سوال
میں اپنے چچا کی بیٹی سے شادی کرنے کا آرزومند ہوں مگر مسئلہ یہ ہے کہ میں نے صرف ایک بار اپنی چچی کا دودھ پیا ہے جس کی وجہ سے خاندان والے اس رشتے پر رضامند نہیں ہیں، لیکن میں نے سعودی عرب کے مفتی اعظم کا اس مسئلہ پر ایک بیان دیکھا ہے جس میں انہوں نے تفصیل سے بتایا ہے کہ اگر دودھ 5 دفعہ پیا ہو اور پیٹ بھر کر پیا ہو تو رضاعت ثابت ہوتی ہے۔ ایک دفعہ کے پینے اور تھوڑا سا پینے سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی ۔ لہذا عرض یہ ہے کہ مجھے اس بارے میں آپ کے فتوے کی اشد ضرورت ہے کیا میرے چچا کی اولادیں میرے رضاعی بہن بھائی ہیں یا نہیں ہیں ۔ گزارش ہے کہ جتنی جلدی ہو سکے مجھے سے فتوی فراہم کیا جائے ۔سائل: مانی : کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورتِ مسئولہ میں چچا کی بیٹی ،رضاعی (دودھ شریک)بہن ہے، اور رضاعی بہن سے شادی کرنا بالکل اسی طرح ناجائز وحرام ہے جیساکہ سگی نسبی بہن سے رشتہ حرام ہے۔کیونکہ ہم احناف کے نزدیک خواہ دودھ ایک بار پیا ہو یا متعدد بارحتٰی کہ اگر ایک قطرہ بھی حلق سے اترا تو ثبوتِ رضاعت کوکافی ہے۔ لہذا سائل اپنے چچا کی بیٹی سے نکاح نہیں کرسکتا۔
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ. ترجمہ: حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں جنہوں نے دودھ پلایا اور دودھ کی بہنیں۔ (النساء: 23)
اسی طرح حدیث پاک میں ہے:عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ فِي بِنْتِ حَمْزَةَ لَا تَحِلُّ لِي يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ هِيَ بِنْتُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ.ترجمہ:حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے بارے میں فرمایا کہ وہ میرے لیے حلال نہیں ہے کیونکہ رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔ وہ تو میری رضاعی بھتیجی ہے۔(بخاري، الصحيح، 2: 935، رقم: 2502، مسلم، الصحيح، 2: 1071، رقم: 1447)
اسی طرح دوسری حدیث میں ہے :عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ، قَالَ رَسُولُ اﷲِ: إِنَّ اﷲَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعِ مَا حَرَّمَ مِنَ النَّسَبِ.ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جو (رشتہ)نسب سے حرام کیا وہی رضاعت سے حرام فرمایا۔(ترمذي، السنن، 3: 452، رقم: 1146، بیروت، لبنان: دار احياء التراث العربي،أحمد بن حنبل، المسند، 1: 131، رقم: 1096، مصر: مؤسسة قرطبة)
دیگر ائمہ کے نزدیک کم از کم پانچ بار پیٹ بھرکر دودھ پینے سے رضاعت ثابت ہوگی انکا ایک مستدل حدیث عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا ہے: أنها قالت: كان فيما أنزل من القرآن: عشر رضعات معلومات يحرمن، ثم نسخن، بخمس معلومات، فتوفي رسول الله صلى الله عليه وسلم، وهن فيما يقرأ من القرآن ۔ ترجمہ: حضرت عائشہ فرماتی ہیں : قرآن میں نازل کیا گیا تھا کہ دس بار دودھ پلانا جن کا علم ہو، حرمت کا سبب بن جاتا ہے، پھر انہیں پانچ بار دودھ پلانے (کے حکم) سے جن کا علم ہو، منسوخ کر دیا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو یہ ان آیات میں تھی جن کی قرآن میں تلاوت کی جاتی تھی۔ (صحیح مسلم : 3597)
جبکہ دوسرا مستدل یہ حدیث ہے: عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ، وَالْمَصَّتَانِ۔ ترجمہ:حضرت عائشہ نے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ایک چُسکی دو چُسکیاں حرمت ثابت نہیں کرتی۔ (سنن النسائی: 3310)احناف ان دو احادیث کا جواب دیتے ہیں کہ یہ دونوں احادیث نقل و عقل دونوں کے خلاف ہیں۔جسکی تفصیل درج ذیل ہے:
پہلی حدیث کا جواب:
1: اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ۔ ترجمہ: حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں جنہوں نے دودھ پلایا اور دودھ کی بہنیں۔ (النساء: 23)
اس آیت سے رشتہ رضاعت کی حرمت کا ثبوت ہے اوریہ آیت مطلق عن القدر ہے یعنی اس میں کسی مقدار کا ذکر نہیں کہ اتنی مقدار ہو تو حرمت ثابت ہوگی وگرنہ ،نہ ہوگی۔
