یہ مکان شوہر کی ملکیت ہے تو بیوی کا کا غذات کی بنا پر مکان بیٹے کے نام کروانا شرعا درست نہیں۔کیونکہ یہ ملکِ غیر میں تصرف ہے جو کہ بلااذن ناجائز و حرام ہے۔

    دلائل و جزئیات:

    ملکِ غیر میں تصرف ناجائز ہے، علامہ محمد بن علی علاؤ الدین الحصکفی (المتوفی:1088ھ) فرماتے ہیں:"لَا يَجُوزُ التَّصَرُّفُ فِي مَالِ غَيْرِهِ بِلَا إذْنِهِ وَلَا وِلَايَتِهِ". ترجمہ:کسی کیلئے جائز نہیں کہ غیر کے مال میں بغیر اسکی اجازت و ولایت کے تصرف کرے۔(الدر المختار،کتاب الغصب،6/200،دار الفکر) (شرح المجلۃ، مادة: 96،1/96، دار الکتب العلمیۃ)

    علامہ کمال الدین محمد بن عبد الواحد ابن الہمام (المتوفی:861ھ) فرماتے ہیں:"الثاني المصاهرة، يحرم بها فروع نسائه المدخول بهن وإن نزلن".‎ترجمہ: محرمات کی دوسری قسم حرمت مصاہرت ہے اور اس کے سبب حرام ہو جاتی ہیں مدخولہ بیوی کی بیٹیاں اگرچہ نیچے تک۔(فتح القدیر،کتاب النکاح،فصل فی بیان المحرمات، 3/208،دار الفکر ،لبنان)

    علامہ محمد بن علی علاؤ الدین الحصکفی (المتوفی:1088ھ) فرماتے ہیں:"(و) أصل (ممسوسته بشهوة) ولو لشعر على الرأس بحائل لا يمنع الحرارة... والعبرة للشهوة عند المس والنظر لا بعدهما وحدها فيهما تحرك آلته أو زيادته به يفتى وفي امرأة ونحو شيخ كبير تحرك قبله أو زيادته... فلو أنزل مع مس أو نظر فلا حرمة به يفتي ابن كمال وغيره... (ولا فرق) فيما ذكر (بين اللمس والنظر بشهوة بين عمد ونسيان) وخطأ، وإكراه ، فلو أيقظ زوجته أو أيقظته هي لجماعها فمست يده بنتها المشتهاة أو يدها ابنه حرمت الأم أبدا".ترجمہ:جس عورت کو شہوت کے ساتھ چھوا اس کی اصل حرام ہے اگرچہ سر کے بال کو چھوا ہو ایسی رکاوٹ کے ساتھ جو حرارت کو نہ روکے۔شہوت کا اعتبار چھونے اور دیکھنے کے وقت ہو گا ان دونوں کے بعد نہیں ہوگا۔دونوں صورتوں میں شہوت کی حد یہ ہے کہ مرد کے آلہ تناسل میں حرکت پیدا ہو جائے یا اس کی حرکت میں اضافہ ہو جائے اسی پر فتوی دیا جاتا ہے۔عورت اور بوڑھے شیخ میں شہوت سے دل کی حرکت یا حرکت کا اضافہ ہو جانا مراد ہے۔اگر چھونے یا دیکھنے سے انزال ہو جائے تو اس سے حرمت ثابت نہ ہوگی اس پر ابن کمال وغیرہ فتوی دیتے ہیں۔جس حرمت کا ذکر کیا گیا ہے بشہوت چھونے اور دیکھنے کی صورت میں چاہے یہ افعال جان بوجھ کر ہو یا بھول کر ہو یا خطاء ہو یا اکراہ کی صورت میں ہو شرعی حکم میں کوئی فرق نہیں۔ اگر مرد نے اپنی بیوی کو بیدار کیا یا بیوی نے اسے بیدار کیا تا کہ جماع کرے پس مرد کا ہاتھ اس عورت کی بیٹی کو چھو گیا جو قابل شہوت ہے یا عورت کا ہاتھ خاوند کے بیٹے تک جا پہنچا تو ماں ہمیشہ کے لئے حرام ہو جائے گی۔(الدر المختار،کتاب النکاح،فصل فی المحرمات،3/32-35،دار الفکر)

    تنویر الابصار مع درمختار میں ہے :"(وإن ادعت الشهوة) في تقبيله أو تقبيلها ابنه (وأنكرها الرجل فهو مصدق) لا هي (إلا أن يقوم إليها منتشرا) آلته (فيعانقها) لقرينة كذبه أو يأخذ ثديها (أو يركب معها) أو يمسها على الفرج أو يقبلها على الفم".ترجمہ: اور اگر عورت نے مردکے اپنے (سسرالی رشتوں یعنی ساس، اور ان کے اصول ، بیوی کی بیٹی وغیرہ) کے بوسہ لینے میں یا (خود عورت )اس کے بیٹے کا بوسہ لینے میں شہوت کا دعویٰ کیا اور مرد نے اس کا انکار کیا تو مرد کی تصدیق کی جائے گا، نہ کہ عورت کی، مگر یہ کہ عورت کی جانب اس کا آلہ منتشر تھا پس اس نے عورت کو گلے لگایا (تو دعوی شہوت میں عورت کی تصدیق کی جائے گی) مرد کے جھوٹا ہونے کے قرینہ کی وجہ سے یا مرد عورت کے پستانوں کو پکڑے یا عورت کے ساتھ (کسی سواری پر) سوار ہو یا عورت کی شرمگاہ کو چھوئے یا عورت کے منہ یعنی لب کا بوسہ لیا (تو دعوی شہوت میں عورت کی تصدیق کی جائے گی)۔ (الدر المختار،کتاب النکاح،فصل فی المحرمات،3/37،دار الفکر)۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء:20 رجب المرجب 1445 ھ/1 فروری 2024ء