رضاعی بہن سے نکاح کا حکم
    تاریخ: 28 فروری، 2026
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 924

    سوال

    میرا نام حلیمہ ہے ،اور میری بیٹی کا نام حفظہ ہے ،اسکی عمر 15 سال ہے ۔میری بہن کا نام فاطمہ ہے اور اسکے بیٹے کا نام عذیر ہے۔ میری بہن نے میری بیٹی حفظہ کو مجھ سے پہلے دودھ پلایا تھا جب وہ پیدا ہوئی تھی۔ اب وہ اپنے بیٹے عذیر کے لیے میری بیٹی کارشتہ مانگ رہے ہیں ۔ آپ ہمیں بتائیں کہ یہ رشتہ ہوسکتا ہے یا نہیں ؟سائلہ: حلیمہ کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مذکورہ صورت میں حفظہ کا نکاح ،عذیر کے ساتھ جائز نہیں ہے۔ کیونکہ حفظہ ،عذیر کی والدہ فاطمہ کے دودھ پلانے کی وجہ سے اسکی دودھ شریک(رضاعی) بہن بن گئی ۔ اور حدیث پاک کے مطابق جس طرح نسب کی وجہ سے کوئی رشتہ حرام ہوجاتا ہے ،رضاعت(دودھ پلانے) کی وجہ سے بھی حرام ہوجاتا ہے۔حدیث پاک میں ہے:عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ فِي بِنْتِ حَمْزَةَ لَا تَحِلُّ لِي يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ هِيَ بِنْتُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ.ترجمہ:حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے بارے میں فرمایا کہ وہ میرے لیے حلال نہیں ہے کیونکہ رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔ وہ تو میری رضاعی بھتیجی ہے۔(بخاري، الصحيح، 2: 935، رقم: 2502، مسلم، الصحيح، 2: 1071، رقم: 1447)

    اسی طرح دوسری حدیث میں ہے :عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ، قَالَ رَسُولُ اﷲِ: إِنَّ اﷲَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعِ مَا حَرَّمَ مِنَ النَّسَبِ.ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جو (رشتہ)نسب سے حرام کیا وہی رضاعت سے حرام فرمایا۔(ترمذي، السنن، 3: 452، رقم: 1146، بیروت، لبنان: دار احياء التراث العربي،أحمد بن حنبل، المسند، 1: 131، رقم: 1096، مصر: مؤسسة قرطبة)واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد زوہیب رضاقادری

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 19 صفر المظفر 1440 ھ/29کتوبر 2018 ء