سوال
(1)عرض یہ ہے کہ ایک ایسی خاتون سے میں نکاح کرناچاہتا ہوں جس کے بچے ہیں ایک 14سال کی بیٹی اور 13 کا بیٹا ہے ۔ آپ سے معلوم یہ کرنا ہے کہ اس خاتون کی بیٹی میرے لیئے محرم ہوگی یا نہیں اور وہ میرے ساتھ عمرہ یا حج ادا کر سکتی ہے یا نہیں ؟ْاور کورٹ سے بچوں کی adoptionلےسکتا ہوں قانونی طور پر؟
(2)ایک خاتون جس کاتعلق علاقہ غیر یعنی پشاور سے کافی آگےسے تھا،جس کےساتھ17سال پہلے میرا نکاح ہوا تھا،اوربعد میں پتہ چلا کہ وہ شادی شدہ تھی اور ایک بچہ بھی تھا اور ان کو طلاق ہو گئی تھی ،اوریہ نکاح ان کے کسی رشتہ دار کے ذریعے عمل میں آیااور بمشکل ڈیڈھ دو مہینے تک قائم رہا اس میں بھی وہ خاتون اپنے رشتہ داروں کے گھر گزارتی تھی اور پھر وہ اپنے علاقے جا کر کورٹ سے خلع لی اور دوبارہ اپنے سابقہ شوہر سے شادی کر لی ۔جبکہ میں نے نہ ان کو طلاق دی ہے نہ ہی خلع نامہ پر دستخط کیئے ہیں ۔
اور اس سے قبل مصالحت کے لیئے ہم نے ان کے رشتہ دارواں سے رابطہ کیا ،حتی کہ کورٹ سے بھی نوٹس بھیجا ،مگر سب بے سود ثابت ہوا ۔پھر ہم نے وکیل کے ذریعے سامان وغیرہ واپس کرنے کی کوشش کی مگر کوئی نہیں آیااور ان کے یہاں جو رشتہ دار تھے ان سےرابطہ کیا تو انہوں کہا کہ ہم ان معاملات میں نہیں پڑتے آپ خود ہی ان سے رابطہ کیجئےاور اب وہ بھی اس ایڈریس پر موجود نہیں ہیں ،اور رابطہ کی کوئی صورت نہیں ہے ،غرض یہ کہ کپڑے اور باقی سامان گل سڑ گیا ،اب کچھ طلائی زیور ہے جو وہ چھوڑ کر گئی تھی ۔ اس حوالے سے عرض یہ کرنا ہے جو کورٹ کچہری اور وکیل کے اخرجات کے مد میں اور دیگر اخرجات ہم نے ادا کیئے ہیں ،مزید یہ کہ شادی وغیرہ اور باقی تقریبات کے اخرجات بھی انہوں نے ہم سے وصول کیئے تھے ،تو آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ یہ زیورات بیچ کر ہم اپنا نقصان پورا کر سکتے ہیں ؟جبکہ درمیان میں ہم نے کئی بار انہیں لوٹانے کی کوشش کی مگر کوئی جواب نہیں آیا۔قانونی و شرعی علم کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔
سائل:نعمان رزاق،کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
(1)جی جب آپ اس خاتون سے نکاح کرکے تعقات قائم کرینگے تو اس کی بیٹی آپ کے اوپر ہمیشہ کے لیئے حرام ہو جائے گی اور وہ آپ کے لیئے محرم بن جائے گی اور وہ آپ کے ساتھ حج پر جا سکتی ہے ،لیکن یاد رہے آپ کے اولاد کے لیئے محرم نہیں ہو گی۔اور جہاں تک بچوں کی adoptionکا مسئلہ ہے تو شرعا آپ کی حیثیت والد کی تو نہیں ہو سکتی البتہ قانونی طور پر کرنا چاہے تو آپ کی مرضی ،لیکن شرعی معاملات(نکاح وغیرہ) میں وہ اپنے ہی والد ہی کی طرف منسوب ہونگے ،والد کے علاوہ کی طرف منسوب کرنے کی شرعا کوئی گنجائش نہیں ہے ۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے :حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا (23)
