نشے کی حالت میں طلاق دینا
    تاریخ: 26 فروری، 2026
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 902

    سوال

    میرے شوہر نے مجھے شراب کےنشے کی حالت میں تین بار کہا ‘‘میں نے تمہیں طلاق دی ،طلاق ،طلاق ،طلاق’’۔اور اب اس کو یاد نہیں ہے اور وہ کہتے ہیں کہ میں نے ایسا کچھ نہیں کہا ۔اور میرا یہ حلفیہ بیان دیتی ہوں کہ میں نےخود سنا کہ اس نے یہ الفاظ تین مرتبہ مجھ سے کہے ۔تو کیا طلاق ہو گئی ہے ؟جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی۔

    سائلہ:انیلا،کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جی ہاں مذہب حنفی میں مفتی بہ قول کے مطابق نشہ میں دی جانے والی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔اگر معاملہ واقعتا ایسا ہی ہے جیسے بیان کیا گیا تو آپ پر تین طلاقیں واقع ہو گئی ہےاور آپ اپنے شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہیں اور بغیر حلالہ شرعی کے رجوع کی کو ئی صورت نہیں ہے ۔

    الرد المحتار (مطلب فی تعریف السکران و حکمہ ،ج:۳،ص:۲۳۹،طبع:دار لفکر ،بیروت)میں ہے:أنه إن كان سكره بطريق محرم لا يبطل تكليفه فتلزمه الأحكام وتصح عبارته من الطلاق۔ترجمہ:اگر کسی شخص کو حرام چیز کے استعمال کی وجہ سے نشہ آجائے تو اس کا مکلف ہونا باطل نہیں ہوگا بلکہ اس پر تمام احکام لازم ہونگے اوراس کے طلاق وغیرہ کے الفاظ صحیح ہونگے ۔

    حلالہ کے احکام:

    تیسری طلاق کے بعداگر میاں ،بیوی دوبارہ رہنے پر راضی ہوں توبغیر حلالہ شرعی کے نہیں رہ سکتے۔

    ارشاد باری تعالی ہے:فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا أَنْ یَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ یُقِیمَا حُدُودَ اللَّہِ وَتِلْکَ حُدُودُ اللَّہِ یُبَیِّنُہَالِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ: ترجمہ کنز الایمان:پھر اگر تیسری طلاق دے دی تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے ،پھر وہ دوسرا اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ آپس میں مل جائیں ،اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نبھائیں گے اور اللہ یہ حدیں ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کےلئے ''،( البقرہ 230)

    امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمہ اللہ تعالیٰ حلالہ کی وضاحت میں فرماتے ہیں :

    ''حلالہ کے یہ معنیٰ ہیں کہ اس طلاق کے بعد عورت حیض والی ہے تو اسے تین حیض ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نو برس سے کم عمر لڑکی ہے یا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اسکی طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزر جائیں ےا اگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے ،اس وقت اس طلاق کی عدت سےنکلے گی اسکے بعد دوسرے شخص سے نکاح بر وجہ صحیح کرے۔۔۔۔۔۔وہ اس سے ہم بستری بھی کرے اور اس کے بعدطلاق دے اور اس طلاق کی عدت گزر لے کہ تین حیض ہوں اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے اور حمل رہ جائے تو بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے'' (فتاویٰ رضویہ کتاب الطلاق جلد 12ص84 ) ۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد

    تاریخ اجراء:22جمادی اولٰی 1440 ھ/28جنوری 2019ء