میت کو امانتاً دفن کرناکیسا
    تاریخ: 25 نومبر، 2025
    مشاہدات: 19
    حوالہ: 262

    سوال

    کسی شخص نے قبل از وفات مخصوص جگہ پر دفن ہونے کی وصیت کی ،بعد از انتقال کسی وجہ سے انہیں اس جگہ دفن نہیں کیا جا سکا۔ بلکہ امانتاً کسی دوسری جگہ دفن کردیا گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا اب انکی وصیت کے مطابق انکے جسدِ خاکی کو دوسری جگہ منتقل کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ شرعاًکیا حکم ہے؟

    سائل:سید شبیر حسین شاہ : کراچی۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    میت کو امانتاً دفن کرنا شرع شریف میں کچھ حیثیت نہیں رکھتا، ایک بار جس جگہ میت کی تدفین کردی جائے بلا ضرورتِ شرعی قبر کشائی کرنا اور میت کو وہاں سے منتقل کرنا ناجائز و حرام ہے۔

    اسکی تفصیل یہ ہے کہ مٹی ڈالنے کے بعد قبر منتقل کرنا مطلقا منع ہے صرف چند ایک صورتوں میں فقہاء کرام نے اجازت دی ہے۔جس کا اصول یہ ہے کہ اگر میت یا قبر کے ساتھ کسی انسان کا کوئی حق متعلق ہوجائے اور وہ شخص اس حق کو معاف کرنے یا اسکے عوض کچھ لینے پر راضی نہ ہو تو اس صورت میں قبر کشائی اور انتقال میت کی اجازت ہے جسکی درج ذیل صورتیں ہیں:

    1:میت کسی غیر کی زمین میں اس کی اجازت کے بغیر دفن کردی اورمالک اسے باقی رکھنے پر راضی نہیں ۔

    2: کسی کی مغصوبہ زمین میں دفن کی ، زمین ملنے کے بعد مالک میت کو اپنی زمیں باقی رکھنے پر راضی نہیں ۔

    3:زمین میں مالک کی اجازت کے ساتھ ہی تدفین کی لیکن بعد ازاں حقِ شفعہ ثابت ہونے پر دوسرےشخص نے وہ زمین لے لی اور وہ میت کو اپنی زمین میں باقی رکھنے پر راضی نہیں۔

    4: میت کو مغصوبہ کپڑے میں کفن دیا گیا اور صاحبِ ثوب اس کپڑے کی قیمت لینے پر راضی نہیں بلکہ بعینہ اسی کپڑے کا تقاضا کرتا ہے ۔

    5:تدفین کے وقت کسی انسان کا مال اس قبر میں رہ گیا خواہ بالقصد ہو یا بلا قصد اگر چہ ایک درہم کے برابر مالیت کا ہی کیوں نہ ہو۔

    تو ان تمام صورتوں میں قبر کشائی اور میت کو وہاں سے دوسری جگہ منتقل کرنے کی اجازت ہے ۔اسکے علاوہ تمام صورتوں میں ممانعت ہے ۔ عامہ کتب فقہ مثل فتح،قاضی خان، بحر، ہدایہ، تجنیس ،ہندیہ،مراقی،در مختار، شامی وغیرہ میںاسی کی صراحت ہے ۔

    البحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے:قوله ولا يخرج من القبر إلا أن تكون الأرض مغصوبة) أي بعد ما أهيل التراب عليه لایجوز إخراجه لغير ضرورة للنهي الوارد عن نبشه، وصرحوا بحرمته ،وأشار بكون الأرض مغصوبة إلى أنه يجوز نبشه لحق الآدمي كما إذا سقط فيها متاعه، أو كفن بثوب مغصوب ،أو دفن في ملك الغير،أو دفن معه مال أحياء لحق المحتاج قد «أباح النبي - صلى الله عليه وسلم - نبش قبر أبي رعال لعصا من ذهب معه» كذا في المجتبى ،قالوا: ولو كان المال درهما. ودخل فيه ما إذا أخذها الشفيع فإنه ينبش أيضا لحقه كما في فتح القدير. وذكر في التبيين أن صاحب الأرض مخير إن شاء أخرجه منها، وإن شاء ساواه مع الأرض،وانتفع بها زراعة أو غيرها۔ترجمہ:اور میت کو قبر سے نہ نکالا جائے مگر یہ کہ زمین مغصوبہ ہو یعنی مٹی ڈالنے کے بعد بغیر ضرورت شرعی کے میت کا نکالنا جائز نہیں ہے کیونکہ قبر کھودنے سے متعلق نہی وارد ہوئی ہےاور فقہاء نے اسکی حرمت کی صراحت فرمائی ہے اور مصنف نے مغصوبہ زمین ہو کہہ کر اس طرف اشارہ کیاہے کہ کسی آدمی کے حق کے لئے قبر کھودنا جائزہے جیسا کہ جب قبر میں کسی آدمی کا سامان گر جائے یا اسکو کسی مغصوبہ کپڑے کفن دے دیا یا کسی غیر کی ملکیت میں دفن کردیا جائے یا اسکے ساتھ کسی کا مال دفن ہوجائے جس میں زندہ محتاج لوگوں کا حق ہو ، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ابو رعال کی قبر کھدوائی تھی کیونکہ سونے کا عصا اسکے ساتھدفن ہوگیا تھامجتبٰی میں اسی طرح ہے ۔ فقہاء نے فرمایا اگرچہ مال ایک درہم کی بمقدار ہو ۔ اور اس میں وہ صورت بھی داخل ہے کہ جب شفیع اس زمین کو حق شفعہ کی وجہ سے لے لے تو بھی قبر کشائی کی جائے گی اس شفیع کے حق کی وجہ سے جیساکہ فتح القدیر میں ہے۔ اور تبیین میں مذکور ہے کہ زمین والے کو اختیار ہے چاہے تو میت وہاں سے نکلوائے یا چاہے تو زمین برابر کردے، اور اس زمین سے زراعت وغیرہ کا نفع حاصل کرے۔(البحر الرائق شرح کنز الدقائق، جلد 2 ص 210)