ترجمہ:حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری مائیں جنہوں نے دودھ پلایا اور دودھ کی بہنیں اور عورتوں کی مائیں اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں اُن بیبیوں سے جن سے تم صحبت کرچکے ہو تو پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو ان کی بیٹیوں میں حرج نہیں اور تمہاری نسلی بیٹوں کی بیبیاں اور دو بہنیں اکٹھی کرنا مگر جو ہو گزرا بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
اس آیت مبارکہ میں‘‘وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي’’کے تحت تفسیر احکام القران للجصاص (النساء، الایۃ:۲۳،ج:۳،ص:۵۲،طبع:دار احیاءالتراث العربی)میں (ملخصاًوملتقطاً)ہے ؛وَرَبائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَوَجَبَ تَحْرِيمُ الْبِنْتِ بِوَطْءٍ كان منه قبل تزويج الأم لقوله تعالى اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ وَيَدُلُّ عَلَى أَنَّ اسْمَ الدُّخُولِ لَا يَخْتَصُّ بِوَطْءِ نِكَاحٍ دُونَ غَيْرِهِ أَنَّهُ لَوْ وَطِئَ الْأُمَّ بِمِلْكِ الْيَمِينِ حَرُمَتْ عَلَيْهِ الْبِنْتُ تَحْرِيمًا مُؤَبَّدًا بِحُكْمِ الْآيَةِ۔ترجمہ: اورتمہاری ان بیویوں کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں جن سے تم صحبت کرچکے ہو،لہذا والدہ سے وطی کے ساتھ ہی اس کی اس بیٹی سے حرمت ثابت ہو جائے گی جو نکاح سے پہلے پیدا ہو چکی ہو ،اللہ تعالی کےاس فرمان کی وجہ سے ‘‘ان عورتوں کی بیٹیاں جن سے صحبت کر چکے ہو’’اور آیت مبارکہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ دخول صرف نکاح کے ذریعے صحبت کے ساتھ خاص نہیں ہے اور اس کے علاوہ صحبت شامل نہیں ہے ، لہذااگر کسی عورت سے ملک یمین (باندی ہونے کی وجہ )صحبت کی تو اس کی بیٹی (جو اس مرد سے نہیں ہے ) ہمیشہ کے لیئے حرام ہوجائے گی ،آیت مبارکہ کے حکم کی وجہ سے ۔
قال اللہ تبارک و تعالی ادْعُوهُمْ لِآبائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ (سورۃالاحزاب :5)ترجمہ: انہیں انکے پاپ ہی کا کہہ کر پکا رویہ اللہ کے نز دیک زیادہ ٹھیک ہے ۔
اس آیت مبارکہ کے تحت احکا م القرآن للجصاص قدیمی کتب خانہ ،ج:3 ص:521میں ہے: فیہ حظر اطلاق اسم الابوۃ من غیر جہۃ النسب:ترجمہ :اس آیت مبارکہ میں ولدیت کی نسبت نسبی والد کے علاوہ کی طرف کر نے کی ممانعت ہے۔
