سوال
میں نے اپنی بیوی کو چار ماہ پہلے ایک طلاق دی تھی ان الفاظ کے ساتھ"اگر تم صبح سویرے اٹھ کر میرے لیئے ناشتہ نہیں بنایا تو میری طرف سے طلاق ہے "جبکہ میری بیوی کاکہنا ہے کہ میں نے طلاق کا لفظ سنا تو تھا پر کس وجہ سے آپ کہ رہے ہیں یہ میں نے نہیں سنا اس لیئے میں صبح نہیں اٹھی۔اس کے بعد ایک دن میں نے اپنی بیوی کو کہا تھا کہ" آپ میرے بھائی کے گھر نہیں جاناورنہ میری طرف سے ایک طلاق سمجھ لینا "اس کے بعد وہ میرے بھائی کے گھر گئی تھی اور اس کا کہنا کہ آپ خود اپنی مرضی سے لیکر گئے تھے اور اس کے بعد بھی وہ میری بھتیجی کے ساتھ گئی تھی اور پھر2018/8/24کومیں نے ایک اور طلاق دی تھی ۔آپ سے عرض یہ ہے کہ ان تمام صورتوں میں کتنی طلاقیں ہونگی ؟
سائل: عبداللہ: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
طلاق کو کسی شرط یا conditionپر مشروط کرنا تعلیق ِطلاق کہلاتا ہے اور تعلیق کے معنے یہ ہیں کہ کسی چیز کا ہونا دوسری چیز کے ہونے پر موقوف کیا جائے یہ دوسری چیز جس پر پہلی موقوف ہے اس کو شرط کہتے ہیں جبکہ عام حالات میں بغیر کسی شرط کے جو طلاق دی جاتی ہے وہ تنجیزا طلاق دینا کہلاتا ہے ۔
تنویر الابصار مع الدر المختار (باب التعلیق ،ج:۳ص:۳۴۱،طبع:دار الفکر ،بیروت)میں تعلیق کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے :"ربط حصول مضمون جملة بحصول مضمون جملة أخرى"
اعلحضرت امام اہلسنت علیہ الرحمہ اس عبارت کی وضاحت کر تے ہو ئے (فتاوی رضویہ ،باب التعلیق ،ج:۱۳،ص:۱۳۷)میں فر ما تے ہیں :تعلیق ربطِ مضمونِ جملہ بمضمونِ آخر ہے نہ کہ خبطِ مضمون بربطِ آخر ان دخلت الدار فانت طالق (اگر تو گھر میں داخل ہو تو تجھے طلاق) کہنے والے نے انت طالق کے مفاد شرعی کو دخولِ دار پر معلق کیا تو ہنگامِ دخول اسی مفاد کا نزول ہوگا(اور وہ طلاق ہے)
خلاصہ:
اگر آپ اپنے اس بیان میں سچے ہیں تو آپ کی بیوی کو دو طلاق رجعی واقع ہو گئی ہیں اور آپ عدت کے دوران رجوع کر سکتے ہیں اور رجوع کے لیئے یا تو زبانی کہہ دیں کہ میں رجوع کرتا ہوں یا پھر بیوی کے ساتھ تعلقات قائم کر لیں ؛لیکن اس کے بعد آپ کو صرف ایک طلاق کا حق ہوگا اس کے بعد آپ کی بیوی حرمت مغلظہ کے ساتھ ہمیشہ کے لیئے آپ پر حرام ہو جا ئے گی سوائے حلالہ شرعی کے ۔اور اگر عدت ختم ہو گئی اور آپ نے رجوع نہیں کیا تو عدت کےختم ہو تے ہی آپ کی بیوی بائنہ ہو کر آپ کی نکاح سے نکل جائے گی لیکن آپ کو یہ اختیار رہے گا کہ آپ باہمی رضامندی سے دو گواہوں کی موجودگی میں مہر جدید کے ساتھدوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔
چونکہ آپ نے پہلی طلاق صبح سویرےناشتہ نہ بنانے پر معلق کیا تھا اور آپ کی بیوی نے ناشتہ نہیں بنایا تو معلق طلاق واقع ہو گئی اور اس سے کو ئی فرق نہیں پڑے گا کہ آپ کی بیوی تعلیق طلاق کی وجہ نہیں سن سکی ہے یا نہیں !لہذا طلاق واقع ہو گئی ہے ۔
اور دوسری طلاق 2018/8/24کو آپ نے تنجیزا (فورا نافذ ہونے کی صورت میں )دی ہےاور جہاں تک درمیانی تعلیق طلاق کی بات ہے تو اس سے طلاق واقع نہیں ہو تی کیونکہ آپ نے ان الفاظ میں " آپ میرے بھائی کے گھر نہیں جاناورنہ میری طرف سے ایک طلاق سمجھ لینا "طلاق دی ہے اور شرعاً"طلاق سمجھ لینا "سے نہیں بلکہ طلاق دینے سے واقع ہو تی ہے لہذا آ پ کی بیوی کو دوطلاقیں واقع ہو چکی ہیں ۔
الہدایہ مع البنایہ (باب الایمان فی الطلاق ،ج:۵،ص:۴۱۳،طبع:دارالکتب العلمیہ)میں ہے :(وإذا أضافه) أي أضاف الرجل الطلاق (إلى شرط وقع عقيب الشرط، مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق) لأن المعلق بالشرط كالمنجز عند وجود الشرط (وهذا بالاتفاق)ترجمہ:جب کوئی شخص طلاق کو معلق کر دے کسی شرط پر تو شرط کے پائے جانے پر واقع ہو جائے گی جیسے کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے "اگر تو گھر میں داخل ہوئی تو طلاق والی ہے "اور یہ اس لیئے ہے کہ کسی شیء کو شرط کے ساتھ معلق کرنا ایسا ہی ہے جیسے شرط کے پائے جانے پر نافذ کرنا ،اور اس پر سب کا اتفاق ہے ۔
