سوال
میرا نام محمد وقاص ہے،میری بیوی کا انتقال ہوگیا ہے ، اس سے ایک بیٹا تھا ڈھائی سال کا پھر میں نے دوسری شادی کرلی اب میرا وہ بیٹا 10 سال کا ہوگیا ہے ، مجھے یہ معلوم کرنا کہ وہ میری بیوی کے لیے نا محرم ہے یا نہیں؟اس سے پردہ کا کیا حکم ہے؟سائل:محمد وقاص: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پہلی بیوی کا بیٹا آپکی دوسری بیوی کے لیے محرم ہے یعنی ان سے پردہ کا وہی حکم ہے جو سگے بیٹے سے پردے کا حکم ہے:قرآن مجید میں اللہ کریم نے شوہر کے بیٹے سے پردے کا حکم بیان فرمایا ہے ۔قال اللہ تعالٰی وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ ترجمہ: اور اپنا سنگھار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ یا شوہروں کے باپ یا اپنے بیٹے یا شوہروں کے بیٹے۔(النور:31)
تنویر المقباس فی تفسیر ابن عباس میں ہے :{أَوْ أَبْنَآءِ بُعُولَتِهِنَّ} ای أَبنَاء أَزوَاجهنَّ من غَيْرهنَّ.ترجمہ: یا شوہروں کے بیٹے یعنی جو اس عورت کے علاوہ دوسری عورت سے ہوں۔( تنویر المقباس فی تفسیر ابن عباس،جلد 1 ص 295 دارالکتب العلمیہ ، بیروت)
تفسیر ابن کثیر میں ہے:كُلُّ هَؤُلَاءِ محارم للمرأة يَجُوزُ لَهَا أَنْ تَظْهَرَ عَلَيْهِمْ بِزِينَتِهَا.ترجمہ: یہ سب عورت کے محارم میں سے ہیں ،عورت کے لیے ان لوگوں پر اپنی زینت کی جگہیں (چہرہ،ہاتھ پاؤں )ظاہر کرنا جائز ہے۔(تفسیر ابن کثیر جلد 6 ص 43،دارالکتب العلمیہ ،بیروت)واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد زوہیب رضاقادری
تاريخ اجراء: 30 شعبان المعظم 1440 ھ/06 مئی 2019 ء