(2):سب سے پہلے آپ یہ جان لیں کہ وہ عورت ابھی تک آپ کے نکاح میں ہے اور اس نے جو کورٹ سے خلع لی ہے شرعااس کا کوئی اعتبار نہیں ہے جب تک کہ اس خلع نامہ پر دستخط نہ کرتےہیں یا اس کو طلاق نہیں دیتے ،اس نے جو نکاح کیا ہے وہ نکاح نہیں بلکہ معاذ اللہ حرام کا ری ہے ۔اور جہاں تک ان کے چھوڑے ہوئے سامان اور زیورات کا مسئلہ ہے تو وہ آپ کے پاس ان کی امانت ہے اور اس کی حفاظت آپ کے ذمے ہے جب تک کہ اس عورت کی مو ت اور اس کے ورثاء کی موت علم نہ ہوجا ئے ۔اور اگر بالفرض اس کے اور اس کے ورثاء بارے میں کچھ بھی پتہ نہیں چلے تو اس عورت کی پیدائش سے ستر سال گزر جائے اور اس دوران اسکے بارے بھی پتہ نہیں چلے تواب اس کے تمام مال کی مالیت معلوم کرکےپھر صدقہ کر دیں ،اور اگر اس کےبعد وہ آجائے تو اسے یہ اختیار ہوگا کہ وہ صدقہ کو نافذ کر دے یا پھر آپ سے اس کا مطالبہ کرے اور اس صورت میں آپ کو دینا ہوگا
ردالمحتارعلی الدرالمختار (کتاب الایداع ،ج:۵،ص:۶۶۲،طبع:دارالفکر ،بیروت )میں(ملتقطاً وملخصاً )ہے وهو الامانة هو لغة: من الودع: أي الترك.وشرعا: تسليط الغير على حفظ ماله صريحا أو دلالة كأن انفتق زق رجل فأخذه رجل بغيبة مالكه ثم تركه ضمن لانه بهذا الاخذ التزم حفظه دلالة ۔وركنها: الايجاب صريحا كأودعتك أو كنايةكقوله لرجل أعطني ألف درهم أو أعطني هذا الثوب مثلا فقال أعطيتك كان وديعة. أو فعلاكما لو وضع ثوبه بين يدي رجل ولم يقل شيئا فهو إيداع.والقبول من المودع صريحا كقبلت أو دلالة كما لو سكت عند وضعه فإنه قبول دلالة كوضع ثيابه في حمام بمرأى من الثيابي كان إيداعا.هذا في حق وجوب الحفظ، وأما في حق الامانة فتتم بالايجاب وحده۔ترجمہ:ایداع در اصل امانت ہے اور لغت میں اس کے معنی چھوڑ دینے کے ہیں ،اور شرعا اس کی تعریف یہ ہے کہ کسی شخص کو اپنے مال کی حفاظت پر صراحت یا دلالۃ مقرر کرنا ۔(دلالۃ کی مثال یہ ہے کہ )کسی شخص کا مشکیزہ پھٹ گیا تو کسی نے مالک کی عدم موجودگی میں وہ اٹھالیا ،پھر اس نے رکھ دیا تو وہ ضامن ہو گا ،کیونکہ اس اٹھانے کی وجہ سے اس کی حفاظت دلالۃ لازم ہو جائے گی ،اور اس کا رکن ایجاب ہے چاہے صراحۃ ہو جیساکہ صراحۃ کہے میں نے تجھے ودیعت رکھ دی ،یا کنایۃ ہو جیسا کہ کو ئی شخص کہے مجھے ایک ہزار درھم دو یا مجھے یہ کپڑا دو تو اس نے کہا میں نے دے دیا تو یہ ودیعت ہو گی ،یا فعلا ایجاب ہوجیسے کسی نے ایک شخص کے سامنے اپنے کپڑے رکھے اور کچھ بھی نہیں کہا تو یہ بطور ودیعت ہے ۔اور جس کے پاس ودیعت رکھوا ئی جا ئے اس کی طرف سے قبول کرنا صراحتا ًہو ،مثلا وہ کہے میں قبول کیا یا دلالۃ ہو جیساکہ کسی اس کے سامنے کوئی چیز رکھی اور وہ خاموش ہوگیا تو یہ دلالۃ قبول کرنا ہے ،مثلاًحمام میں کپڑے والے کے سامنےاپنے کپڑے رکھے تو یہ ودیعت ہو گی ۔اور یہ(قبول کرنا دوسرے پر حفاظت)کےوجوب حق میں ہے ،اور جہاں تک امانت کی تکمیل کی بات ہے تو وہ صرف ایجاب سے ہی مکمل ہو جا تا ہے ۔