    ہندیہ میں ہے: ولاينبغي إخراج الميت من القبر بعد ما دفن إلا إذا كانت الأرض مغصوبةً أو أخذت بشفعة، كذا في فتاوى قاضي خان. إذا دفن المیت فی أرض غیرہ بغیر إذن مالکہا فالمالک بالخیار إن شاء أمر بإخراج المیت وإن شاء سوی الأرض وزرع فیہا، کذا فی التجنیس.ترجمہ:تدفین کے بعد قبر سے میت نہیں نکالنی چاہیے مگر جبکہ مغصوبہ زمین ہو یا یہ کہ حق شفعہ کے عوض لے لی ہو اسی طرح فتاوٰی قاضی خان میں ہے۔اورجب میت کسی دوسرے کی زمین میں مالک کی اجازت کے بغیر دفن کردیا جائے تو مالک کو اختیار ہے چاہے تو میت کو نکلوائے یا چاہے تو زمین برابر کردے اور اس میں کھیتی وغیرہ کرے تجنیس میں اسی طرح مذکور ہے۔(فتاوٰی ہندیہ، الفصل السابع ، جلد 1 ص 167)

    تنویر الابصار مع الدر میں ہے:ولا يخرج منه ) بعد إهالة التراب ( إلا ) لحق آدمي ك ( أن تكون الأرض مغصوبةً أو أخذت بشفعة) ويخير المالك بين إخراجه ومساواته بالأرض كما جاز زرعه والبناء عليه إذا بلي وصار تراباً۔ ترجمہ:اور مٹی ڈالنے کے بعد میت کو قبر سے نہ نکالا جائےمگر کسی آدمی کے حق کی وجہ سے جیساکہ مغصوبہ زمین ہو یا یہ کہ حق شفعہ کے عوض لے لی ہو، اور کہ زمین والے کو اختیار ہے چاہے تو میت وہاں سے نکلوائے یا چاہے تو زمین برابر کردے، جیساکہ جب میت پرانی ہوکر مٹی ہوجائے تو اس زمین پر کھیتی کرنا اور تعمیر کرنا جائز ہے۔( تنویر الابصار مع الدر المختار، مطلب فی دفن المیت، جلد 2 ص 238)

    مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں ہے:"ولا يجوز نقله" أي الميت "بعد دفنه" بأن أهيل عليه التراب وأما قبله فيخرج "بالإجماع" بين أئمتنا طالت مدة دفنه أو قصرت للنهي عن نبشه والنبش حرام حقا لله تعالى "إلا أن تكون الأرض مغصوبة" فيخرج لحق صاحبها إن طلبه ، "أو أخذت" الأرض "بالشفعة" ۔ ترجمہ:دفن کے بعد میت کو کسی اور جگہ منتقل کرنا جائز نہیں ہے، بایں طور کہ اس پر مٹی ڈال دی جائے لیکن اس سے پہلے تو ہمارے ائمہ کے اتفاق کے اجماع نکالا جا سکتا ہے دفن کی مدت قلیل ہو یا کثیرکیونکہ قبر کھودنے سے متعلق نہی وارد ہوئی ہےاور قبر کھودنا حرام ہے۔کیونکہ یہ اللہ تعالٰی کا حق ہے مگر یہ کہ مغصوبہ زمین ہوتو صاحب زمین کے حق کی وجہ سے نکالا جائے گااگر وہ اسکا مطالبہ کرے ، یا یہ کہزمین حق شفعہ کے عوض لے لی جائے ۔( مراقی الفلاح شرح نور الایضاح، فصل فی حملہا و دفنہا،جلد 1 ص 614)

    سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں: او راس زمین میں بروجہ مذکور مُردوں کا دفن کرنا حرام و معصیت، یہاں تک کہبعد دفن مُردہ کا قبر سے نکالنا حرام مگر اسکے باوجود ایسی جگہ قبر کھود کر دوسری جگہ دفن کرنا چاہئے فتاوٰی قاضی خاں و فتاوٰی عالمگیری میں ہے :لاینبغی اخراج المیّت من القبر بعد ما دفن الااذا کانت الارض مغصوبۃ او اخذت بشفعۃ۔واﷲ تعالٰی اعلم ۔(فتاوٰی رضویہ ، کتاب الجنائز، جلد 9 ص 381)۔

    مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان اپنے فتاوٰی بنام تفہیم المسائل میں لکھتے ہیں:امانت لے طور پر دفن کرنے کی شریعت میں کوئی سندِ جواز و اصل نہیں ۔(جلد 1 ص 159)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح: ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 01 ربیع الثانی 1445ھ/ 17 اکتوبر 2023 ء