2: تابعی حضرت مجاہد فرماتے ہیں : قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: يُحَرِّمُ قَلِيلُ الرَّضَاعِ، كَمَا يُحَرِّمُ كَثِيرُهُ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ: قَوْلُ ابْنِ مَسْعُودٍ أَحَبُّ إِلَيَّ۔ ترجمہ:حضرت عبداللہ ابن مسعود نے فرمایا تھوڑا سا دودھ پینا اسی طرح حرمت ثابت کرے گا جیسا زیادہ پینا۔ مجاہد نے فرمایا ابن مسعود کا قول میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے۔(مصنف ابن ابی شیبہ حدیث نمبر: 17033)
3: یونہی عمرو بن دینار سے روایت ہے : جاء رجلٌ إلى ابن عمر فقال: إنَّ ابن الزُّبَير يَزْعُمُ أنه لا تحرِّمُ من الرَّضاعة المَصَّةُ والمَصَّتان؟ فقال ابن عمر: قضاءُ الله عزَّ وجلَّ ورسولِه خيرٌ من قضاء ابن الزُّبَير؛ قليلُ الرَّضاع وكثيرُه سواء۔ ترجمہ:ایک شخص حضرت عبداللہ ابن عمر کے پاس آیا اور عرض کی کہ ابن زبیر سمجھتے ہیں کہ ایک اور دو چُسکی رضاعت سے حرمت ثابت نہیں ہوتی ، تو ابن عمر نے جواب دیا اللہ کا فیصلہ ابن زبیر کے فیصلے سے بہتر ہےتھوڑا دودھ اور زیادہ دودھ برابر ہے۔(المعجم الکبیر للطبرانی،حدیث نمبر : 13657)
4: حدیث حضرت عائشہ کے بارے میں اولاً تو ظاہر یہی ہے کہ یہ ثابت نہیں کیونکہ اس حدیث میں سے کہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو یہ ان آیات میں تھی جن کی قرآن میں تلاوت کی جاتی تھی۔ اگر یہ بات ثابت مان لی جائے تو حضور ﷺ کے بعد کس نے ان آیات کو قرآن سے نکال دیا حالانکہ حضور علیہ الصلوۃ کی وفات کے بعد تو نسخ ممکن نہیں۔
5: امام طحاوی رحمہ اللہ تعالٰی نے فرمایا : أن هذا حديث منكر وأنه من صيارفة الحديث۔ ترجمہ:یہ حدیث منکَر ہے اور یہ تبدیل شدہ حدیثوں میں سے ہے۔(بدائع الصنائع ، ج 4 ص 7، بیروت)
6: ملک العلماء علامہ کاسانی اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں: ولئن ثبت فيحتمل أنه كان في رضاع الكبير فنسخ العدد بنسخ رضاع الكبير۔ ترجمہ:اور اگر ثابت بھی ہو تو احتمال ہے کہ یہ بڑے کی رضاعت کے بارے میں ہے توبڑے کی رضاعت کے منسوخ ہونے کے ذریعے عدد منسوخ کردیا گیا ہے۔ (ایضاً المرجع السابق)
دوسری حدیث کا جواب:
1: علامہ کاسانی اس حدیث کے بارے میں رقمطراز ہیں : وأما حديث المصة والمصتين فقد ذكر الطحاوي أن في إسناده اضطرابا؛ لأن مداره على عروة بن الزبير عن عائشة رضي الله عنها وروي أنه سئل عروة عن الرضاعة فقال ما كان في الحولين وإن كان قطرة واحدة محرم والراوي إذا عمل بخلاف ما روى أوجب ذلك وهنا في ثبوت الحديث۔ترجمہ:حدیث المصۃ والمصتین کے بارے میں امام طحاوی نے فرمایا کہ اسکی سند میں اضطراب ہے کیونکہ اس حدیث کا مدار عروہ بن زبیراز عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھما پر ہے اور ان عروہ بن زبیر سے رضاعت کے بارے سوال کیا گیا ،تو فرمایا جو کچھ دو سال میں ہو اگرچہ ایک قطرہ ہو حرمت ثابت کردے گا ۔ اور راوی جب اپنی روایت کردہ حدیث کے خلاف عمل کرے تو ا سے اسکی روایت کردہ حدیث میں ضُعف پیدا ہوجاتا ہے۔ (ایضاً المرجع السابق)
2: پھر یہ حدیث خبرِ واحد بھی ہے اور حدیثِ خبر واحد نص قرآنی کے مطلق کو مقید نہیں کرسکتی، بایں طور کہ نصِ قرآنی (اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ) مطلق ہے ، اس میں مقدار رضاعت کا کچھ ذکر نہیں ۔ سو اگر حدیثِ عائشہ کو اس آیت کی تقیید بنایا جائے اور کہا جائے کہ یہ مطلق کی تقیید ہے تو بھی جائز نہیں کہ تقیید درحقیقت کتاب اللہ کی آیت کے وصفِ اطلاق کو منسوخ کرنا ہے حالانکہ کتاب اللہ قطعی ہے جبکہ خبرِ واحد ظنی ، ظنی کے ذریعے قطعی کو منسوخ کرنا جائز نہیں۔کہ ناسخ کے لئے لازم کہ وہ قوت میں منسوخ کے برابر ہو یا اس سے اعلٰی جبکہ ظنی نہ قطعی کے برابر نہ اس سے بڑھ کربلکہ اس سے کمتر ہے تو کیونکر اس سے حکمِ کتاب کی تنسیخ ممکن؟ لہذا کتاب اللہ کے مقابل یہ حدیث ناقابلِ عمل ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدزوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 22 ربیع الثانی 1445ھ/ 06 نومبر 2023