الفتاوی الھندیۃ (کتاب الولدیعۃ،الباب السابع فی ردالودیعۃ،ج:۴،ص:۳۵۴،طبع:دارالفکر ،بیروت)میں ہے: غاب المودع ولا يدري حياته ولا مماته يحفظها أبدا حتى يعلم بموته وورثته، ولا يتصدق بها بخلاف اللقطة، وإذا مات رب الوديعة فالوارث خصم في طلب الوديعة.ترجمہ:ودیعت رکھنے والا غائب ہوگیا اور اس کی موت وحیات کے بارے میں کچھ بھی نہیں پتا تو اس (کی ودعیت رکھی ہوئی شی )کی حفاظت کی جائے گی یہاں تک کہ اس کی یا اس کے ورثاء کی موت کا علم نہ حاصل ہو جائے ،اور اس کی ودیعت میں رکھی چیز کو صدقہ نہیں کیا جائے گا،بر خلاف لقطہ کے،اور جب ودیعت رکھنے والا مر جائے تو اس کے ورثاء ودیعت کو حاصل کرنے کی کو شش کرنیگے ۔
لسان الحکام فی معرفۃ الاحکام (فصل فی لواحق الکتاب ،ج:۱،ص:۴۳۴،طبع:البابی الحلبی،قاہرہ)میں ہے۔
"الْمَفْقُود لَا يَرث وَلَا يُورث عَنهُ مالم يثبت مَوته بِبَيِّنَة أَو بِمُضِيِّ مُدَّة يعلم يَقِينا أَنه لَا يعِيش أَكثر من ذَلِك وَوقت فِي ذَلِك أَبُو حنيفَة رِوَايَة الْحسن عَنهُ بِمِائَة وَعشْرين سنة من وَقت وِلَادَته وَعَن أبي يُوسُف بِمِائَة سنة وَقدره بَعضهم بتسعين وَبَعْضهمْ بسبعين وَقَالَ بَعضهم إِنَّه موكول الى رَأْي القَاضِي"ترجمہ:مفقود نہ کسی کا وارث بنے گا نہ ہی کو ئی اس کا وارث بن سکتا ہے جب تک کہ ثبوت کے ساتھ اس کی موت کا علم نہ ہو جائے یا اس کے فقدان کو اتنی مدت نہ گزر جائے جس میں غالب گمان کے مطابق اس کا زندہ رہنا مشکل ہو ۔امام حسن کی روایت کے مطابق امام اعظم نے اس مدت کی مقدار مفقود کی پیدائش سے ایک سو بیس سال مقرر کی ہے اور امام ابو یوسف نے سو سال ،بعض نے نوے سال اور بعض مشائخ نے ستر سال مقرر کیئے ہیں اور بعض کا کہنا ہے کہ قاضی کی رائے پر موقوف ہو گا ۔
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں اسی طرح کااستفتاء آیا تو آ پ نے سترسال والے قول کو ترجیح دیتے ہوئے فتوی صادر فرمایا :" یہاں تک کہ اس مفقود کی عمر سے ستربرس گزرجائیں، اگریہ صحیح ہے کہ چالیس برس کی عمرمیں مفقودہواتھا اورمفقود ہوئے بیس برس گزرے تودس برس اور انتظارکریں اگر اس دس برس میں وہ زندہ ظاہرہوتویہ دوتہائی اسے دے دیں۔۔۔۔۔" فتاوی رضویہ (کتاب المداینت ،ج:۲۵،ص:۴۹۳،طبع:رضافاؤنڈیشن)
واللہ تعالی اعلم باالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد
تاریخ اجراء:15جمادی الاخری 1440 ھ/21فروری 2019ء