سیدی اعلحضرت امام اہلسنت سے (فتاوی رضویہ ،باب التعلیق ،ج:۱۳،ص:۲۴۳،طبع:رضافاؤنڈیشن )پوچھا گیا کہ کسی نے اپنی بیوی کوان الفاظ"میری جانب سے میری زوجہ کو طلاق قطعی سمجھی جائے" میں طلاق معلق دی۔تو آپ جوابا ارشاد فرما تے ہیں :صورت مستفسرہ میں طلاق نہ ہوئی، جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں بیان کیا ہے، اور خانیہ میں نص موجود ہے کہ" ان احسبی انک طالق لیس بطلاق"ترجمہ: خاوند کا بیوی کو کہنا کہ ''تو طلاق سمجھ لے'' یہ طلاق نہیں ہے،وفی الھندیۃ عن الخلاصۃ"امرأۃ قالت لزوجھا مرا طلاق دہ فقال دادہ انگار او کردہ انگارلایقع وان نوی"واﷲ تعالٰی اعلم :ترجمہ:اور ہندیہ میں خلاصہ سے منقول ہے کہ کسی عورت نے اپنے خاوند کو کہاکہ''مجھے طلاق دے'' تو خاوند نے جواب میں کہا''تو اس کو طلاق دی ہوئی یا طلاق کی ہوئی سمجھ لے'' تو طلاق نہ ہوگی اگر چہ اس سے طلاق کی نیت کی ہو۔
اللہ تعالی جل شانہ کا فرمان ہے :الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ۔ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ۔ترجمہ: یہ طلاق دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نکوئی کے ساتھ چھوڑدینا ہے اور تمہیں روا نہیں کہ جو کچھ عورتوں کو دیا اس میں سے کچھ واپس لو مگر جب دونوں کو اندیشہ ہو کہ اللہ کی حدیں قائم نہ کریں گے پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں ٹھیک انہیں حدوں پر نہ رہیں گے تو ان پرکچھ گناہ نہیں اس میں جو بدلہ دے کر عورت چھٹی لے یہ اللہ کی حدیں ہیں ان سے آگے نہ بڑھو اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے تو وہی لوگ ظالم ہیں ۔(البقرۃ:229،230)
پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہےپھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نباہیں گے اوریہ اللہ کی حدیں ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کے لئے۔
بدائع الصنائع (باب الرجعۃ ،ج:۳،ص:۱۸۱،طبع:دار الکتب العلمیۃ )میں اللہ تعالی کا فرمان "فَإِمْسَاكٌ " کی تفسیر یوں ہے:وَالْإِمْسَاكُ بِالْمَعْرُوفِ هُوَ الرَّجْعَةُ.ترجمہ:اور امساک سے مراد دستور کے مطابق رجوع کر نا ہے ۔
اوراحناف کے نزدیک مدخولہ عورت کی عدت طلاق تین حیض ہیں اگر عورت حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہے اور اگر آیسہ(وہ عورت جس کو عمر کے زیادہ ہونے کی وجہ سے حیض آنا بند ہوجائے)ہےتو اس کی عدت تین قمری مہینےہیں ۔
اللہ تعالی جل شانہ کا فرمان ہے :وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِنْ كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ۔ترجمہ: اور طلاق والیاں اپنی جانوں کو روکے رہیں تین حیض تک اور انہیں حلال نہیں کہ چھپائیں وہ جو اللہ نے ان کے پیٹ میں پیدا کیا اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتی ہیں۔(البقرۃ:229،230)
اسی طرح ارشاد فرمایا:وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا ترجمہ:اور تمہاری (بوڑھی)عورتوں میں جنہیں حیض کی امید نہ رہی ،اگر تمہیں کچھ شک ہو (کہ ان کی عدت کا کیا حکم ہے )تو ان کی (طلاق کی )عدت تین مہینے ہےاور ان کی (بھی )جنہیں ابھی حیض نہ آیا، اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جَن لیں۔(الطلاق: 4)
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد
تاریخ اجرء:3محرم الحرام 1440 ھ/14ستمبر 2018 ء