سوال
کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ فی زمانہ عورتوں کا جمعہ یا تراویح کے لیے مسجد میں آنا جائز ہے یا نہیں ؟ جبکہ انکے راستے مردوں سے جدا ہوں۔
سائل: مولانا عامر مغل سعیدی: نواب شاہ دوڑ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے دور مبارک میں عورتوں کو جمعہ و جماعت میں شرکت کی اجازت تھی بخاری باب وجوب الصلوۃ فی الثیاب جلد 1ص80میں ہے:عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: أُمِرْنَا أَنْ نُخْرِجَ الحُيَّضَ يَوْمَ العِيدَيْنِ، وَذَوَاتِ الخُدُورِ فَيَشْهَدْنَ جَمَاعَةَ المُسْلِمِينَ، وَدَعْوَتَهُمْ:ترجمہ: حضرت ام عطیہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ عیدین کے ایام میں ہم حیض والی اور پردہ نشین عورتیں بھی نکلیں اور مسلمانوں کی جماعت اور دعا میں شریک ہوں۔
یوں ہی ابو داؤد باب ماجاء فی خروج النساء الی المسجد جلد 1ص 155 میں ہے :
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ، وَلَكِنْ لِيَخْرُجْنَ وَهُنَّ تَفِلَاتٌ»ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مساجد میں آنے سے مت روکو مگر یہ کہ وہ با پردہ ہوکر نکلیں۔
پھر مرور ایام کے ساتھ حالات بدلے تو عھد فاروقی میں سیدنا عمر فاروق نے فتنہ و فساد کے اندیشہ کے پیش نظر عورتوں کوجمعہ و جماعت میں شرکت سے منع فرمادیا اور سیدہ عائشہ صدیقہ نے ان کے اس فعل کو سراہا ۔
عنایہ علی ہامش فتح القدیر باب الامامۃ ج1ص 317 پر ہے:لقد نھی عمر رضی اللہ تعالیٰ النساء عن الخروج الی المسجد فشکون الی عائشۃ رضی اللہ عنہا فقالت لو علم النبی ﷺ ماعلم عمر ما اذن لکم فی الخروج ترجمہ: حضرت عمر نے عورتوں کو مسجد میں جانے سے منع فرمایا تو وہ حضرت عائشہ کے پاس شکایت لائیں تو حضرت عائشہ نے فرمایا جو کچھ حضرت عمر دیکھ رہے ہیں اگر آپ ﷺ دیکھتے تو تمہیں گھروں سے نکلنے کی اجازت نہ دیتے ۔
پھر مسلم شریف (باب منع نساء بنی اسرائیل الی المسجد جلد 1ص 328)میں خود حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ: عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ: «لَوْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ لَمَنَعَهُنَّ الْمَسْجِدَ كَمَا مُنِعَتْ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ» ترجمہ: حضرت عمرہ بنت عبد الرحمان کہتی ہیں کہ انہوں نے حضرت عائشہ کو فرماتے سنا کہ جو آج کل عورتوں نے نئی نئی کارستانیاں شروع کردی ہیں اگر آپ ﷺ دیکھتے توانکو مسجدوں سے منع کردیتے۔جیساکہ بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کیا گیا تھا۔
یہ تو حضرت عمر کے دور کی بات تھی لیکن پھر بعد میں امام اعظم ابو حنیفہ نے بوڑھی عورتوں کو فجر وعشاء میں شرکت کی اجازت دی جبکہ صاحبین نے بوڑھی عورتوں کی حاضری کو مطلقا (خواہ فجر و عشاء ہو یا اسکے علاوہ)مباح قرار دیا ۔
چناچہ ہدایہ باب الامامۃ جلد 1ص 58 پر ہے:ويكره لهن حضور الجماعات " يعني الشواب منهن لما فيه من خوف الفتنة " ولا بأس للعجوز أن تخرج في الفجر والمغرب والعشاء " وهذا عند أبي حنيفة رحمه الله " وقالا يخرجن في الصلوات كلها " لأنه لا فتنة لقلة الرغبة إليها:ترجمہ:اور جوان عورتوں کو جماعت میں شریک ہونا مکروہ ہے کیونکہ انکی شرکت میں فتنے کاخوف ہے ، جبکہ بوڑھی عورت کے لیے جبکہ بوڑھی عورت کے لیے فجر و عشاء میں نکلنے میں حرج نہیں ہے یہ امام اعظم ابو حنیفہ کا مذہب ہے جبکہ صاحبین نے کہا کہ بوڑھیعورتیں ہر نماز میں نکلیں، کیونکہ انکی طرف رغبت کم ہوتی ہے لہذا فتنے کا اندیشہ نہیں ہے۔
مگر آج کے دور میں جب کہ حال یہ ہے کہ آج عورت ہی سب سے زیادہ آزاد اور خود مخؒتار ہے ۔ہروہ کام جو مرد کرتے ہیں عورتیں بھی کررہی ہیں،کمپنیوں میں ملازمت کرتی ہیں،گھر کے سودے سامان کے لیے باہر جاتی ہیں ،ٹی وی شوز میں شرکت کرتی ہیں ، کرکٹ ،ہاکی ،فٹبال کھیلتی ہیں،اپنے بناؤ سنگھار کے لیے بیوٹی پارلر جاتی ہیں، شادیوں میں جہاں مخلوط اجتماع ہوتا ہے بلا پردہ شرعی شریک ہوتی ہیں،مردوں کے ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹھ کر سارا جہاں گھومتی پھرتی ہیں،ان تمام حالات میں اگر چند خدا ترس اور متقی عورتیں شرعی پردہ کے ساتھ مساجد میں آئیں جبکہ انکی نشست ،مقام اور راستے مردوں کے راستے سے جدا ہوں تو ہماری رائے میں اسکی اجازت ہونی چاہیے ، اس بہانے کچھ قرآن و حدیث سے وعظ و نصیحت تو سنیں گی۔
سیدی اعلیٰ حضرت سے کسی نے عورتوں کی میلاد کی محفل کی شرکت کے بارے میں سوال کیا آپ جوابا ارشاد فرماتے ہیں ،'' واعظ یا میلاد خواں اگر عالم سنی صحیح العقیدہ ہو اور اسکا وعظ و بیان صحیح و مطابق شرع ہو ، اور جانے میں پوری اھٹیاط و مکمل پردہ ہو اور کو ئی احتمال فتنہ نہ ہو اور مجلس رجال سے دور انکی نشست ہو تو کوئی حرج نہیں۔''
فتاویٰ رضویہ کے اس جزئیے کو سامنے رکھ کر ہم کم از کم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر مکمل شرعی پردہ ہو اور انکے آنے جانے کا راستہ مردوں کے راستے سے جدا ہوں توعورت جمعہ و تراویح میں شریک ہوسکتی ہے۔
دور حاضر کے عطیم محقق علامہ غلام رسول سعیدی نعمۃ الباری شرح صحیح البخاری ج2ص 798 پر رقمطراز ہیں
''اب عورتوں نے برقع پہننا چھوڑ دیا ہے ، سر کو دوپٹے سے نہیں ڈھانپتیں،تنگ و چست کپڑے پہنتی ہیں،بیوٹی پارلروں میں جا کر جدید طریقوں سے میک اپ کرواتی ہیں ، مردوں کے ساتھ مخلوط اجتماعات میں شرکت کرتی ہیں، میرتھن ریس میں حصی لیتی ہیں،بسنت میں پتنگ اڑاتی ہیں ، ویلنٹائن ڈے مناتی ہیں ۔ اس قسم کی آزاد منش عورتوں کے مسجد میں جانے کا تو خیر کوئی امکان ہی نہیں ،البتہ اللہ سے ڈرنے والی خواتین ضرور مسجد میں جمعے کی نماز پڑھنے یا رمضان میں تراویح پڑھنے جاتی ہیں ،سو وہ خواتین پردہ کی حدود و قیود کے ساتھ جائیں،تاکہ وہ درس قرآن و حدیث، وعظ و نصیحت سن سکیں ، تو میری رائے میں انکو منع نہیں کرنا چاہیے، جبکہ امام اعظم کے ایک قول میں اسکی گنجائش بھی ہے۔''
حکیم الامت،مفسر شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح ج2ص283 میں حدیث '' اذا استاذنت احدکم امراتہ الی المسجد فلا یمنعہا''کے تحت لکھتے ہیں،
'' ظاہر ہے یہ حکم اس وقت تھا جب عورتوں کو مسجد میں حاضری کی اجازت تھی،عہد فاروقی میں اسکی ممانعت کردی گئی، کیونکہ عورتوں میں فساد بہت آگیا تھالیکن فی زمانہ عورتوں کو مسجد مین باپردہ آنے اور علیحدہ بیٹھمے سے نہ روکا جائے کیونکہ اب تو عورتیں سینماؤوں ، بازاروں میں جانے سے تو رکتی نہیں مسجد میں آکر کچھ دین کے احکام سن لیں گی۔
کچھ آگے چل کر لکھتے ہیں
'' اب فقیر کا فتویٰ یہ ہے کہ عورتوں کو باپردہ مسجد میں آنے سے نہ روکو کہ اگر ہم انہیں روکیں تو یہ وہابیوں، مرزائیوں اور قادیانیوں کی مساجد میں پہنچتی ہیں ،جیساکہ تجربہ ہے،ان لوگون نے عورتوں کے لیے بڑے بڑے انتطامات اپنی اپنی مساجد میں کیے ہوئے ہیں،عورتوں کو گمراہ کرکے انکے خاوند اور بچوں کو بہکاتے ہیں۔''
مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان صاحب تفہیم المسائل جلد 4ص 353 پر لکھتے ہیں
'' ہمارے فقہاء کا عمومی موقف تو یہی ہے کہ اخلاقی تنزلی کی وجہ سے عورتوں کو مسجد میں آنے کی اجازت نہ ہو ، لیکن اسکا مقصد تو یہ جب ہے کہ مسجد میں نماز کے لیے آنے سے ان خواتین کو روکنا شریعت کا منشاء ہے تو پھر یہ پابندی عام حالات میں بھی اختیار کرنی چاہیے ،لیکن اب چند دین دار عورتوں کے علاوہ عام عورتیں تعلیم، روزگار،بازاروں، سماجی تقریبات میں، اور روز مرہ کے معاملات میں بلا روک ٹوک حجاب شرعی کے بغیر گھومتی پھرتی ہیں ، تو بالخصوص دینی مجالس سے کیوں روکا جائے۔اسلیے میرے نزدیک موجودہ دور میں مساجد میں نماز تراویح،جمعہ اور دروس کی مجلسوں میں شرعی حدود کی مکمل پاسداری کے ساتھ خواتین کی شرکت کا اہتمام اباحت وجواز کی حدود سے نکل کر ضرورت کے درجے میں داخل ہو گیا ہے''
ان معتبر و مستند فقہاء وعلماء کے فتاوی واقوال کو سامنے رکھ کر ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ عورتوں کو شرعی پردہ کے ساتھ مسجد میں آنے کی اجازت ہے جبکہ انکا راستہ اور نشست مردوں سے جدا اور الگ ہو۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 16 رجب المرجب 1440 ھ/25 مارچ 2019 ء